When Dreams Come True


پچھلے دنوں جب میں کینیڈا گئی تو ڈاکٹر خالد سہیل سے ملاقات ہوئی۔ میں نے انہیں فون کر کے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بہت پرخلوص انداز میں مجھے کھانے کی دعوت دی۔ دن اور وقت طے کرنے کے بعد انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے امیر حسین جعفری کو بھی دعوت دی ہے جنہیں وہ اپنے ساتھ کے کر آئیں گے۔

مقررہ دن پر خالد سہیل Whitby سے دو گھنٹے کی ڈرائیو کرنے کے بعد میرے پاس Oakville پہنچے جہاں میں اپنے بیٹے کے ہاں ٹھہری ہوئی تھی، ساتھ میں امیر حسین جعفری بھی تھے جنہیں مل کر ہمیشہ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ ہم تینوں ایک ریسٹورانٹ پہنچے تو کھانا آرڈر کرنے سے پہلے خالد سہیل نے مجھے اپنی چار کتابیں عنایت کیں، جن میں ان کی سوانح عمری WHEN DREAMS COME TRUE بھی شامل تھی۔ میرے لئے یہ کتابیں ایک نہایت قیمتی تحفہ تھیں جنہیں میں نے بہ شکریہ قبول کیا۔

ڈاکٹر صاحب سے میری پہلی ملاقات آج سے غالباً چوبیس پچیس برس پہلے ہوئی تھی جب فیملی آف دی ہارٹ کی ایک میٹنگ سٹاک ہالم سے آئے ہوئے سائیں سچا کے اعزاز میں رکھی گئی تھی اور میں ان دنوں چونکہ ٹورانٹو میں تھی چنانچہ مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کینیڈا اور پاکستان دونوں ملکوں میں ہمیں کئی بار ملنے کا موقعہ ملا، میں نے ہمیشہ انہیں ایک پرسکون، دانا، طبیعت میں ٹھہراؤ اور چہرے پر شفیق مسکراہٹ لئے ایک مخلص انسان کے روپ میں پایا۔

مختلف محفلوں میں ان کی شاعری سننے اور اپنی سنانے کا موقعہ بھی ملا۔ ان کے مذہب اور انسانیت سے متعلق خیالات، ملحد اور مومن جیسے موضوعات، خدا پر عقیدہ رکھنے اور نہ رکھنے والوں کے بارے میں گفتگو بھی ہوتی رہی۔ یہ وہ موضوعات ہیں جو انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، ذہن میں کئی سوالات اٹھاتے ہیں، ہماری زندگی، ہماری ایگزسٹنس، کائنات کے مخفی رموز، ازلی سچائیاں اور قدرت کے اصولوں کی جانب غور کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد سہیل کی پروفیشنل اور نجی زندگی کے بارے میں مجھے کافی حد تک معلوم تھا، مگر ان کے بچپن کے حالات و واقعات سے میں بالکل ناواقف تھی، اور مجھے ہمیشہ سے اس بات میں دلچسپی رہی ہے کہ لوگ ویسے کیوں ہوتے ہیں جیسے کہ وہ ہوتے ہیں۔ گو کہ میں اس بارے میں لوگوں سے پوچھتی نہیں مگر سوچتی ضرور ہوں۔ اس لئے ان کی سوانح عمری WHEN DREAMS COME TRUE کو نہایت شوق سے میں نے پڑھنا شروع کیا۔ کتاب کھولی تو سب سے پہلے انتساب کو دیکھتے ہی بہت اچھا لگا۔ لکھا تھا:

”ان مرد و خواتین کے نام جو نہ صرف خواب دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں بلکہ اپنے خوابوں کو پوری ذمہ داری سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا عزم اور ہمت بھی رکھتے ہیں“ ۔

خواب دیکھنے کی صلاحیت تو پیدائشی طور پر ہر انسان میں موجود ہوتی ہے، مگر پچپن سے ہی ان پر لگائی گئی بے جا پابندیاں، روک ٹوک، خاندانی روایات کے ضوابط، تعلیمی اداروں کے قوانین، رہن سہن کے طے شدہ اصول اور معاشرے کے دستور آہستہ آہستہ انسانوں میں خواب دیکھنے، سوچنے، اور سوال کرنے کے عمل کو فقط محدود ہی نہیں بلکہ مکمل طور پر مسخ کر دیتے ہیں۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو پھر بھی خواب دیکھنے کی صلاحیت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ایسے لوگ جن میں شاعر، ادیب، دانشور، فلسفی، مصور، موسیقار، مجسمہ ساز، سنگیت کار، اور وہ سب لوگ شامل ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی تخلیقی کام سے جڑے ہوتے ہیں۔ اور جنہیں میں آرٹسٹ کہتی ۂوں۔

اس روز ریسٹورانٹ میں کھانا کھاتے ہوئے باتوں کے دوران جب میں نے یہی بات کہی کہ میں تو دنیا بھر کے تمام انسانوں کو، خواہ ان کا تعلق کسی خطے، کسی معاشرے، کسی مذہب، کسی رنگ یا نسل سے ہو، چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں، میں انہیں صرف دو ہی خانوں میں رکھ کر دیکھتی ہوں، یعنی آرٹسٹ اور نان آرٹسٹ۔ کام کے لحاظ سے ان کا پروفیشن کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر وہ اندر سے یا تو آرٹسٹ ہوتے ہیں یا نان آرٹسٹ۔ اور یہ بھی کہ دونوں کو کبھی ایک دوسرے کی سمجھ نہیں آ سکتی۔

اس پر ڈاکٹر سہیل کہنے لگے کہ وہ انسانوں کو جن دو خانوں میں ڈالتے ہیں وہ انہیں Traditional majority اور Creative minority کا نام دیتے ہیں۔ مجھے ان کی یہ درجہ بندی بہت بہتر لگی کہ واقعی روایتی انداز سے سوچنے اور زندگیاں گزارنے والوں کی تعداد تو ہمیشہ اکثریت میں ہوتی ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جو زندگی گزارنے کے لئے غیر روایتی انداز اپناتے ہیں۔ اور دیکھا جائے تو یہی وہ creative minority ہوتی ہے جو صدیوں سے معاشروں میں توازن قائم رکھنے اور انسانیت کو نئی سوچ اپنانے کی راہ دکھاتی رہی ہے۔

اپنی کتاب میں انہوں نے ایسے ہی بہت سے لوگوں کا ذکر کیا ہے جن کا بغور اور مفصل مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے ایک سایئکو تھیراپسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حساس شاعر ہونے کے ناتے اپنے طریقہ علاج کو ایک نیا زاویہ دیتے ہوئے اپنے کلینک کا نام Creative Psychotherapy Clinic رکھا ہے۔ کتاب میں جن لوگوں کا ذکر انہوں نے کیا ہے ان کی تحقیق اور تجربات کے نتیجے میں اخذ کی گئی ان کی theories کے نچوڑ کو انہوں نے آسان اور عام فہم طریقے سے رقم کیا ہے جس سے بیشمار لوگ مستفیض ہو سکتے ہیں۔

تو ان کے بچپن کے حالات و واقعات میں نے پڑھے، اور جس بات سے میں بہت متاثر ہوئی وہ ان کی حس مشاہدہ تھی۔ اس چھوٹی سی عمر میں شاید وہ شعوری طور پر اس امر سے واقف نہ تھے کہ ان کے والدین کی ارینج میریج میں وہ مثالی ہم آہنگی موجود نہیں تھی جو ہم مزاج لوگوں کی زندگیوں میں ہوا کرتی ہے یا ہونی چاہیے۔ مگر وہ اتنا ضرور سمجھتے تھے کہ دونوں کے مزاج مختلف ہونے کے نتیجے میں اپنے بیٹے سے ان دونوں کے رویے اور توقعات بالکل مختلف تھیں۔

اس قسم کی کش مکش، تذبذب، اور متضاد صورت حال میں بچے اکثر ذہنی دباؤ کا شکار ہو جایا کرتے ہیں اور کئی دفعہ اس کا اثر ان پر ہمیشہ کے لئے رہ سکتا ہے۔ مگر سہیل کی سوچنے اور غور کرنے کی صلاحیت، حساس طبیعت، اور پابندیوں سے آزادی کی خواہش نے انہیں کتابوں کی دنیا سے تسکین حاصل کرنے اور خواب دیکھنے کی عادت ڈالی۔

انہوں نے اپنے لئے جو خواب دیکھے ان میں چار کا ذکر وہ اس کتاب میں کرتے ہیں۔ جن میں سب سے پہلے ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کرنا، خاص طور پر ذہنی انتشار کے مریضوں کی مدد اور علاج کرنا تھا۔ دوسرا مصنف بننا، تیسرا دنیا دیکھنے کا خواب، اور چوتھا ایسے دوستوں کا حلقہ بنانے کا جو کسی نہ کسی حوالے سے کسی نہ کسی تخلیقی کام سے وابستہ ہوں۔

اپنے خوابوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے انہیں جن مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جن راستوں سے گزرنا پڑا، انہیں وہ نہایت تحمل، بردباری اور سمجھداری سے عبور کرتے رہے۔ اپنے طریقہ علاج اور تصنیفات کے ذریعے بے شمار لوگوں کو دانائی کے ساتھ مثبت سوچ رکھنے، انسان دوست رویہ اپنانے، اور منظم طریقے سے غور و فکر کرنے کی طرف مائل کرتے رہے، اور بالآخر اب وہ پرسکون اور مطمئن نظر آتے ہیں۔

اپنی زندگی میں انسان اپنے خواب پورے کر سکے اس سے بڑی خوش قسمتی کیا ہو سکتی ہے۔ بس خواب دیکھتے رہنے کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

خواب ادھورے نہ رہ جائیں، اس کے لئے پورے دل سے محنت ضرور کرنی پڑتی ہے، مگر خوابوں کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ کیونکہ خواب دیکھنے کی کوئی عمر یا وقت نہیں ہوتا۔ اس کے لئے تو فقط وہ جذبہ چاہیے جو پھوٹتے چشمے کی طرح ہوتا ہے، چمکتے صاف شفاف پانی کا چشمہ جو اپنے لئے راستہ خود تلاش کرتا ہے۔

Facebook Comments HS