شریف سدپارہ: براڈ پیک پر دو ہزار میٹر کی گہرائی میں گر کر لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما
’شریف سدپارہ کو اپنی بیٹیوں اور بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کا بہت شوق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ کم آمدن ہونے کے باوجود بھی انھوں نے اپنی بڑی بیٹی کو سکردو کے ایک کالج میں داخل کروایا تھا۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔‘
یہ کہنا تھا گلگت بلتستان کے سکردو کے علاقے سدپارہ کے رہائشی غلام محمد سدپارہ کا جو گذشتہ دنوں براڈ پیک سے گر کر لاپتا ہونے والے پاکستانی کوہ پیما محمد شریف سدپارہ کے قریبی عزیز اور دوست ہیں۔
رواں برس غیر ملکی کوہ پیماؤں کی ایک ریکارڈ تعداد مہم جوئی کے لیے پاکستان آئی ہے اور اس صورتحال میں مقامی کوہ پیما اور گائیڈز ان کی مدد میں پیش پیش ہیں۔
ان مہمات کے دوران حادثات بھی رونما ہو رہے ہیں۔
غلام محمد سدپارہ کہتے ہیں کہ ’جب میں اپنے بیوی بچوں اور اہلخانہ کے ہمراہ شریف سدپارہ کے گھر پہنچا تو اس وقت ان کی بیوی، بیٹیاں، بہنیں سب کے سب غم میں نڈھال تھے۔ ان کے تین بیٹیاں تعلیم حاصل کر رہی ہے جبکہ دو بیٹے ابھی بہت کم عمر ہیں۔ انھیں پتا ہی کچھ نہیں کہ کیا ہوا ہے۔‘
محمد شریف سدپارہ کیسے لاپتا ہوئے؟
کوہ پیمائی کی فیلڈ میں معروف نام حسن سدپارہ کے بیٹے عابد سدپارہ کہتے ہیں کہ دراصل یہ غیر ملکیوں کی ایک مہم تھی جس کے دوران حادثہ پیش آیا۔
عابد سدپارہ کہتے ہیں کہ سات ہزار میٹر کی بلندی پر عموماً کوہ پیما تھوڑا آرام کرتے ہیں۔ محمد شریف سدپارہ اور ان کے ساتھیوں نے بھی سات ہزار میڑ پر پہنچ کر آرام کرنے کا سوچا اور اس کے لیے محمد شریف سدپارہ نے اپنے ساتھیوں سے تھوڑا دور اپنی سیفٹی کھولی اور برف پر بیٹھ گئے۔
عابد سدپارہ بتاتے ہیں کہ ’ابھی وہ برف پر بیٹھے ہی تھے کہ ان کے نیچے سے برف سرکی اور پھسل کر نیچے گر گیا۔ جب ان کے ساتھ موجود ساتھیوں نے دیکھا تو وہ لگ بھگ دو ہزار میڑ کی گہرائی میں چین کی جانب گر چکے تھے۔‘
اس صورتحال میں موقع پر موجود کوہ پیماؤں کے لیے امدادی کارروائی کرنا ممکن نہیں تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’محمد شریف سدپارہ کا بھائی نیچے کیمپ تھری پر تھا۔ کوہ پیما جب کیمپ تھری پر پہنچے تو ان کے بھائی کو بتایا کہ محمد شریف سدپارہ تو پہلے ہی نیچے پہنچ چکے ہیں۔ انھوں نے کوشش کر کے ان کے بھائی کو تسلی وغیرہ دے کر اپنے ساتھ نیچے لے کر آئے تھے۔ اگر محمد شریف سدپارہ کے بھائی کو صورتحال بتاتے تو شاید صورتحال مزید گھمبیر ہو جانے کا خدشہ موجود تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
وہ ’معجزہ‘ جس نے ’قاتل پہاڑ‘ پر پاکستانی کوہ پیماؤں کی جان بچائی
کے ٹو کا ’ڈیتھ زون‘ کیا ہے اور کوہ پیما وہاں کتنے گھنٹے زندہ رہ سکتے ہیں؟
وہ بچہ جسے ’بہت چھوٹا‘ کہہ کر کوہ پیما ساتھ نہ لے جاتے اس نے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر لی
