ترکی میں یوم دفاع جمہوریت


15 جولائی 2016 کی شام ترک صدر رجب طیب اردوان نجی دورہ پر اہل خانہ کے ہمراہ ترکی کے خوبصورت مقام مرمریس میں ایک ہوٹل پر چھٹیاں گزار رہے تھے۔ رات 11 بجے فوجی جنگی جہاز ترکی کے دارالحکومت انقرہ پر منڈلاتے دکھائی دیے گئے جبکہ باسفورس سمندر پر ایشیا اور یورپ کو ملانے والے پل آمد و رفت کے لئے بند کرنے کی اطلاعات آنے لگیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کو بتایا گیا کہ فوج میں سے باغی گروپ نے انقرہ استنبول اور مرمریس پر قبضہ کر لیا ہے اور ملک بھر میں انتظامی امور کنٹرول کرنے کے لئے کارروائیاں کی جار ہی ہیں۔

ترک وزیر اعظم بنالی یلدرم نے فوجی اقدام کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ جو لوگ اس میں ملوث ہیں انہیں اس کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ رجب طیب اردوان کو ان کے مشیران نے مشورہ دیا کہ یونان قریب اور محفوظ ہیں وہاں چلے جاتے ہیں۔ خطرہ ظاہر کیا گیا کہ اگر رجیب طیب اردوان نے انقرہ یا استنبول جانے کی کوشش کی تو ان کے جہاز کو مار گرایا جائے گا جبکہ ان کے ہوٹل پر بھی حملہ ہونے کا خطرہ ہے۔ رجیب طیب اردوان نے تمام تر خطرات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک دلیر لیڈر ہونے کا ثبوت دیا اور استنبول جانے کا فیصلہ کیا۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کرنا شروع کیا کہ استنبول اتاترک ائرپورٹ پر ٹینک پہنچ گئے ہیں جبکہ ملک بھر میں ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب بلاک کر دی گئی ہیں۔ کچھ زیرحراست افراد کو فوجی ہیڈکوارٹر لایا گیا جن میں چیف آف جنرل سٹاف حلوصی اکار بھی شامل تھے۔ رات 9 بجے ترک بری فوج کے سربراہ صالح زکی چولاک کو ملٹری ہیڈکوارٹر بلایا گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ ترکش فضائیہ کے سربراہ عابدین اونال جو اس وقت استنبول میں ایک شادی کی تقریب میں شریک تھے کو ہیلی کاپٹر بھیج کر شادی کی تقریب سے اٹھا لیا گیا۔

چیف آف جنرل سٹاف حلوصی اکار کو مجبور کیا گیا کہ فوجی قبضے کا ڈیکلریشن جاری کریں مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا جس پر انہیں اکنجی ایئربیس پر لایا گیا جبکہ باقی زیرحراست افسران کو فوجی ہیڈکوارٹرز لایا گیا۔ فوج حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے استنبول دفتر میں گھس گئی اور لوگوں کو وہاں سے باہر نکال دیا۔ ابتدائی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ترک صدر رجیب طیب اردوان مرمریس میں ہیں اور محفوظ ہیں۔ رات 11 بجے انقرہ کے قریب گلباشی شہر میں پولیس ہیڈکوارٹرز اور پولیس ایئرفورس ہیڈکوارٹرز پر فوجی ہیلی کاپٹرز سے بم برسائے گئے جس سے 42 افراد شہید اور 43 زخمی ہو گئے۔

رات 11 : 50 بجے فوجیوں نے استنبول کے تکسیم سکوائر کو قبضہ میں لے لیا۔ رات 12 بجے انٹرنیشنل میڈیا (ریوٹرز) پر خبر چلی کہ فوج نے ترک قومی براڈکاسٹر ترکش ریڈیو اینڈ ٹیلی وژن کارپوریشن (TRT) کے انقرہ ہیڈکوارٹرز میں گھس گئے ہیں اور قومی نشریاتی ادارہ پر قبضہ کر لیا ہے۔ فوج نے اینکر تی جین کاراش کو لکھی ہوئی خبر پڑھنے کو دی جس کے بعد پوری قوم کو پتہ چلا کہ ملک پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔

ترک صوبہ ادانہ میں فوج نے نیم عسکری فورس جندرما کے صوبائی کمانڈ کے دفتر کی جانب جانے کی کوشش کی جسے مقامی پولیس اور جندرمہ نے ناکام بنا دیا اور فوجی اسلحہ بردار گاڑیوں کو بلاک کر دیا۔ جبکہ فوجی دستوں کو گارڈ ہاؤس سے نکلنے سے روک دیا۔ بتلس کے تاتوان ضلع میں ہیلی کاپٹرز نے شہر پر پروازیں کیں اور فائرنگ کی۔ دینزلی میں پانچ سو کے قریب افسرز اور نان کمیشنڈ افسر جو فوجی قبضہ میں ملوث تھے کو جندرمہ اور پولیس نے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا

