پاکستان، بنگلہ دیش سے کیوں پیچھے رہ گیا؟
پاکستان اور بنگلادیش، جنوبی ایشیاء کے دو ملک جو کے 1971 سے پہلے ایک ساتھ بحیثیت ایک قوم کے رہتے تھے، یعنی مشرقی اور مغربی پاکستان۔
1971 میں بنگلادیش نے پاکستان سے آزادی حاصل کر کے ایک الگ ملک کی حیثیت حاصل کی۔ اس وقت پاکستان بنگلادیش سے 70 فیصد زیادہ امیر تھا۔ لیکن اب بنگلادیش پاکستان سے 45 فیصد زیادہ امیر ہو چکا ہے۔ فی کس آمدنی میں بنگلادیش نہ صرف پاکستان سے بلکہ بھارت سے بھی زیادہ اقتصادی طور پر مضبوط اور امیر ہو چکا ہے۔ بنگلادیش دنیا کی فاسٹ اکانومی ممالک میں آتا ہے۔
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ 1971 کی تقسیم کے قبل دونوں ممالک برابر تھے۔ دونوں ملکوں کا موازنہ کر کی دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس زیادہ وسائل موجود تھے، اور بنگلادیش جسے نئے سرے سے بطور ایک الگ ملک کھڑا ہونا تھا، جس نے صفر سے شروع کیا، جسے سیاسی اور اقتصادی ساخت بنانی تھی، ایک ملک کے لیے وہ ملک آج 75 فیصد زیادہ امیر ہے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنگلادیش پاکستان سے آگے کیسے نکلا؟
بنگلادیش نے اپنی اقتصادی حالت بہتر کیسے بنائی؟
جب کہ وہ ایک کم ترقی پذیر ملک ہے۔
اس میں سب سے بڑی وجہ بنگلادیش گارمنٹس انڈسٹری ہے، جو کہ دنیا کی دوسرے نمبر پر تیار شدہ ملبوسات بنانے کی انڈسٹری ہے۔ یہ بنگلادیش اہم برآمدی صنعت ہے۔
بنگلادیش دنیا بھر میں جو کچھ برامد کرتا ہے اس کا 84 فیصد گارمنٹس ہے۔ کیوں کہ بنگلادیش کے پاس اس کے لیے بڑے پیمانے پر لیبر فورس موجود ہے جو کہ دنیا میں آٹھویں نمبر پر آتی ہے۔ ایشیا کے باقی ممالک بھی اسی طرح کام کرتے ہیں اپنی انڈسٹریز کو استعمال کرتے ہوئے خصوصی طور پر مینوفیکچرنگ کے لیے مگر بنگلادیش جیسا نہیں۔ آج بنگلادیش گارمنٹس انڈسٹری چالیس لاکھ ڈائرکٹ اور ایک کروڑ ان ڈائریکٹ روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے جس میں 80 فیصد خواتین کام کرتی ہیں جو کے ملک میں خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے ان پر ایک اچھا اثر ڈالتا ہے اور ملک میں روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کرتا ہے۔ اور وہیں پاکستان کو دیکھیں تو وہ اپنی مصنوعات کو برآمد تو کرتا ہے لیکن اپنے وسائل جیسے کپاس کپڑا اور دیگر مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے میں ناکام ہے۔
اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بنگلادیش بنیادی طور پر انسانی ترقی، تعلیم اور صحت پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور اس کے بر عکس پاکستان کو دیکھا جائے تو فوج پر خرچ کرتا ہے اور تعلیم اور صحت کو پیچھے چھوڑتا ہے۔ سال 2021۔ 2022 کے بجٹ میں پاکستان نے تعلیم پر 90.556 بلیون، فوج پر 1.523 ٹریلین اور صحت پر 21.7 ملیون مقرر کیا۔
اور اگر وجوہات میں بات خواتین کو با اختیار بنانے کی، کی جائے تو دونوں ملک ایک دوسرے کے برعکس ہیں
برسوں سے پاکستان میں خواتین کو شدید پسماندگی اور امتیاز سلوک کا سامنا ہے۔ انہیں حقوق کو مکمل حد تک حاصل کرنے سے روکا گیا ہے۔ معاشی، سماجی، شہری اور سیاسی حقوق اور اکثر ان میں سے کسی ایک شعبہ میں محرومی دوسرے میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ گھر سے باہر کام کرنے سے روک کر ان پر ظلم کو منظم کرتا ہے۔ اور دوسری طرف بنگلہ دیش کو دیکھا جائے تو جہاں اسکولوں کے اندراج میں صنفی برابری زیادہ ہے۔ افرادی قوت میں خواتین کی مسلسل شرکت بڑھتی جا رہی ہے۔ تیس لاکھ خواتین ملبوسات کے منافع بخش شعبہ میں کام کرتی ہیں بنگلادیش میں خواتین کی بڑھتی تعداد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سے وابستہ ہیں۔
یہ سب تب تک ہی ممکن ہو سکتا ہے جب ہمارے پاس بچے اسکولوں میں موجود ہوں، عورتوں کے پاس روزگار ہو، فوج اپنے بیرک میں ہو اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو، آزاد صحافت ہو اور قومی ترقی کے لیے سیاسی عزم ہو
پاکستانی تعلیم پر دھیان دیں تو پاکستانی انجنیئرز جیسے پاکستانی گلوکارہ مومنہ مستحسن جو کہ انجینئر ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر کام کرے اور روز گار کے زیادہ مواقعے فراہم کرے اور بنگلہ دیش کی ایک صنعت بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقعے فراہم کرتی ہے
ملک پر ہی خرچ کرنے کی بات کریں تو پاکستان کو خوفناک فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنانا مالیاتی ایکشن ٹیکس فورس کی فہرست میں شامل ہے کیونکہ اس کے سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کے لیے پراعتماد نہیں ہیں۔
پاکستان کو چاہیے کے ملک کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اول ترجیحات میں انسانی ترقی، خواتین کو با اختیار بنانے اور ملک کی صنعتوں کی پیداواری کے بڑھانے کو شامل کرے
جس ملک کو اچھی صحت اور اچھی خوراک مہیا ہو وہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے کیوں کہ قوم بھی پھر روٹی سے آگے کی سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہے ترقی کے لیے۔