عابد سدپارہ کہتے ہیں کہ محمد شریف نے گذشتہ سال ہی کے ٹو کو فتح کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ پاکستانی فوج کے ساتھ کام کرتے تھے اور سیاچن سمیت کئی مہمات پر پاکستانی فوج کا ساتھ دیا تھا۔
’پیسے چھوڑو پہلے بندے محفوظ کرنے دو‘
عابد سدپارہ کہتے ہیں محمد شریف سدپارہ کوہ پیمائی سے قبل پاکستانی فوج کے ساتھ کام کرتے تھے۔ ان کی مختلف مہمات میں شریک رہے یہاں تک کہ سیاچن اور دیگر اہم مقامات پر بھی گئے تھے۔ محمد شریف سدپارہ فوج کا حصہ نہیں تھے بلکہ ان کو فوج کے ساتھ دلی لگاؤ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سنہ 2014 کی بات ہے جب اوپر سرحدی چوکیوں پر پاکستانی فوج کے کچھ جوان پھنس گے تھے۔ ’فوج کے ایک میجر صاحب آئے اور انھوں نے محمد شریف سدپارہ سے بات کی اور اُن سے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں کو مدد فراہم کریں، تو محمد شریف سدپارہ فوراً تیار ہوگے تھے۔ اس موقع پر میجر صاحب نے کہا کہ یہ تو بتاؤ کے پیسے کتنے لو گے تو محمد شریف سدپارہ نے کہا تھا ‘صاحب پیسوں کو چھوڑو پہلے جوانوں کو محفوظ کرتے ہیں پھر دیکھتے ہیں۔‘
عابد سدپارہ کہتے ہیں کہ محمد شریف سدپارہ نے اس آپریشن کے دوران پھنسے ہوئے تمام فوجی جوانوں کو محفوظ کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔
گزشتہ سال ہی انھوں نے باقاعدہ کوہ پیمائی کا آغاز کیا تھا۔
پہلی ہی کوشش میں کے ٹو سر
عابد سدپارہ کہتے ہیں کہ محمد شریف سدپارہ گذشتہ دو تین سال سے باضابطہ کوہ پیمائی کی کوشش کر رہے تھے۔ محمد علی سدپارہ والے واقعے کا ان پر بہت اثر ہوا تھا، شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اب چاہتے تھے کہ وہ باقاعدہ کوہ پیمائی کر کے اپنا اور ملک وقوم کا نام روشن کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں ان کو نیپالی کوہ پیماؤں کے ہمراہ کے ٹو پر جانے کا موقع ملا۔ کسی بھی نئے کوہ پیما کو عموماً پہلی ہی مرتبہ کے ٹو کا موقع نہیں ملتا ہے مگر محمد شریف سدپارہ کی بات دوسری تھی۔
ان کا ایک طویل تجربہ تھا، جس کو مدنظر رکھتے ہوئے انھیں موقع فراہم کیا گیا۔ عابد سدپارہ کہتے ہیں کہ محمد شریف سدپارہ نے اپنی پہلی ہی کوشش میں کے ٹو کو سر کر لیا تھا۔ اِس کے بعد وہ سردیوں کی مہم جوئی کے دوران دوبارہ کے ٹو پر جانے والی ٹیم میں شامل ہوئے۔ وہ مہم کامیاب نہیں ہو سکی تھی کیونکہ ان کی ٹیم کو کیمپ تھری سے واپس آنا پڑا تھا۔
مزید پڑھیے
کیا محمد علی سدپارہ اور ساتھیوں کی لاشوں کو کے ٹو سے نیچے لانا ممکن ہے؟
کوہ پیماؤں کے چوٹی سر کرنے کے دعوے کی تصدیق کیسے ہوتی ہے؟
علی سدپارہ: کیا یہ پاکستان میں کوہ پیمائی کا طویل ترین ریسکیو آپریشن تھا؟
عابد سدپارہ کہتے ہیں کہ ’چند دن قبل میں اور میرے چچا کوہ پیما صادق سدپارہ اور محمد شریف سدپارہ گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس موقع پر ہم بات کر رہے تھے کہ ہر سال سدپارہ اور پاکستان میں سے کوئی ایک کوہ پیما لقمہ اجل بن رہے ہیں، حادثات کا شکار ہو رہے ہیں اور ہمارے کوہ پیماؤں کی شرح اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس موقع پر محمد شریف سدپارہ نے ہنسی مذاق کرتے ہوئے صادق سدپارہ سے کہا کہ سب سینیئر لوگ حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ محمد علی سدپارہ، علی رضا سدپارہ وغیرہ تو اب آپ سینیئر ہیں اب آپ کو بہت احتیاط کرنا چاہیے۔ جس پر ہم سب نے زوردار قہقہ لگایا اور صادق سدپارہ نے کہا کہ نوجوان اور نئے کوہ پیماؤں کو بھی حادثات پیش آ رہے ہیں۔‘
