سوفی شولے: ضمیر یا اطاعت
نازی جرمنی میں ہٹلر کی ذات یا پالیسیوں پر تنقید کی سزا موت تھی، جیسے پاکستان میں فوج پر تنقید کرنے پر قید، جرمانہ ”وغیرہ“ کی سزا ہے۔ خیر یہاں سوفی سکول (جرمن سوفی شولے ) کا تعارف دیا جا رہا ہے جس کو ہٹلر پر تنقیدی مواد بانٹنے کے جرم میں صرف 21 سال کی عمر میں موت کی سزا دی گئی۔
سوفی سکول 9 مئی 1921 کو فورچٹنبرگ کے ایک جرمن گھرانے میں پیدا ہوئی۔ سوفی کے والد رابرٹ سکول دوسری عالمی جنگ سے پہلے الم شہر میں بطور مئیر ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے جبکہ سوفی کی والدہ میگڈیلینا سکول سرکاری ہسپتال میں نرس تھیں۔ سوفی کا والد لبرل خیالات کا مالک تھا جس کو اپنے نظریات کی وجہ سے ناصرف مئیر شپ سے ہاتھ دھونے پڑے بلکہ دو دفعہ جیل بھی کاٹنی پڑی۔
سوفی اور اس کے بھائیوں پر اپنے والدین کی باتوں کا اثر نا ہوا۔ اپنے ہم جماعتوں کی طرح سوفی نے صرف 12 سال کی عمر میں ہٹلر یوتھ کی لڑکیوں کی شاخ (League of German Girls) میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کا بڑا بھائی ہانس بھی لڑکوں کے ڈویژن کا رکن بن گیا۔
1937 میں سوفی کے بھائی اور کئی دوستوں کو جرمن یوتھ موومنٹ میں حصہ لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، جو کہ طلباء کی اسکاؤٹنگ تنظیم تھی اور جسے نازی پارٹی نے کالعدم قرار دیا تھا۔ سوفی کو پارٹی سے شدید مایوسی ہوئی اور جب عقیدت کا پردہ ہٹا تو اس کے خیالات ہٹلر اور نازی پارٹی کے متعلق تبدیل ہونے لگے۔
مئی 1942 میں سوفی نے میونخ یونیورسٹی میں فلسفہ مضمون میں داخلہ لیا۔ ہانس پہلے ہی وہاں میڈیکل کا طالب علم تھا جس نے اسے اپنے دوستوں سے ملوایا۔ دوسرے طلباء کے برعکس اس گروپ میں سیاسی و سماجی موضوعات پر بحث و مباحثہ ہوتا۔ آمریت میں رہتے ہوئے فرد کی ذمہ داری ان کا پسندیدہ موضوع تھا۔ اسی سال سوفی کے والد کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر جیل بھیج دیا گیا اور سوفی کو گرمیوں کی چھٹیوں میں الم میں واقع میٹالرجیکل پلانٹ میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔
ان کے دوست Fritz Hartnagel جس کو لازمی سروس قانون کے تحت مشرقی محاذ پر بھیجا گیا تھا، چھٹیوں پر واپس آیا۔ اس کی زبانی انہیں یہودیوں اور نہتے سویت فوجیوں کے منظم قتل عام کا پتا چلا تو اس گروہ نے نازیوں کے پراپیگنڈے کو عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے اپنے گروپ کا نام سفید گلاب رکھا۔ سوفی نے ایک ٹائپ رائٹر خریدا جس کی خریداری نازی جرمنی میں ممنوع تھی اور نازیوں کی مذمت میں مضامین تقسیم کرنے شروع کر دیے۔ وہ اپنی تحریروں کو پمفلٹ کی شکل میں یونیورسٹی اور شہر کے دیگر علاقوں میں خفیہ طور پر عوامی مقامات پر رکھ دیتے۔ سوفی سفید گلاب کی اہم ممبر ثابت ہوئی۔ تحریروں میں اپنے فکری اور فلسفیانہ دلائل کے علاوہ پمفلٹ تقسیم کرنے کی ذمہ سوفی نے احسن طریقے سے نبھائی۔ ان کی تحریروں میں عوام کو مخاطب کر کے نازی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے پر زور دیا۔ ان کی تحریروں کا اندازہ ”ہم خاموش نہیں رہیں گے“ اور ”ہم آپ کے ضمیر ہیں، سفید گلاب آپ کو سکون سے نہیں رہنے دے گا“ سے لگایا جا سکتا ہے۔
یہ پمفلٹ نازی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے تھے۔ نازی خفیہ ایجنسی گسٹاپو اور SS پورے شہر میں چھاپے مار رہے تھے۔
بدقسمتی سے ان کی شناخت زیادہ دیر تک پوشیدہ نہیں رہے سکی۔ 18 فروری 1943 کو میونخ یونیورسٹی میں اپنا چھٹا پمفلٹ بکھیرتے ہوئے سوفی اور ہانس کو ایک چوکیدار نے دیکھ یا جس نے گسٹاپو کو اطلاع کر دی۔ بہن بھائی اور ان کے ساتھیوں کو فوراً گرفتار کر لیا۔ دوران تفتیش ہانس نے پمفلٹ تقسیم کرنے کا اقرار کر لیا۔ ان کے تفتیش کار رابرٹ موہر کا خیال تھا کہ سوفی بے قصور ہے لیکن گروپ کے دیگر ارکان کی حفاظت کی کوشش کرتے ہوئے سوفی نے پوری ذمہ داری قبول کر لی۔
پانچ دن بعد ان کو عدالت میں جج رولینڈ فریسلر کے سامنے پیش کیا گیا۔ مدعا علیہان کو اپنے دفاع میں گواہی دینے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے ریکارڈ پر موجود واحد بیان سوفی کا اعلان ہے، ”آخر کار کسی کو شروع کرنا ہی تھا۔ جو کچھ ہم نے لکھا اور کہا اس پر بہت سے دوسرے لوگ بھی یقین رکھتے ہیں لیکن وہ ہمت نہیں کرتے جیسا کہ ہم نے کی۔“
22 فروری 1943 کو سوفی، ہانس اور ان کے دوست کرسٹوف پروبسٹ کو غداری کا مجرم قرار دیا گیا اور انہیں گیلوٹین (ایک مشین جس میں بھاری بلیڈ کے ذریعے سر جسم سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے ) کے ذریعے موت کی سزا سنائی گئی۔ سزا پر عملدرآمد صرف چند گھنٹے بعد کر دیا گیا۔
سوفی کے آخری الفاظ تھے ”ہم سچائی کے جیتنے کی توقع کیسے کر سکتے ہیں جب شاید ہی کوئی صالح مقصد کے لیے تیار ہو؟ اتنا اچھا، دھوپ والا دن، اور مجھے جانا ہے، لیکن میری موت سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اگر ہمارے ذریعے ہزاروں لوگ بیدار ہوتے ہیں اور عمل پر آمادہ ہوتے ہیں۔“





