زندہ کی زندگی میں

دنیا میں جتنے بھی گروہ، مذہب اور ممالک آباد ہیں ان کا نظریہ اس بات پر قائم ہے کہ جناب مسیح نے وہ تعلیم دی ہے جس کا ثانی کوئی نہ ہے۔ اس لیے یہ بات فخر سے کہی جا سکتی ہے کہ ”زندہ کی زندگی میں مردے کا تصور“ نہیں ہو سکتا۔ اب ”مردے کے تصور“ سے مراد وہ کردار اور خیالات ہیں جو مسیح کی تعلیم اور تربیت کے خلاف ہیں۔ یعنی بے ضمیری، بے ایمانی، بدعنوانی، دوسروں کو حقیر جانا اور رنگ و نسل کی تمیز کرنا وغیرہ شامل ہیں۔
یہ بات فخر سے کرتا ہوں جو لوگ زندہ کی زندگی میں رہ کر اس کی زندگی کو جان گئے ہیں انہوں نے وہ کر کے بھی دکھا دیا ہے جس کی مثالیں دیگر لوگ اور ممالک آج دیتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق اٹھائیں تو کئی واقعات ملتے ہیں جو بے مثال اور دوسروں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ ابھی تازہ ترین واقعات پر غور کرتے ہیں اور موجودہ حالات سے تجزیہ بھی کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ”زندہ کی زندگی اور مردے کا تصور“ بخوبی جان سکے۔
آپ اپنی روزمرہ زندگی میں ”شعور“ اور ”شور“ لفظوں سے خوب واقف ہوں گے۔ ان کے پس منظر پر غور کبھی کریں تو ان کے مابین صرف ایک ”ع“ کا فرق نظر آتا ہے۔ اس مراد ”عقل“ اور ”علم“ ہے۔ اس لیے ”عقل“ اور ”علم“ وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کے بغیر نہ تو زندہ اور مردہ کا فرق جان سکتے ہیں اور نہ زندہ کی زندگی کو اور نہ ان تصورات کو جن کی بنیاد پر یہ قائم ہیں۔ جس شخص یا قوم نے ان کے مابین تمیز کر لی تو وہ باشعور زندگی کی حقیقت کو جان گیا۔
جولائی 2021 کی بات ہے کہ فن لینڈ کی وزیراعظم ”ثنا میرین“ نے اپنے خاندان کے لیے سرکاری خزانہ سے ماہانہ 850 یورو ناشتہ کی مد میں وصول کیے ۔ جس پر وہاں کی عوام نے فوراً اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور گھر جانے کا کہا۔ اس نے کسی قسم کی ہنگامہ آرائی نہیں کی۔ نہ کسی کو دھمکی دی، نہ کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروایا بلکہ چپ چاپ وہ پیسے واپس کر کے اپنے گھر کو چلی گئی۔ اس دوران اس نے لمبی چوڑی تقریریں نہ کیں۔
اس کی بنیادی وجہ صرف باشعور ہونے کی ہے دوسری جانب جولائی 2022 کی بات کی جائے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن جس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور ان کو فارغ کر دیا گیا۔ ان پر صرف ایک معمولی الزام ثابت ہوا کہ انہوں نے کرونا وبا کے دوران جہاں پابندی عائد تھیں تو انہوں نے اپنے دوستوں کے ہمراہ چھوٹی سی پارٹی کی۔ یہ بات پارلیمنٹ میں جا پہنچی اور انہوں نے کہا اگر ہمارے وزیراعظم قانون کو نہیں مانتے تو اس کو اس عہدہ پر رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔
لہذا تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ان کو فارغ کر دیا گیا۔ انہوں نے کوئی احتجاج نہیں کیا، کوئی ہنگامہ نہیں کیا بلکہ اپنی فائل پکڑی اور گھر چلا گیا۔ ان دونوں ممالک کے وزیراعظم پر نظر کریں فن لینڈ میں 35 سالہ ”ثنا میرین“ اور برطانیہ میں ”بورس جانسن“ دونوں نے کوئی احتجاج، ہنگامہ، قتل کی دھمکیاں اور نہ اپنے مردہ تصورات کی بھرمار پیش کی۔ انہوں نے کبھی ایسا تصور پیش نہیں کیا کہ ہم وزیراعظم ہے ہمارے لئے کوئی اور قانون ہے اور عوام کے لئے کوئی اور قانون بلکہ اس بات کو ثابت کیا کہ ہم زندہ کو ماننے والے ہیں اور زندہ کی زندگی میں مردے کا تصور ہو ہی نہیں سکتا۔ جو بات یہاں سمجھنے والی ہے وہ نہایت اہم اور وقت کی ضرورت بھی ہیں۔ ان دونوں وزیراعظم نے جو کارکردگی اور ردعمل دکھایا ہے ان کا بغور مطالعہ کریں تو :
1) کوئی دو قومی نظریہ نہ کوئی دو قانون
2) مخلصی، باشعور اور قانون کی پاسداری
3) نہ غداری اور لمبی لمبی تقریریں
4) نہ گالی نہ سڑک بلاک
5) نہ کسی صحافی پر مقدمہ بازی
6) نہ رنگ و نسل کی تقسیم
7 ) نہ کسی کو گرفتار کروایا نہ جھوٹا مقدمہ بنایا
8 ) مردہ ایمان اور نہ مردہ تصور پیش کیا
9) ایک قوم اور ایک ریاست ہونے کا ثبوت دیا
10 ) شور اور شعور کا فرق بتا دیا
یہ وہ بنیادی باتیں ہیں جو انہوں نے زندہ اور زندگی کا معنی سمجھ کر تعلق قائم کیا دوسروں کو بتایا ہم جس کے پیروکار اس کی زندگی میں ”مردے کا تصور ہی نہیں“ ہے۔ اب آئیے اپنے ارد گرد نظر کرتے ہیں تاکہ مزید آسانی کے ساتھ سمجھا جا سکے۔ تین دفعہ ملک کا وزیراعظم ہونے کے باوجود ہوس ختم نہ ہو سکے، کئی مقدمات، کرپشن اور بدعنوانی ثابت ہونے کے باوجود کہہ رہے ہیں کہ یہ سب پچھلی حکومتوں کا کیا ہوا ہے۔ غداری کے مقدمات دوسروں پر بنائے جا رہے ہیں جو سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔
باپ، بھائی، بیٹا بلکہ سب رشتہ داروں پر ایک سے بڑھ کر ایک مقدمہ اور بدعنوانی کا ثبوت ہے۔ پھر بھی زبر سے زیر کا اثر نہیں ہوا۔ الٹا سڑکیں بلاک کی جا رہی ہیں۔ جھوٹی اور لمبی لمبی تقریریں کی جا رہی ہیں۔ اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آ رہا بلکہ اگلے کا تنکا کھٹک رہا ہے۔ جو سچ ننگا کر رہا ہے اس کے خلاف جھوٹے مقدمے بنا کر جیل میں بھیجا جا رہا ہے۔ خاندان کے خاندان براجمان ہیں، نسل در نسل بادشاہی اور وہ بھی سینے کے زور پر کی جا رہی ہے۔
یہ تو وہی گندے جوہڑ کی مثال بن چکی ہے جہاں پر پانی کچھ عرصہ کھڑا رہے تو بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس میں کئی طرح کے گندے کیڑے پیدا ہو کر اس اردگرد ماحول کو بھی اپنی بدبو کی لپیٹ میں لے لیتے ہیں بالکل یہی اب ہمارے اردگرد ماحول اور براجمان حکمرانوں کا ہے جن کے کردار سے بدبو آنا شروع ہو چکی ہے۔ کئی ایسے زہریلے اور گندے کیڑے پیدا کر کے اپنے ساتھ بٹھا لیے ہیں جو اپنی گفتگو اور کردار سے مردہ پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ مردہ پن، بے ضمیری بے ایمانی، بد لفظی اور بدکرداری پر مبنی ہیں۔ کیونکہ زندہ کی زندگی میں مردے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔

