کووڈ: ایک جائزے کے مطابق گلے میں خراش کوڈسب سے بڑی علامت ہو سکتی ہے
دیگر سب سے اہم علامات میں سر درد، بند ناک اور کھانسی تھے۔
تیز بخار، سونگھنے یا ذائقہ کی حِس میں کمی، جنہیں برطانیہ کا نظامِ صحت این ایچ ایس ممکنہ طور پر کووڈ علامات کے طور پر سرِ فہرست رکھتا ہے وہ علامات اب زیادہ عام نہیں ہیں۔
بھاری آواز ، چھینکیں، تھکاوٹ، پٹھوں میں درد اور چکر آنا جیسی علامتیں اب زیادہ ہیں ۔
کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟
کورونا کے بارے میں آپ کے سوال اور ان کے جواب
اومیکرون: انڈیا میں کووڈ کی نئی قسم کے دو کیسز کی تشخیص
کیا پاکستان میں کورونا وائرس کی ’تیسری لہر‘ بچوں کو زیادہ متاثر کر رہی ہے؟
زیو ایپ سٹڈی کے اعداد و شمار کے مطابق، کووڈ کی بیس علامات اس طرح ہیں:
•گلے میں خراش – 58 فیصد رپورٹ
•سر درد – 49 فیصد
•بند ناک -40 فیصد
•سوکھی کھانسی -40 فیصد
•بہتی ہوئی ناک -40 فیصد
•بلغم کے ساتھ کھانسی -37 فیصد
•کھردری آواز -35 فیصد
•چھینکیں -32 فیصد
•تھکاوٹ -26 فیصد
•پٹھوں میں درد – 25 فیصد
•ہلکا چکر آنا -18 فیصد
•سوجی ہوئی گردن یا غدود – 15 فیصد
•آنکھوں میں درد – 14 فیصد
•سونگھنے کی حس ختم ہونا – 13 فیصد
•سینے میں درد – 13 فیصد
•بخار – 13 فیص
•سردی لگنا یا کپکپی – 12 فیصد
•سانس لینے میں دشواری – 11فیصد
•کان کا درد – 11 فیصد
•ذائقے کی حس کم ہونا – 10 فیصد
‘ریئل ٹائم اسسمنٹ آف کمیونٹی ٹرانسمیشن’ یعنی ‘ ری ایکٹ ون ‘ جائزہ کے تحت ، ہر ماہ پورے انگلینڈ میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگو ں کو گھر پر سواب ٹیسٹ بھیجے جا رہے ہیں ۔
اس سے حاصل کردہ نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ جیسے جیسے وقت گذر رہا ہے کووڈ سے متاثرہ لوگوں کے علامات میں تبدیلی آئی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ اس بات پر منحصر ہو سکتا ہے کہ وائرس یا اس کی شکل وقت کے ساتھ کس طرح بدل رہی ہے ۔
ووہان سے نکلنے والے اصل وائرس کے بعد سے کووڈ کی مختلف شکلیں یا ویرینٹ سامنے آئی ہیں، جن میں تازہ ترین اومیکرون ہے۔
امپیریل کالج لندن کے ری ایکٹ ون کے محققین کا کہنا ہے کہ سونگھنے اور ذائقے کی حس ختم ہو جانا اومیکرون کے ساتھ کم عام دکھائی دیتا تھا۔ جبکہ اب لوگ زیادہ سردی اور فلو جیسی علامات کی اطلاع دے رہے ہیں۔
انہوں نے اصل اومیکرون کو دیکھا، جسے بی اے ون اور بی اے ٹو کہا جاتا ہے، جو مارچ 2022 میں پھیل رہا تھا۔
اس کے بعد سے اومیکرون کی دو نئی اقسام پھیلنا شروع ہوئیں جنہیں بی اے فور اور بی اے فائیو کہتے ہیں جس سے مزید نئے انفیکشن ہو رہے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں دو کروڑ ستر لاکھ افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں کووڈ ہو چکا ہے۔
پروفیسر ٹم سپیکٹر، جو زو ہیلتھ سٹڈی چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے ‘لوگوں میں کووِڈ اب بھی پھیل رہا ہے’۔
’یہاں تک کہ وہ لوگ بھی اس کی گرفت میں آ رہے ہیں جنہیں پہلے کوڈ ہو چکا ہے اور وہ ویکسین بھی لگوا چکے ہیں’۔
ان کا کہنا ہے ‘ اگرچہ ہم سب برطانیہ میں موسمِ گرما کا زیادہ سے زیادہ فائدہ لطف اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن لوگوں کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا بڑے پر ہجوم مقامات پر جانا، دفتر سے کام کرنا یا پر ہجوم پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے یا نہیں’۔
زو سٹڈی اور ری ایکٹ ون سٹڈی دونوں کو حال ہی میں حکومت کی جانب سے مالی اعانت فراہم کی گئی تھی۔


