اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے انتخابی نہیں، اصولی موقف اپنانے کی ضرورت ہے

پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے حوالے سے آج جس طرح کی کھل کر بات کی جاتی ہے شاید ماضی میں ایسا بالکل بھی نہیں تھا کہ اب تو ڈائریکٹ فوج، فوجی سربراہ، جنرلز، آئی ایس آئی اور اس کے چیف تک براہ راست نام لئے جا رہے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ پانی سر سے اوپر گزر گیا ہے اور اب وقت ہے کہ خود ملٹری اسٹیبلشمنٹ گہرائی کے ساتھ یہ جائزہ لے کہ سیاست میں بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت سے پاکستان اور خود بحیثیت ادارہ فوج نے کیا کھویا اور کیا پایا؟
بحیثیت مجموعی اداراتی وقار، اعتماد اور احترام کی لیول کیا ہے؟
فوج کی اصل طاقت جو عوام کا اعتماد ہے، وہ کتنا باقی رہ گیا ہے؟
پروفیشنل استعداد، اپروچ، انتظام، گرفت اور استحکام کی نوعیت اور پوزیشن کیا ہے؟
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام میں اسٹیبلشمنٹ کا بنیادی کردار چلا آ رہا ہے۔ اسی طرح آئین کی پاسداری اور قانون کی عملداری میں جو کمی دیکھی جا رہی ہے اس میں بھی بڑا کردار اسٹیبلشمنٹ ہی کا ہے۔ کھل کے بات کی جائے تو مسئلہ ادھر ہی ہے اور چابی بھی یہی پڑی ہے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو محدود کیا جاتا ہے تو دیگر اداروں کو پنپنے کا موقع ملے گا جو اب تک اسے ملا ہی نہیں یعنی استحکام کا موقع دیا ہی نہیں گیا۔
ستم مگر یہ ہے کہ خود سیاسی جماعتیں اس حوالے سے حساس اور سنجیدہ نہیں ہیں۔ یہاں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پہ سوالات تو لا کھڑا کیے جا رہے ہیں مگر اس گتھی کو سلجھانے کی عملی فکر کا فقدان ہے۔ موقف، رویہ، طرزعمل اور بیانیہ اصولی نہیں بلکہ انتخابی ہے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کا ”دست مبارک“ سر پہ آ جاتا ہے تو پھر بڑے صاحب کو ”باپ“ مان کر سر تسلیم خم کیا جاتا ہے مگر جونہی یہ لوگ بے آسرا ہو جاتے ہیں تو پھر ”ناخلف اولاد“ بن کے راز افشا کرانے کی دھمکیوں پہ اتر آتے ہیں اور ”ووٹ کو عزت“ دو کی دھماچوکڑی مچائی جاتی ہے۔
اس پس منظر میں ادارے کو بے توقیر کرانے، اسے متنازعہ بنانے، اسے اندر سے تقسیم کرانے کی جتن بھی کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ آئینی حدود کے اندر کردار کی ادائیگی کا مطالبہ بالکل درست ہے مگر یہاں اگر بات نفرت، غصہ، تعصب اور انتہا پسندی تک پہنچ جاتی ہے تو اپنا اثر کھو دیتی ہے۔
اس باب میں فی زمانہ سینیٹر مشتاق احمد خان کا انداز بہت مناسب ہے۔ بعض اوقات جذبات اور تلخی کا اثر نمایاں ہوتا ہے لیکن مجموعی طور پر ان کا موقف اور بیان متوازن، باوقار، سنجیدہ، سلجھا ہوا اور مہذب مگر ہوتا ہے جاندار اور جرات مندانہ۔
کل پرسوں پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سیکیورٹی کے اجلاس ہوا جس میں ذرائع کے مطابق بہت کھل کر بحث و مباحثہ ہوا اور میڈیائی رپورٹس کے مطابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے بڑی جرات مندی، دردمندی، سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ اہم امور کی نشاندہی کی۔ کہا جاتا ہے آرمی چیف، جنرل قمر جاوید باجوہ اور کور کمانڈر پشاور جنرل فیض حمید کے ساتھ براہ راست مکالمہ اور سوال و جواب ہوا جس نے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی پریشان اور مضطرب رکھا۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے جو موقف رکھا اس کا خلاصہ یوں ہے۔
”پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سیکیورٹی زیر صدارت وزیر اعظم شہباز شریف منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء۔ پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سیکورٹی کے ممبران کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان، وفاقی سیکرٹریز، صوبائی چیف سیکرٹریز، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی اور کور کمانڈر پشاور سمیت دیگر عسکری قیادت شریک رہی۔ پانچ گھنٹے چلنے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے حوالے سے اس مجلس میں جو موقف رکھا گیا وہ مختصراً یہ ہے۔
1۔ امن پاکستان کی ضرورت ہے، خیبر پختونخوا، قبائلی علاقوں کی ضرورت ہے۔ صلح سے کوئی ذی عقل اور ذی ہوش فرد انکار نہیں کر سکتا۔ دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ میں 150 ارب ڈالر پاکستان کا نقصان ہوا اور 75 ہزار ہمارے لوگ شہید ہو گئے ہیں۔ ایک لاکھ 3 ہزار اپاہج، معذور ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی سوشل فیبرک بری طرح متاثر ہوئی۔ اس لیے امن اور صلح یہ خطے، قبائلی عوام، خیبرپختونخوا اور پاکستان کی ضرورت ہے۔
2۔ وزیر اعظم صاحب پارلیمانی کمیٹی 26 افراد پر مشتمل ہے لیکن آپ نے 26 افراد کی پارلیمانی کمیٹی میں سے اضافی 96 افراد کو خصوصی دعوت پر بھی بلایا ہے، اس لیے اس کو پارلیمانی کمیٹی کا نام نہیں دینا چاہیے اس کوbroad based consultation یا وسیع البنیاد مشاورت کا نام دینا چاہیے۔ پارلیمانی کمیٹی کا اپنا ڈیکورم ہے اس کو رکھنا چاہیے ۔ آپ لوگوں کا نعرہ تھا کہ ووٹ کو عزت دو، پارلیمنٹ کو عزت دو تو میرا آپ سے مطالبہ ہے کہ پارلیمانی کمیٹی پارلیمانی کمیٹی ہوتی ہے یہ پارلیمانی کمیٹی نہیں broad based consultation ہے وسیع البنیاد مشاورت ہے۔ وسیع البنیاد مشاورت کی اہمیت سے انکار نہیں ہے وہ ہونا چاہیے بار بار کریں لیکن پارلیمانی کمیٹی اپنی جگہ پر ایک پارلیمانی اور جمہوری اہمیت کا ادارہ ہے۔
3۔ پارلیمانی کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس پہلے بھی ہونا چاہیے تھا دیر آید درست آید۔ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا ان کیمرہ سیشن بلانا چاہیے تاکہ اس پر ہمہ پہلو بحث کی جائے اور حقیقت میں پارلیمنٹ کی وزڈم کو بروئے کار لائی جا سکے۔
4۔ ماضی میں اس طرح کے اہم مسائل کے لیے پورے پولیٹیکل سپیکٹرم کے اتفاق رائے کو حاصل کیا گیا تھا، اب بھی across the board پولیٹیکل سپیکٹرم کا اتفاق رائے حاصل کرنا چاہیے اور جو سیاسی جماعتیں آج موجود نہیں ہیں ان کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔
5۔ علی وزیر منتخب ممبر قومی اسمبلی ہے جو پاکستان کی تین چار Hot Spots ہیں جہاں زیادہ امن و امان کی صورتحال خراب ہے ان میں ایک وزیرستان ہے، وہ آج اس مجلس میں نہیں ہیں۔ وزیر اعظم صاحب وہ آپ ہی کے اتحادی ہیں۔ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آئندہ اس طرح کے اجلاس میں ان کی شرکت یقینی ہو اور ان کو son of soil کی حیثیت سے ان بورڈ رکھا جائے۔
6۔ مسنگ پرسنز بہت بڑا ایشو ہے۔ مسنگ پرسنز سے انکار کسی طرح ممکن نہیں ہے، مسنگ پرسنز موجود ہیں، ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ ہر صورت میں ان کو واگزار کرایا جائے یہ ہماری ریاست کی چہرے پر ایک بدنما داغ ہے اور بشری حقوق کی ایک بہت بڑی خلاف ورزی ہے لہٰذا اس پورے process میں مسنگ پرسنز کو ہر صورت میں بازیاب کرانا چاہیے۔
ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات
1۔ دستور پاکستان کے دائرے میں ہونی چاہیے اور کسی صورت پاکستان کے دستور، قانون اور عدالتی دائرے سے باہر نہیں ہونے چاہیے ۔
2۔ فاٹا مرجرز سے آگے بڑھ کر فاٹا کی ہمہ گیر، ہمہ پہلو ترقی کے لیے جو وعدے کیے گئے ہیں ان کو عملی ہونا چاہیے ۔
3۔ فاٹا کے مرجر کو رول بیک کرنے کو کسی صورت نہیں چھیڑنا چاہیے ۔
4۔ پارلیمنٹ سے guidance لی جائے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے سے guide lines طے کی جائیں اور اس حوالے سے ہونے والی کسی بھی معاہدے کی حتمی منظوری پارلیمنٹ سے لی جائے۔
5۔ ضم اضلاع کے ساتھ ہونے والے 3 فیصد این ایف سی، ایک ہزار ارب کے ترقیاتی رقم، 40 ہزار کی بھرتیاں، میگا ترقیاتی پراجیکٹس، ہیلتھ کارڈ، 3 جی 4 جی، امن وامان کی بحالی یہ وہ بنیادی اقدامات ہیں جس سے صرف نظر کر کے نہ عوام مطمئن ہوں گے اور نہ علاقے میں دیر پا امن آ سکتا ہے۔
6۔ خیبرپختونخوا پولیس اور سول ایڈمنسٹریشن ضم اضلاع میں ریمورٹ کنٹرول ایڈمنسٹریشن نہ کرے خواہ پولیس ہو، سول ایڈمنسٹریشن ہو، عدالتیں ہوں وہاں پر برسر زمین سابقہ فاٹا میں جا کے اپنی ڈیوٹی دیں اور عوام کو ریلیف دیں۔
7۔ مقامی لوگوں پولیس، سول ایڈمنسٹریشن میں بھرتی کیا جائے تاکہ نظام مستحکم ہو اور آگے بڑھے۔
8۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر کراسنگ کو کھولا جائے اور افغانستان کے ساتھ تعلیم، تجارت، علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے سے پاکستان کے تعلقات کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے اور پاکستان کے امیج کو بہتر بنایا جا سکتا ہے لہٰذا افغانستان کے ساتھ جتنی بھی بارڈر کراسنگ ہے اس میں افغان عوام کو تعلیم، تجارت، صحت کی مکمل سہولیات کو ترجیح اول رکھا جائے۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عید الاضحٰی کے موقع پر افغانستان سے بھیڑ بکریوں کی پاکستان منتقلی پر بھی پابندی لگائی ہے۔ حیرت ہے کہ ہم آسٹریلیا سے قربانی کے جانور منگواتے ہیں اور اپنے پڑوس افغانستان سے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ ”
ہم اس جامع، بروقت اور جاندار موقف پر جناب مشتاق احمد خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ
سیاسی جماعتوں اور قیادت کو بھی سنجیدگی کے ساتھ اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ
خود اپنی کمزوریوں کو دور کر کے سیاسی و جمہوری کلچر کو دوام اور استحکام کیسے دینا ہے؟
سیاسی و جمہوری بالادستی صرف نعروں، دعووں اور بڑھکیں مارنے سے نہیں آئے گی۔ اس کے لیے بہت ہی دو ٹوک موقف اور واضح بیانیہ تشکیل دینا ہو گا۔
سب سے پہلے اپنی ہی جماعتوں میں سیاسی کلچر اور جمہوری رویوں کو رواج دینا ہو گا۔
اول و آخر بات یہ ہے کہ
تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو ”میثاق جمہوریت“ کر کے واضح اور متعین اہداف کے لئے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔
ملک کی بقا، تحفظ، استحکام اور ترقی و خوشحالی کے لیے لازمی ہے کہ پاکستانی عوام کو کھل کر آزادانہ اپنی رائے کے اظہار، اس کی قدر اور تحفظ کے مواقع فراہم کیے جائے۔
آئین کی پاسداری اور قانون کی بالادستی ہی ملک کی استحکام اور وقار اور تمام اداروں کی کارکردگی بہتر اور موثر کرانے کا واحد ذریعہ ہے۔

