ووٹوں اور لوٹوں کا مقابلہ
کچھ عرصہ پہلے مریم نواز گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لوٹوں کے خلاف بڑی زبردست تقریریں کیا کرتی تھیں، حالات کی ستم ظریفی ہے کہ آج انہیں لوٹوں کے حق میں بولنا پڑ رہا ہے اس صورتحال میں مجھے 90 کی دہائی کے ابتدائی سال یاد آ گئے، جب نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ ”عالمی ضمیر فروش کانفرنس“ کروایا کرتے تھے۔ ان کا سلوگن بڑا زبردست تھا یعنی ”عوام بیوقوف، لیڈر بے ضمیر“ ۔ اس صدی کے ابتدائی برسوں میں پرویز مشرف نے ایک پارٹی بنوائی، تمام کوششیں کرنے کے باوجود جب حکومت نہیں بن رہی تھی تو پھر پیپلز پارٹی پیٹریاٹ منظرعام پر آئی۔
اسی زمانے میں مشرف حکومت اور ایم ایم اے کا تنازعہ چل رہا تھا۔ جے یو آئی کے رہنما حافظ حسین احمد میرے پاس چھپے ہوئے تھے۔ ایک روز وہ صبح سویرے فون پر کسی سے بات کر رہے تھے کہہ رہے تھے کہ ”ہم ابن زیاد سے کیوں ملیں؟“ فون بند ہوا تو میں نے حافظ صاحب سے پوچھا کہ ابن زیاد تو پرانا کردار ہے، اب کون سا ابن زیاد پیدا ہو گیا اور یہ بھی بتا دیں کہ یہ فون کس کا تھا؟ حافظ حسین احمد کہنے لگے، ”یہ احتشام ضمیر کا فون تھا اور انہی لوگوں نے جنرل مشرف کے پرنسپل سیکرٹری کا نام ابن زیاد رکھا ہوا ہے۔ “ خیر اس فون کے بعد ہم ابن زیاد کے گھر گئے، وہ اور حافظ حسین احمد بات چیت میں مصروف ہو گئے۔
بی بی کی شہادت کے بعد 2008 ء کے الیکشن میں تاخیر کی گئی تاکہ پیپلز پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر سکے۔ 2013 ءکے الیکشن میں نون لیگ نے ق لیگ کے 145 افراد کو ٹکٹ جانے کس کے کہنے پر دیے اور رات ساڑھے دس بجے میاں نواز شریف پتہ نہیں کس سے دو تہائی اکثریت مانگ رہے تھے اور 2018 ء کے الیکشن میں عمران خان نے پتہ نہیں کس کے کہنے پر بہت سے لوگوں کو قبول کر لیا؟
2002 ء میں بات ابن زیاد تک تھی اور بات اب یزید تک پہنچ چکی ہے کیوں کہ عمران خان اپنے جلسوں میں یزید اور کوفہ کا تذکرہ کر رہے ہیں، میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ گھر کی گھنٹی بجی، پتہ چلا کہ بودی سرکار تشریف لائے ہیں۔ سو میں نے اپنے سارے سوال بودی سرکار کے سامنے رکھ دیے۔ حسب عادت پیر بودی سرکار غصے سے لال پیلے ہو گئے اور پھر اونچی آواز میں بولے تمہیں نہیں پتہ کہ دونوں پارٹیاں ہر صورت میں الیکشن جیتنا چاہتی ہیں نون لیگ کو تیرہ جماعتوں کے علاوہ انتظامیہ اور سسٹم کی حمایت حاصل ہے جب کہ عمران خان کے پاس عوامی طاقت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسا ہے، کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ پی ٹی آئی کے سربراہ بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف لوٹوں کے لیے انتخابی مہم چلانا مشکل ہو چکا ہے، کیا آپ کو پتہ ہے کہ حمزہ شہباز نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی بہت سے تبادلے کیے تھے، پابندی تو بعد میں لگی ہے، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کو منتخب وزیر اعلیٰ قرار نہیں دیا بلکہ اب وہ ایک ٹرسٹی کے طور پر ہیں مگر ان کا حکم تو چل رہا ہے اور انہوں نے جو وعدے سپریم کورٹ کے روبرو کیے تھے وہ غالباً سیاسی وعدے تھے، کیا آپ کو پتہ ہے کہ مناسب مہم نہ چلانے کے باعث نون لیگ کے چار وزرا مستعفی ہو چکے ہیں اور جس نے سب سے آخر میں استعفیٰ دیا ہے اسی کے تو ایکس وائی اور اے بی سے مضبوط رابطے ہیں۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ 20 اضلاع میں کس نے دفاتر بنائے ہیں اور ایک کنٹرول روم بھی بنایا ہے، کیا آپ کو پتہ ہے کہ 10 ارب روپے کہاں سے آئے اور جو الیکشن مہم میں استعمال بھی ہو رہے ہیں اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ تعینات کیے گئے پریذائیڈنگ افسروں کے انٹرویوز ہوئے ہیں، کیا آپ کو پتہ ہے کہ عمران خان کے پاس کس کی ویڈیوز اور کس کس کی آڈیوز موجود ہیں؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ رائے شماری کے ظاہری اور خفیہ شمارے پی ٹی آئی کو جتوا رہے ہیں؟ کیا آپ کو پتہ ہے کہ اب پلان بی پر عمل ہو گا جس میں دھونس اور دھاندلی شامل ہے کیا آپ کو پتہ ہے کہ پولنگ ڈے پر فائرنگ ہو گی؟ لوگوں کو ہراساں کیا جائے گا، کہیں پولنگ کا عمل سست ہو گا اور کہیں بیلٹ باکس تبدیل کرنے کا پروگرام ہے، اس کے علاوہ بھی اور بہت کچھ ہے۔ ”
بودی سرکار نے پھر چلانا شروع کر دیا کہ ”تمہیں پتہ ہے کہ یہ جو چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر سلطان سکندر راجہ ہے یہ سرگودھا کا رہنے والا ہے، گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد کنگ ایڈورڈ کالج میں پڑھا ہے۔ تمہیں پتہ ہے کہ یہ نواز شریف کے ایک سابق پرنسپل سیکرٹری کا داماد ہے، تم عجیب صحافی ہو تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کی ووٹ خریدنے کی ویڈیوز آئیں اور کچھ بھی نہ بنا، تمہیں نہیں پتہ کہ الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ہم سات ماہ الیکشن نہیں کروا سکتے۔ تمہیں نہیں پتہ کہ الیکشن کمیشن نے تو حمزہ کو ہوٹل اور گیلری میں جائز وزیر اعلیٰ بنوا دیا تھا یہ جو بیس ارکان ڈی سیٹ ہوئے، یہ تو عدالت کے حکم پر ہوئے۔ تمہیں نہیں پتہ کہ پی ٹی آئی کو پانچ مخصوص سیٹیں بھی عدالت نے لے کر دیں؟ تمہیں نہیں پتہ کہ ایک عدالت نے حمزہ کو فوراً وزیر اعلیٰ بنانے کا حکم دیا تھا یہ تو بڑی عدالت نے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا، کیا لوگوں نے اس ضمنی الیکشن میں نون لیگ کے امیدوار پی پی 7 راجہ صغیر کے پیسے دینے کی ویڈیو نہیں دیکھی مگر الیکشن کمیشن خاموش رہا، وہ سندھ سمیت کئی معاملات پر خاموش ہے“ ۔
بودی سرکار مجھے آپ کی باتیں بالکل سمجھ نہیں آ رہیں، میں تو عوام کے لئے سرور ارمان کا شعر ہی سنا سکتا ہوں کہ
بانجھ ہو کر رہ گیا جس وقت دھرتی کا بدن
تب ہمارے نام یہ جاگیر کر دی جائے گی


