کیا عمران ریاض خان ایک ذہنیت کا نام ہے
جو فلسفہ یا شخصیت سوال کی چوٹ نہ سہ سکے وہ اس انتہائی خوبصورت اور جاذب نظر کاغذی پھول کی مانند ہوتا ہے جس کی حقیقت کا تعین بارش کی چند بوندیں کر دیتی ہیں اور اس حسین و جمیل پھول کے مصنوعی رنگ اور چمکدار قسم کی آنکھوں کو خیرہ کردینے والی خوبصورتی چند سیکنڈ میں زمین بوس ہو جاتی ہے۔ دنیا میں تشکیل پانے والے انسانی فلسفے، عقیدت کی پہیلیاں یا ماورائے عقل قسم کے گورکھ دھندوں کے پیچ معرض وجود میں آنے والے شخصی بت آسمانوں سے اتر کر زمین پر نہیں آتے بلکہ زمین پر ہی تراشے جاتے ہیں اور ان کی آماج گاہ دھرتی ماتا ہوتی ہے اور انہی عناصر کو آسمان تک پہنچانے میں انسان کی اندھی عقیدت، غیر منطقی رویہ اور آؤٹ آف دی وے جاکر غیر عقلی باتوں کو ذاتی مفادات کے لیے رنگ بازی کرنے جیسے اقدامات و عناصر ایک طرح سے آکسیجن کا کام کرتے ہیں۔
عقیدت یا عقیدہ انسانی سوچ کو محدود کر کے کیسے محض ایک فلسفہ و شخصیت کا اسیر بنا دیتا ہے اس ضمن میں دو مثالیں پیش کرنا چاہوں گا۔ میرے ایک دوست ہیں ان کے ہاں ایک بار ان کے پیر و مرشد کی آمد ہوئی تو مجھے بھی دعوت دے ڈالی اور اصرار کرتے ہوئے کہنے لگا کہ تم نے ضرور آنا ہے اور میں تمہیں اپنے پیر و مرشد کا چمکتا دمکتا نورانی چہرہ دکھاؤں گا، خیر چلا گیا وہاں پر موجود تقریباً ہر شخص پیر صاحب سے جھک کر مصافحہ کر کے ہاتھوں کو بوسہ دیتا اور اپنی اپنی گنجائش کے مطابق پیسے ان کے ہاتھوں میں تھما کر چلتا بنتا۔
ان پیسوں کو پیر صاحب انتہائی بے اعتنائی یا عدم دلچسپی دکھاتے ہوئے زمین پر گرا دیتے اور ساتھ ہی کھڑے ان کے اسسٹنٹ اٹھا کر ایک مخصوص بیگ میں ڈال لیتے تھے۔ وہاں موجود عقیدت میں نہال ایک شخص نے واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ بزرگ اتنے پہنچے ہوئے ہیں کہ ایک بار ان کے دل کی سرجری ہو رہی تھی، سرجری کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ جب ہم اس بزرگ کا آپریشن کر رہے تھے تو ان کے دل سے اللہ اللہ کی آواز آ رہی تھی۔ سوال کرنے کی عادت کے ہاتھوں مجبور میں نے فوراً سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ بقلم خود ان ڈاکٹروں سے ملے تھے؟
سنتے ہی کہنے لگا نہیں ملا تو نہیں تھا بس ایک سنی سنائی بات ہے اور میرا دل اس بات کی صداقت کی گواہی دیتا ہے اسی لیے میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور میں ہزاروں لوگوں کو یہ واقعہ سنا چکا ہوں۔ دوسرا جواز اس عقیدت کے مارے شخص نے یہ پیش کیا کہ اس بزرگ کے چہرے کا نور اور روئی سے بھی زیادہ نرم ہاتھ اس واقعہ کے صداقت کی گواہی دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ بزرگ کام دھندا کیا کرتے ہیں تو جھٹ سے کہنے لگا کہ یہ کام وغیرہ کوئی نہیں کرتے بلکہ صرف ذکر اذکار میں مصروف رہتے ہیں۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ جان من ان کے چہرے کی لالیاں اور ہاتھوں کا نرم ہونا فارغ البالی کا کرشمہ ہے روحانیت کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ اپنی اپنی ترجیحات کی بات ہوتی ہے کہ اسٹیفن ہاکنگ جیسا الیکٹرک چئیر تک محدود انسان قدرتی رازوں سے اٹکھیلیاں کرتے کرتے انسانیت کو حقیقی معنوں میں وہ کچھ دے گیا جس کا قرض شاید انسانیت کبھی اتار پائے اور ہمارے پہنچے ہوئے معاشرے کو جو دان کر رہے ہیں اس کی افادیت کیا ہے وہ بھی ہمارے سامنے واضح ہے، اگر ادراک نہ کرنا چاہیں تو الگ بات ہے۔
دوسرے واقعے کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے، تبلیغی جماعت میں ایک عمل ہوتا ہے جسے ”کارگزاری“ کہتے ہیں جس میں سال یا چھ مہینے لگانے والے لوگ دوران سفر پیش آ نے والے واقعات لوگوں میں رغبت، ترغیب یا ثواب کا لالچ پیدا کرنے کی خاطر واقعات کو حسین و جمیل بنا کر پیش کرتے ہیں اور بعض اس قسم کے خلاف عقل واقعات مزے لے کر سناتے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مثلاً جماعت میں ایک ساتھی کو اللہ تعالیٰ یا جبرائیل کا دیدار نصیب ہوا یا فلاں ساتھی کو ”حورعین“ کا دیدار ہوا وغیرہ۔
اب یہ انتہائی ذاتی نوعیت کے لمحاتی واقعات ہوتے ہیں، ان کو جانچنے یا پرکھنے کی ابھی تک کوئی لیبارٹری معرض وجود میں نہیں آئی مگر دکھوں کا مارا ایک عام انسان اس قسم کے واقعات کا اسیر ہو جاتا ہے اور ایک دائروی سی روٹین کا شکار ہو جاتا ہے مگر طارق جمیل جیسا مرتبہ یا سلسلہ روحانیت و سیاست کے پیرومرشد جیسی سر بلندیوں سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ کیونکہ یہ عام سے انسان کبھی بھی عبادت و ریاضت کے ذریعے سے وہ بلندیاں یا مقام قربت کو نہیں چھو سکتے جسے یہ ”خاص بندے“ پلک جھپکتے ہی چھو لیتے ہیں۔
وطن عزیز میں بھی ایک رسم چل نکلی ہے۔ جن لوگوں کا کام سوال پوچھنا اور تعمیری تنقید کر کے معاشرے کو جگانا ہوتا ہے وہ قصیدہ گوہ بننے لگے ہیں اور زیب داستان کے لیے ایسی ایسی کہانیاں گھڑنے میں سرگرم ہیں کہ شاید جدی پشتی قصہ گو بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیں اور جس شخص کے متعلق قصہ گوئی یا متھ میکنگ ہو رہی ہے وہ بقلم خود بھی اپنے اندر پائی جانے والی ان گنت اور نایاب قسم کی خوبیوں سے لاعلم تھا مگر تھینکس ٹو قبیلہ عاشقاں کہ جن کے ذریعے قوم کو اپنے حقیقی نجات دہندہ کی ماورائی صلاحیتوں کا پتہ چلا ورنہ یہ بے چارے تو ساری عمر اندھیرے میں ہی بھٹکتے رہتے اور رجسٹرڈ چور اچکے ایک لمبے عرصہ تک اس قوم کا استحصال کرتے رہتے۔
ہمارے ملک کی مٹی اس لحاظ سے کافی زرخیز اور موزوں ہے کہ کوئی بھی کاریگر قسم کا اسٹنٹ باز اپنے ماسٹر سٹروک کے ذریعے سے کروڑوں لوگوں کو ایک جھٹکے میں اپنا گرویدہ بنا سکتا ہے بس چوٹ صحیح جگہ پر لگنی چاہیے اور بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا یہ عمل عمران ریاض خان جیسے بندے کو بھی شہرت کی بلندیوں پر لے جاتا ہے۔ بھاڑ میں جائے پروفیشنلزم یا صحافتی ذمہ داریاں، بھلا خبروں کے پیچھے بھاگنے یا چند سیاسی پنڈتوں کے آگے مائک اٹھا کر مصنوعی قسم کے سوال پوچھنے سے کوئی کتنا مقبول ہو سکتا ہے اور اتنی ریاضت و مشقت کرنے کے لیے کہاں کسی کے پاس فالتو وقت ہوتا ہے؟
بس فوکس صحیح جگہ پر ہونا چاہیے۔ اسی گورکھ دھندے کا فائدہ فرقہ عمرانیہ کا قبیلہ عاشقان بشمول عمران ریاض خان اٹھانے میں مصروف ہیں، انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں ہے کہ تاریخ ان کو کن القاب سے یاد رکھے گی یا ان کے کردار کو کیا نام دے گی؟ شہرت کی بلندیوں کو چھونے کے لئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے تصویر کھنچوانا پڑے یا عوام کے جذبات کو کیش کرنے کے لئے اسلامی ٹچ دینا پڑے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ عمران ریاض خان ایک طرز فکر کا نام ہے جو معاشرے کے ایسے طبقہ یا افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو ایک گول دائرے کے اسیر ہو کر ساری زندگی اسی کا طواف کرتے رہتے ہیں جن کی زندگی وہیں سے شروع ہو کر وہیں پہ ختم ہوجاتی ہے، اگر آج کل کی اصطلاح میں بات کریں تو ”واحد عمران خان ہی منبع کمالات ہے باقی سب مایا ہے“ اور اسی مائنڈ سیٹ کی ترجمانی موجودہ وقت میں عمران ریاض خان کر رہا ہے۔
یہ معاشرے کے وہ روبوٹ ہوتے ہیں جن کا ریموٹ ان کے روحانی و سیاسی مرشدین کے پاس ہوتا ہے جو اپنی مرضی سے ان کو چلاتے رہتے ہیں، ان عقیدت مند روبوٹس کو سیاسی مرشد اپنے سیاسی جلسوں میں اور روحانی مرشد اپنی روحانی محافل میں اس غرض سے ساتھ لے جاتے ہیں تاکہ ”اشتہار بازی“ کا اچھا بندوبست ہو سکے اسی لئے تو سیانے بندے کہا کرتے تھے کہ ”پیر نہیں اڑتے بلکہ مرید اڑاتے ہیں“ یہ اس قسم کا قبیلہ عاشقاں ہوتا ہے جو حقائق کو پرکھنے کی بجائے اپنی آنکھوں کے گرد عقیدت کی پٹی اتنی شدت سے باندھ لیتا ہے کہ باہر کا منظر ان کے لیے ختم ہو جاتا ہے اور ذہن کے دریچوں کو بند کر کے تسلیم کرنے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ حقائق کو سمجھنے یا کھوجنے کے لیے ایک طویل ریاضت درکار ہوتی ہے جو ہم جیسے ذہنی غلاموں کا وتیرہ بھلا کیسے ہو سکتی ہے۔ اپنی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں، جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کائناتی راز اگلنے میں مصروف ہے اور ہم قصہ خوانوں سے قصبے سننے میں مگن ہیں۔


