اقبال کے بدتمیز شاہین
بات یہی ختم نہیں ہوئی عمران خان صاحب نے اس واقعے کی مذمت کے بجائے، اپنے ان حق پرست ”جذباتی کارکنوں“ کو سپورٹ کیا، ویسے تو سیاسی جماعتوں کے بدتمیز کارکن سوشل میڈیا پر تو گالیوں کے ٹرینڈز ایک دوسرے کے خلاف چلاتے رہتے ہیں۔ لیکن عمران خان صاحب کے آنے کے بعد یہ بدتمیزی صرف سوشل میڈیا ہی تک محدود نہ رہی۔ بلکہ اب دوسرے رہنماؤں کے آمنے سامنے بھی ایسی واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان نے اس کام کو آسمان کے بلندیوں تک پہنچایا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ کسی سیاسی رہنما کے ساتھ ایسا واقعہ ہوا ہو، اس سے پہلے بھی کئی بار ایسے واقعات ہوئے۔ ابھی چند ماہ پہلے ہی جب عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا رہی تھی۔ تو پی ٹی آئی ہی کے ایک ”بزرگ“ کارکن نے پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رکن نور عالم خان اور پی پی پی کے مصطفی نواز کھو کھر کو ایک ہوٹل میں لوٹا لوٹا کہہ کر مخاطب کیا اور نازیبا الفاظ استعمال کیے ، جس کے جواب میں مصطفٰی کھوکھر کی اس کارکن کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ (اس سے ہم یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جماعت کے ایک بزرگ کارکن کا ایسا رویہ ہے تو جوانوں یا یوتھ کیا کیسا حال ہو گا) ۔
چند سال پہلے ہی نون لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ بھی ایسا ہوا۔ ایک مدرسے میں تقریر کے دوران ایک مذہبی جماعت کے جذباتی کارکن نے اس کو جوتے مارا، اور اسی جماعت کے ایک کارکن نے احسن اقبال کو بھی گولی ماری تھی۔ بات یہی ملک کے اندر تک محدود نہیں ہے بلکہ کئی بار پاکستان تحریک انصاف کے کارکن لندن میں موجود نواز شریف کے گھر کے سامنے آ جاتے ہیں اور وہی چور چور کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔
جس سے میں باہر کی دنیا میں ہمارا ایک مثبت تصور نہیں جا رہا ، خیر آتے ہیں احسن اقبال صاحب کے واقعے کی طرف، جس میں عمران خان صاحب نے اپنی کارکنوں کو سپورٹ کیا، اور فرمایا کہ چور چور کو ہر جگہ چور ہی کہا جائے، اور ہونا چاہیے، ویسے اگر عمران خان باقی جماعتوں کو چور سمجھتا ہے تو وہ بھی تو عمران خان کو چور سمجھتے ہیں۔ ، اب اگر خدانخواستہ عمران خان صاحب کے ساتھ بھی کچھ ہو جائے اور وہ نون لیگ کے ورکرز کے بیچ پھنس جائے اور وہ چور نیازی چور کے نعرے لگا دے، تو کیا وہ برداشت کرپائے گا؟ کیا ایسا ان کو اچھا محسوس ہو گا؟ مجھے لگتا ہے نہیں۔
اور پھر اگر خدانخواستہ عمران کے ساتھ ایسا ہو جائے کہ دوسری جماعتوں کے کارکنان ان پر چور چور کے نعرے لگانے شروع کر دیں، تو عمران خان کے جذباتی کارکن، جو ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتے ہیں، وہ بھی خاموش بیٹھے گے تو نہیں، اپنا زور دکھائے گے، اور اگر ایسا شروع ہوا تو ملک خان جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔ کیونکہ دونوں پارٹیوں کے سپورٹرز ملک بھر میں موجود ہیں۔ میرے خیال میں تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو ایسی باتوں اور حرکات کی مذمت کرنی چاہیے جو وطن عزیز کو کسی بھی خطرناک حالات کی طرف دھکیل سکتے ہیں اور جو دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں، لیکن جب اسمبلی میں موجود رہنما خود ہی ایسے کام کریں، تو شکوہ کریں تو کس سے کر لیں۔


