انڈیا کا آٹو رکشہ جس میں 27 لوگوں کو سوار دیکھ کر پولیس بھی دنگ رہ گئی
انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر فتح پور میں جب پولیس نے ایک ٹک ٹک یعنی آٹو رکشہ کو روکا تو اس میں موجود سواریوں کی تعداد دیکھ کر وہ بھی دنگ رہ گئے۔
اتنی چھوٹی سی سواری میں اتنے سارے لوگ کیسے سمائے، یہ دیکھنے والوں کے لیے حیران کن نظارہ تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بچوں اور بوڑھوں سمیت اس آٹو رکشہ سے ایک ایک کر کے 27 افراد باہر نکلتے ہیں۔
جی ہاں، اس آٹو رکشہ میں 27 لوگ سوار تھے۔
اسی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس والا باہر نکلنے والے ہر فرد کی گنتی کرتا ہے۔
https://twitter.com/Benarasiyaa/status/1546360801010671616
ویسے تو آٹو رکشہ بنانے والوں نے تین لوگوں کی سواری بنائی تھی لیکن چند رکشے ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں چھ یا اس سے کچھ زیادہ لوگ بیٹھ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اتر پردیش انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس نے ایک آٹو رکشہ کو غیر معمولی تیز رفتاری سے جاتے دیکھ کر اسے روکنے کی کوشش کی لیکن ڈرائیور نے پولیس کو دیکھ کر رکشہ اور تیز بھگا دیا جس پر پولیس نے اس کا پیچھا کیا اور رکنے پر مجبور کر دیا۔
فتح پور پولیس کے سپرنٹنڈنٹ راجیش کمار نے ٹائمز آف انڈیا اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس اس رکشہ میں دو درجن سے زیادہ سواریوں کو بیٹھا دیکھ کر دنگ رہ گئی۔‘
پولیس نے تیز رفتاری اور اوور لوڈنگ کا پرچہ کاٹتے ہوئے اس آٹو رکشہ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔
انڈیا میں سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز کو ہزاروں افراد دیکھ چکے ہیں اور ٹوئٹر پر طرح طرح کے تبصرے بھی ہو رہے ہیں۔
https://twitter.com/narendra52/status/1546440036475756544
ان میں سے ایک سوشل میڈیا صارف نے تبصرہ کیا کہ ’یہ تو ورلڈ ریکارڈ کا حقدار ہے‘ جبکہ چند صارفین نے اس واقعے کو انڈیا میں ٹرانسپورٹ کی سہولیات کے فقدان کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا۔
ایک صارف نے کہا کہ ایندھن کی موجودہ قیمتوں میں ایسا ہی کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیے
الیکٹرک رکشہ جو سرینگر میں سفر 10 روپے میں ممکن بنا رہا ہے
دہلی کی زہریلی ہوا اور یہ رکشہ کھینچنے والے
رکشہ ڈرائیور جو انڈیا کی سب سے مالدار ریاست کے وزیر اعلیٰ بنے
واضح رہے کہ پاکستان کی طرح انڈیا میں بھی آٹو رکشہ سفر کے لیے استعمال ہونے والی عام سواری ہے لیکن ان کا کرایہ بس یا پبلک ٹرانسپورٹ کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
پھر بھی یہ ٹیکسی سے کہیں سستے ہوتے ہیں اور مڈل کلاس کے لیے شہر میں سفر کے لیے ترجیحی درجہ رکھتے ہیں۔
چند سال قبل انڈیا میں میکسیکو کے سفیر اس وقت خبروں میں آئے جب انھوں نے دارالحکومت دلی میں گاڑی کے بجائے رکشہ پر سفر کرنے کو ترجیح دی۔


