ضمنی انتخابات اور پنجاب کی پگ


وفاق میں عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب بھی گزشتہ مہینوں سے سیاسی اور آئینی بحران کا شکار ہے۔ شہر اقتدار میں، جہاں اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ وہی ساتھ پنجاب میں بھی وزارت اعلی کی جنگ عروج پر ہے۔ جیسے تیسے بھی آخر کار حمزہ شہباز نے وزیراعلی کا حلف تو اٹھا لیا تھا۔ لیکن حمزہ شہباز پاکستان تحریک انصاف کے منحرف ارکان کے ووٹ سے کامیاب ہوئے تھے۔ حمزہ شہباز کو حلف اٹھائے پانچ ہفتے ہی گزرے اور ابھی کابینہ بھی نہیں بنی تھی۔ وفاق کی طرح پنجاب حکومت بھی جو مختلف کندھوں کے رحم وکرم سے بنی تھی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی ریفرنس پر فیصلہ دیتے اور آئین 63 اے کی تشریح کرتے ہوئے جو فیصلہ سنایا جس کے بعد پنجاب حکومت دھڑام سے گر گئی۔ عدالت عالیہ کے اس فیصلے نے جہاں وفاقی حکومت کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے وہی حمزہ شہباز اب آئینی اور قانونی طور پر اپنی وزارت اعلی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ لیکن لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق اور 17 جولائی کے ضمنی انتخابات کے بعد پنجاب میں وزارت اعلی کے لئے اسمبلی میں دوبارہ ووٹنگ کروائی جائے گئی۔

گورنر پنجاب کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو چند مہینے عجیب سی صورتحال بنی رہی۔ پانچ ہفتے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب، گورنر اور کابینہ کے بغیر چلتا رہا۔ (ن) لیگ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانے کے در پے رہی، لیکن صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور پاکستان تحریک انصاف گورنر پنجاب کو اپنے عہدے پر کام سر انجام دینے کا حکم دیتے رہیں۔ یوں دونوں جماعتوں کی انا اور زد کی وجہ سے پنجاب لاوارث اور بے یارو مددگار رہا، لیکن واہ مجال ہے کسی کے سر پہ جو تک رینگی ہو۔ عدم اعتماد پر ووٹنگ والے دن جو کچھ پنجاب اسمبلی میں ہوا، کسی شرمندگی سے کم نہیں۔ اسمبلی کے اندر گالم گلوچ سے لے کر مکے، ٹھوکروں، دھول دھپے تک جا بات پہنچی، وزیراعلی کے امیدوار چوہدری پرویزالہی زخمی بھی ہوئے۔ لیکن یہ اقتدار ایسی چیز ہے کہ ملک و قوم اورعزت و لحاظ اس کے آگے کچھ معنی نہیں رکھتے۔

سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے استعفی کے بعد صوبہ پنجاب سیاسی اور آئینی بحران کا شکار ہو چکا تھا۔ اور یہ بحران ہے کہ ابھی بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا، اور نہ یہ وڈ وڈیرے، جاگیردار سیاستدان چاہتے ہیں کہ یہ بحران ملک سے ختم ہو۔

حمزہ شہباز کے وزیراعلی بننے کے بعد ، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی نے پاکستان تحریک انصاف کے منحرف اراکین کے خلاف الیکشن کمیشن کو جو ریفرینس بھیج رکھا تھا۔ اس پر الیکشن کمیشن نے تین رکنی بینچ کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے، پاکستان تحریک انصاف کے 25 منحرف ارکان کو ڈی سیٹ کر دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد 17 جولائی کو ان 25 صوبائی سیٹوں پر پنجاب میں دوبارہ الیکشن ہونے جا رہا ہے۔ اب یہ تو وقت ہی طے کرے گا کہ 17 جولائی کے بعد پنجاب کا اگلا وزیراعلی کون ہو گا؟

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ملکی معیشت اس وقت کہاں کھڑی ہے۔ بھوک ننگ ملک کے گوڈے گوڈے چڑھی ہوئی ہے۔ عام آدمی اس وقت پریشانی کا شکار ہے۔ ان حکمرانوں نے حالات جس نہج تک پہنچا دیے ہیں۔ شاید اس کو سنبھالنا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔ عدم اعتماد لانے، اور اس کا ساتھ دینے والے اس وقت پریشانی کا شکار ہیں کہ یہ کیا ہو گیا ہے؟ وزیراعظم شہباز شریف اب ہر روز کسی کے گھر پہنچے ہوتے ہیں، تو کبھی اپوزیشن کو عشائیہ پر مدعو کیا ہوتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ کہ شہباز شریف خود کوئی بھی فیصلہ کرنے سے محروم ہیں۔

شہباز شریف اور زرداری صاحب کہہ رہے تھے کہ حالات کنٹرول سے باہر ہیں۔ عمران خان نے معیشت کا برا حال کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر آپ سب کو پتا تھا کہ حالات خراب ہیں۔ معیشت کا برا حال ہے۔ جب عام انتخاب میں ڈیڑھ سال ہی رہتا تھا، تو آپ کو عدم اعتماد کا پنگا لینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اور اب جب یہ پنگا لے ہی لیا ہے تو اس کا مقابلہ کرے، اپوزیشن میں ہوتے ہوئے تو آپ سابق حکومت کو افلاطون اور ارسطو بن کے معیشت کو مضبوط اور مہنگائی کو کم کرنے کے مشورے دیا کرتے تھے۔ تو اب کیا ہوا؟ کیا مہنگائی کم ہوئی؟ مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ کم ہوا؟

پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پورے پنجاب میں بھرپور جلسے اور عوامی پاور شو کیے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ مخالفین کا شیر سے پنجاب چھیننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا۔ حالانکہ پنجاب پچھلے 30 سالوں سے (ن) لیگ کے ہتھے چڑھا ہوا ہے۔ اور اس شیر نے جو تباہی پنجاب میں پھیری ہے۔ وہ کسی سے کوئی ڈھکی، چھپی نہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد پنجاب کی ”پگ“ کس کے سر سجتی ہے۔

Facebook Comments HS