ہماری پالیسیوں میں عدم تسلسل


دنیا میں اس وقت بہت سی اقوام آباد ہیں، ان میں سے کچھ کا شمار ترقی یافتہ اقوام میں ہوتا ہے اور کچھ کا ترقی پذیر اقوام میں۔ ہماری قوم کا شمار ترقی پذیر اقوام میں ہوتا ہے۔

اس کو آزاد ہوئے پچھتر برس ہونے کو ہیں، لیکن بد قسمتی سے یہ وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جو اس کا اقوام عالم میں ہونا چاہیے تھا۔ اس کے ساتھ اور بعد میں آزاد ہونے والی اقوام اس سے کہیں آگے نکل گئیں۔ جن میں ہمارا ہمسایہ ملک بھارت آج برطانیہ کی معیشت کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش جس نے ہم سے آزادی لی تھی، اس کا شمار بھی اب تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت میں ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی اس پچھتر سالہ تاریخ کا جائزہ لیں تو بہت سے عوامل ایسے تھے جنہوں نے اس ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔

جس میں سب سے بڑا عمل ہمارے ہاں پالیسیوں کا تسلسل میں فقدان کا ہے۔ ہماری آئے روز پالیسیاں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ ہم اپنی پالیسیوں کے تسلسل کے فقدان کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ 1947 سے لے کر 1957 تک ہمارے سات وزراء اعظم تبدیل ہو چکے تھے۔ نو سال بعد جو آئین بنایا، اس میں ضروری ترامیم کرنے کی بجائے اس کو تقریباً اڑھائی سال بعد ختم کر کے نیا آئین بنانا شروع کر دیا۔ اور فرد واحد اس ملک کا سر براہ بن گیا اور تھوڑی بہت جو جمہوریت کا نظام چل رہا تھا اس کا قلع قمع کر دیا۔

ایوب خاں کے دور میں پالیسیوں میں کچھ تسلسل آیا تو اس دور کی ترقی جنگ کی بھینٹ چڑھ گی۔ اسی کی دہائی میں بھی فرد واحد کی حکومت ہونے کے باوجود ہماری پالیسیاں آئے دن بدلتی رہیں۔ نوے کی دہائی میں تو آئے روز حکومتوں بھی بدلیں اور ہماری پالیسیاں بھی۔ اکیسویں صدی شروع ہوئی تو ہمارے ہاں کچھ سیاسی استحکام آیا لیکن پالیسیاں آئے دن پھر بھی بدلتی ہی رہیں۔ کسی بھی حکومت نے نہ تو کوئی طویل عرصہ کی پالیسی بنائی اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی۔ بلکہ حکومتوں کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ آنے والے الیکشن میں عوام کے پاس کیسے جانا ہے اور ووٹ کیسے حاصل کرنے ہیں۔ ہر حکومت اس پالیسی سے دور ہی رہی جس سے ملک کے لیے طویل عرصے تک فائدہ مند ثابت ہو۔

اگر ہم اب بھی ترقی کرنا چاہتے ہیں اور اپنی معیشت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ہم کو قلیل عرصے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے کی بھی پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ اور دوسرے ممالک کی طرح ان پالیسیوں میں تسلسل بھی قائم رکھنا ہو گا۔ تب ہی جا کر ہم اپنی معیشت اور قوم کو صحیح سمت میں گامزن کر سکے گے۔ اگر خدا نخواستہ اب بھی ایسا نہ سوچا گیا تو آنے والا وقت پھر ہمارے لیے بہت ہی دشوار ہو گا۔

Facebook Comments HS