بلوچستان: زیارت سے ڈی ایچ اے کوئٹہ کے افسر ساتھی سمیت اغوا
بلوچستان کی ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت نے ڈی ایچ اے کے افسر سمیت دو افراد کے اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں افراد کو کوئٹہ اور زیارت کے درمیان سفر کے دوران اغوا کیا گیا۔
اغوا ہونے والے ڈی ایچ اے کوئٹہ کے افسر کی شناخت لیفٹیننٹ کرنل لئیق کے نام سے ہوئی ہے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ پاکستان فوج کے حاضر سروس افسر ہیں یا ریٹائرڈ۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جب اس بارے میں تصدیق کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں معلومات کی تصدیق کرنے کی ضرورت ہے اور جیسے ہی اس متعلق کوئی معلومات دستیاب ہوتی ہیں آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا۔‘
دونوں افراد کے اغوا کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے اور نہ ہی تاحال کسی نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میر ضیا اللہ لانگو نے سیاحوں کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ان کی فوری طور پر بازیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق یہ افراد اپنے خاندان کے ہمراہ سیر کرنے کے لیے زیارت گئے تھے۔
اغوا کی واردات کہاں پیش آئی؟
ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز حکومت بلوچستان کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان اور مشیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کے واقعے کے بعد جاری بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اغوا کا یہ واقعہ ضلع زیارت کے علاقے ورچوم میں پیش آیا۔
بعض اطلاعات کے مطابق منگل کی شب نو بجے مسلح افراد زیارت اور کوئٹہ کے درمیان سفر کرنے والی گاڑیوں کو روک رہے تھے۔ انہی میں لیفٹیننٹ کرنل لئیق اور ان کی فیملی کی گاڑی بھی شامل تھی۔
ان کی گاڑی کو روکنے کے بعد ڈی ایچ اے کے افسر کو مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے جبکہ ان کے خاندان کے افراد کو چھوڑ دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ملزمان انھیں اس راستے سے نامعلوم مقام کی جانب لے گئے جو کہ مانگی ڈیم کی جانب جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد فرنٹیئر کور اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جنھوں نے مغوی کے خاندان کو زیارت پہنچانے کے انتظامات کیے اور علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
جب حکومت بلوچستان کی ایک اعلیٰ شخصیت سے اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈی ایچ اے کے افسر سمیت دو افراد کو اغوا کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اغوا ہونے والے دوسرے شخص ڈی ایچ اے افسر کے ساتھی تھے جو ان کے ساتھ ہی سفر کر رہے تھے۔ اغوا ہونے والے دوسرے فرد کی شناخت کے حوالے سے تاحال سرکاری حکام کی جانب سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
ایک اہم سرکاری ادارے کے اہلکار نے بھی ڈی ایچ اے کے افسر کے اغوا کی تصدیق کی ہے۔
بی بی سی نے اس واقعے کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ڈپٹی کمشنر زیارت سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی اور ان کو واٹس ایپ پیغامات بھی بھیجے گئے لیکن تاحال ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
ادھر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ زیارت کے علاقے ورچوم سے سیاحوں کے اغوا کا نوٹس لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کرنل حبیب: پاکستانی فوج کے سابق افسر جن کی نیپال میں گمشدگی آج بھی ایک معمہ ہے
ریاست پاکستان کی کوششوں کے باوجود بلوچ نوجوان عسکریت پسندی کی جانب مائل کیوں ہو رہے ہیں؟
اختر مینگل کے 6 نکات جن کا حل ڈھونڈنے میں ہر حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے
بیان کے مطابق وزیر اعلیٰ نے محکمہ داخلہ اور ضلعی انتظامیہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے اور سیاحوں کی باحفاظت بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے زیارت سمیت بلوچستان کے تمام سیاحتی مقامات پر حفاظتی انتظامات مزید مْثر بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔
مشیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور بلوچستان ہاشم غلزئی سے ملاقات میں کہا ہے کہ معاملے کے حل تک انتظامیہ کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔
مشیر داخلہ نے ایک بیان میں اس واقعے کو صوبے میں امن و امان خراب کرنے کی کوشش قررا دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات باعث تشویش ہیں لیکن بہت جلد اس معاملے کو حل کیا جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ اغوا کاروں کو گرفتار کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
زیارت کہاں واقع ہے؟
زیارت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں واقع ہے۔ زیارت کا شمار بلوچستان کے سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں دنیا میں صنوبر کے قدیم جنگلات میں سے ایک بڑا جنگل بھی واقع ہے۔
اہم سیاحتی مقام ہونے کے باعث لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد عید اور دیگر تعطیلات میں سیر و سیاحت کے لیے اس علاقے کا رخ کرتی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ عمومی طور پر زیارت کا شمار بلوچستان کے نسبتاً پرامن علاقوں میں کیا جاتا ہے لیکن ماضی میں یہاں چند پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں بانی پاکستان محمد علی جناح کی ریزیڈینسی پر حملے کا واقعہ بھی شامل ہے۔
جون 2013 میں اس ریزیڈینسی پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
زیارت سے متصل ضلع ہرنائی میں بدامنی کے کئی واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔


