عیب دار لوگ۔ بے عیب قربانی


قربانی کی آمد آمد ہے اور اگلے چند دنوں میں دنیا بھر میں اربوں کی تعداد میں پھیلے مسلمانان عالم اپنے اپنے ممالک اور خطوں میں سنت ابراہیمی کو ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ مملکت پاکستان کے مسلمان بھی اس سعادت کے حصول کے لئے اپنی اپنی استعداد کار کے مطابق ہمیشہ کی طرح کوشاں ہیں اور ان دنوں قربانی کے لئے موزوں جانور کی تلاش میں شہر شہر، گاؤں گاؤں، قریہ قریہ اور منڈی منڈی سرگرداں ہیں۔

شریعت اسلامی نے قربانی کے جانور کے کچھ خاص اوصاف مقرر کیے ہیں۔ قربانی کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مقرر کردہ اوصاف کے حامل جانور کی قربانی کرے بصورت دیگر بادی النظر میں قربانی کے رائیگاں جانے کا خدشہ ہے مثلاً قربانی کا جانور کم از کم دو دانتہ ہونا شرط ہے اس سے کم عمر کا جانور ذبح کرنا عیب ہے۔ ایک آنکھ والا یا کانا جانور بھی عیب دار ہونے کی وجہ سے قربانی کے لئے موزوں نہیں، کٹا کان اور ٹوٹا سینگ بھی جانور کے عیب دار ہونے کی دلیل ہے۔ ٹانگ سے لنگڑا جانور بھی قربانی کے قابل نہیں ہوتا۔ اسی طرح کمزور، لاغر اور ناتواں جانور بھی قربانی کے لئے ذبح کرنا درست قرار نہیں دیا گیا۔

اب مسلمانان عالم تمام تر عیوب سے پاک جانور کے حصول کی ہر ممکن کوشش کے بعد جانور ذبح کرنے کے بعد خوش ہوں گے کہ ہم نے اپنی استعداد کے مطابق قربانی کر کے سنت ابراہیمی کو ادا کر دیا اور ہمارے اس عمل سے خالق کائنات یقیناً خوش ہو کر ہمیں اجر و انعام سے نوازیں گے۔ یہ حسن ظن ہے کیونکہ اللہ کریم ہے اور اس کی شان رحیمی سے امید واثق ہے کہ وہ ہماری قربانیوں کو شرف قبولیت بخشیں گے مگر ایک بات ضرور غور طلب ہے جس خالق کی نازل کردہ شریعت میں قربانی کے جانور کا عیوب سے پاک ہونا شرط ہے اس میں یقیناً اس سنت کے ادا کرنے کی خواہش رکھنے والے کے لئے بھی عیوب سے پاک ہونا ضروری ہو گا۔

کیا قرآن نہیں کہتا کہ اللہ کو تمھارے جانوروں کے گوشت اور خون کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ کو تو تمھارے تقوی ’کے معیار کو پرکھنا ہے۔ تمھاری راست بازی کو دیکھنا ہے۔ تمھارے اندر موجود کردار کی جانچ کرنی ہے۔ معاشرہ کے اندر لوگوں کے ساتھ تمھارے برتاؤ کو کو جاننا ہے۔ تمھاری سچائی کا امتحان لینا ہے تمھاری خلوت کی سیاہ کاریوں کا حساب لینا ہے۔ تمھاری جلوت کی شعبدہ بازیوں کو طشت ازبام کرنا ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ جو خالق قربانی کے لئے بے عیب جانور کا طلب گار ہے وہ قربانی کرنے والے کے عیوب سے صرف نظر رکھے۔

یاد رکھیں جس باپ بیٹے کی سنت ہم ادا کرتے ہیں اس قربانی میں قربان ہونے والا بیٹا اسماعیل ذبیح اللہ بھی عیوب سے پاک تھا اور حکم ربی پر بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے قربان کرنے والا باپ ابراہیم خلیل اللہ بھی ہر قسم کے دنیاوی عیوب سے پاک تھا۔ آج کیا وجہ ہے کہ ہم قربانی کے ایک حصہ یعنی بے عیب جانور والے عمل پر تو حتی المقدور عمل پیرا ہیں مگر اس کے دوسرے حصہ یعنی خود کو عیوب سے پاک کرنے کی سعی نہیں کرتے۔

سنت ابراہیمی کا سادہ سا درس تو یہ ہے کہ
سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے

کہ اللہ ہم اپنی جلوت و خلوت کو تیری منشاء کے مطابق ڈھالیں گے۔ تیرے کمزور بندوں کا سہارا بنیں گے۔ حق کے لئے کھڑے ہوں گے۔ مظلوم کا ساتھ دیں گے۔ ظالم کو گریبان سے پکڑیں گے۔ یتیم کے سر پہ دست شفقت رکھیں گے۔ سچ بھولیں گے۔ پورا تولیں گے۔ منافقت نہیں کریں گے۔ ملاوٹ اور بناوٹ کو زندگیوں سے لا باہر کریں گے۔ ہمسایوں اور رشتہ داروں کے حقوق پورے کریں گے۔ بیٹیوں کے حق جائیداد کو غصب نہیں کریں گے۔ بے جا اقربا پروری نہیں کریں گے۔

سرکاری عہدوں کو ذاتی جاہ و جلال کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔ رستے بند نہیں کریں گے۔ تیری مخلوق کو حقیر نہیں جانیں گے۔ تیرے بندوں سے حسن اخلاق سے پیش آئیں گے۔ اسلام کے سنہری اصولوں کو الماریوں اور کتابوں سے نکال کر زندگی کا قابل عمل حصہ بنائیں گے۔ وہ اصول جن پر مغربی ممالک عمل پیرا ہوئے تو دنیا کے قائد بن گئے۔ یورپین نے عمل کیا تو دنیا کے لئے مثال بن گئے۔

عید قرباں پہ بے عیب جانور کی تلاش میں سرگرداں مسلمانوں خود کو بے عیب بنا ڈالو اور پھر دیکھو کہ تمھاری چھوٹی سے چھوٹی نیکی کیسے سینکڑوں بے عیب قربانیوں پر بازی لے جاتی ہے۔ آئیے قدم بڑھائیے فلسفۂ قربانی پر عمل پیرا ہو کر خود کو بدل ڈالئے۔ درس قربانی کو عملی زندگیوں پر لاگو کرنے کا عہد کیجیے۔ اپنے تمام عیوب کو مٹانے کا عزم کیجیے بصورت دیگر عیب دار لوگوں کی ہزاروں بے عیب قربانیاں رائیگاں رہیں گی

Facebook Comments HS