عابد سدپارہ کا کہنا تھا کہ ’بدقمستی سے اس سال کا نمبر محمد شریف سدپارہ کا لگ چکا تھا۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ اتنے زیادہ حادثات پیش آ رہے ہیں جبکہ ہمارے ساتھ ہی کام کرنے والے نیپالی کوہ پیما حادثات سے مکمل محفوظ ہیں جس کی وجہ ان کا تربیت یافتہ ہونا اور ہمارا تربیت یافتہ نہ ہونا ہے۔‘
دنیا کی بلند ترین چوٹیوں کے باوجود پاکستان میں کوہ پیماؤں کی تربیت کا ایک بھی ادارہ نہیں ہے۔ ہمارے کوہ پیما بہت تھوڑے پیسوں کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ سالانہ صرف چار لاکھ اور انشورنس کے دو لاکھ۔
عابد سدپارہ کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں لو ایلٹیچوئیٹ پورٹر (کم بلندی پر کام کرنے والے مزدور) کو ایک مہم کا تقریبا پچاس ہزار روپے ملتا ہے۔ سال میں ایک ہی مہم ہو سکتی ہے جبکہ ہائی ایلٹیچوئیٹ پورٹر (زیادہ بلندی پر کام کرنے والے مزدور) کو ایک مہم کا تین سے چار لاکھ روپے ملتا ہے، یہ بھی سال میں ایک ہی مہم ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے مقابلے میں نیپالی کوہ پیماؤں کو پاکستانیوں کو دیے جانے والے معاوضوں سے پانچ سو گنا زیادہ اور بہت زیادہ مراعات دی جاتی ہیں اور ان کے تمام اخراجات برداشت کیے جاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ نیپال میں کوہ پیماؤں کو تربیت فراہم کرنے والے سکول موجود ہیں۔
’نیپالی کوہ پیما ان سکولوں کے تربیت یافتہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک کے کوہ پیما ان پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔‘
عابد سدہ پارہ کہتے ہیں کہ ’تربیت یافتہ ہونے کی وجہ سے ان کی انشورنس بھی زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستان میں ایسا کوئی بھی ادارہ نہیں ہے جس وجہ سے نہ صرف ان کو معاوضے کم ملتے ہیں بلکہ پاکستانی مناسب طور پر تربیت یافتہ نہ ہونے پر حادثات کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔‘
’بچوں کو پڑھانا ہی اولین خواہش‘
غلام محمد سدپارہ کہتے ہیں کہ لٹل کریم کے جنازے میں محمد شریف سدپارہ موٹر سائیکل کے ذریعے پہنچے تھے۔ ’لٹل کریم کا جنازہ جس ایمبولینس میں رکھا ہوا تھا وہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ میں نے دیکھا تو کہا کہ موٹر سائیکل پر چار پانچ گھنٹے کا سفر کرو گے تو کہنے لگے کہ ہاں ہیرو کا جنازہ تو نہیں چھوڑ سکتا ہوں۔‘
انھوں نے کہا چونکہ وہ اپنے بچوں کو پڑھا رہے تھے اس وجہ سے اکثر ان کا ہاتھ تنگ رہتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ’سیزن میں ایک مہم نہیں بلکہ اگر دو مل جائیں تو کتنا اچھا ہو، اس طرح مجھے دوگنے پیسے ملیں گے۔‘