کرس صوبہ میں پولیس ہیڈکوارٹرز کا فوجی گاڑیوں نے محاصرہ کر لیا اور پولیس چیف فاروق کارادومان کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ کوجیلی صوبہ جو استنبول کے ساتھ واقع ہے میں ترک سیل کے ڈیٹا سینٹر پر چھاپہ مارا گیا اور انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ملوث اہلکاران کو گرفتار کر لیا گیا مالاٹیا میں آرمی بیس کو پولیس نے قبضہ میں لے لیا اور پولیس گاڑیوں پر فائر کرنے والے افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

مرمریس جہاں ترک صدر رجب طیب اردوان موجود تھے، ان کے ہوٹل پر تین ہیلی کاپٹرز بھیجے گئے جن پر بم نصب تھے تاکہ ہوٹل پر حملہ کر کے رجب طیب اردوان کو قتل کر دیا جائے تاہم پولیس اور سپیشل فورس کمانڈ نے نے اس منصوبہ کو ناکام بنا دیا اور رجب طیب اردوان کو نہ صرف وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا اور پولیس نے بھرپور مزاحمت سے منصوبہ ناکام بنا دیا۔

مرسن صوبہ پر فوجی کمانڈ سے انتظامیہ اور پولیس کو بتایا گیا کہ فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔ مرسن کے گورنر اوزدیمر خان چاکاجاک اور ضلعی گورنر کو حراست میں لے لیا گیا۔ سکاریا کے گورنر کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا اور فوجی گاڑیوں ٹرکوں اور ملٹری جیپوں کا قافلہ ان کو لے کر جا رہا تھا کہ عوام کا سیلاب امڈ آیا، پولیس اور عوام نے مل کر اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور جس گاڑی میں گورنر تھے اس کا گھیراؤ کر لیا گیا۔ عوام اور پولیس گورنر آفس پہنچ گئے اور وہاں موجود فوجی دستوں سے ہتھیار لے کر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ شرناک صوبے میں جندرمہ کمانڈو برگیڈئیر جنرل علی عثمان گرجان اور 309 فوجیوں کو حراست میں لے لیا گیا جو فوجی بغاوت میں شریک تھے۔

ادھر رجب طیب اردوان نے سی این این ترک پر اپنا انٹرویو دیا جس میں انہوں نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے اور فوجی کرفیو کو مسترد کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی طاقت سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہے۔ ترک نائب وزیراعظم نعمان کورتولموش نے عوام سے براہ راست ٹی وی پر خطاب کیا اور کہا کہ حکمران جماعت اے کے پارٹی ابھی بھی اقتدار میں ہے۔ انقرہ کے میئر ملیح گوکچیک نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی۔

رجب طیب اردوان کا جہاز دالامان ائرپورٹ سے استنبول کے لئے بلند ہوا اور ان کے اتاترک ائرپورٹ پہنچنے سے پہلے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور پولیس نے مل کر ائرپورٹ کو کلیئر کروا لیا تھا۔ فرسٹ آرمی جنرل کمانڈ استنبول نے نیوز کانفرنس میں فوجی بغاوت کی مخالفت کی اور بتایا کہ کچھ لوگوں نے یہ اقدام کیا ہے صورتحال کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔ قومی نشریاتی ادارہ ٹی آر ٹی میں موجود فوجیوں کو عوام اور پولیس نے مل کر حراست میں لیا اور ادارہ کو قبضہ سے آزاد کرا لیا گیا۔

ٹینکوں اور ہیلی کاپٹرز سے ترکش پارلیمنٹ پر بم برسائے گئے اور بلڈنگ کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ باسفورس کے پل پر بھی عوام اور فوج میں لڑائی میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔ فوجی ہیلی کاپٹر کو ایف 16 طیارے سے مار گرایا گیا جبکہ انقرہ میں بھی فوجی ہیلی کاپٹرز کو حکومت کی حامی فورسز کے ہیلی کاپٹرز نے زمین پر اتار لیا۔ انقرہ کو نو فلائی زون ڈکلیئر کر دیا گیا اور کہا گیا کہ جو بھی ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر فضاء میں بلند ہوا اسے مار گرایا جائے گا۔

تاہم رات ساڑھے تین بجے ترک پارلیمان پر ایک بار پھر بم برسائے گئے جس سے 12 افراد شہید ہو گئے۔ رات 4 بجے رجب طیب اردوان جس ہوٹل میں قیام پذیر تھے اس پر دو سے تین ہیلی کاپٹرز سے اٹیک کیا گیا 15 مسلح کمانڈوز ہوٹل میں ہیلی کاپٹرز سے اترے اور فائرنگ شروع کر دی جس سے 2 پولیس اہلکار شہید اور 8 زخمی ہو گئے۔

رجب طیب اردوان حملہ سے قبل استنبول کے لئے اڑان بھر چکے تھے۔ انہوں نے رات 4 بجے جبکہ ائرپورٹ سے اپنا خطاب نشر کیا۔ صبح 6 بجکر 30 منٹ پر جبکہ ائرپورٹ کے باہر لاکھوں لوگ جمع تھے رجب طیب اردوان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ ترکی میں فوج نہ تو ریاست چلا سکتی ہے اور نہ ہی ریاست کو لیڈ کر سکتی ہے، وہ نہیں کر سکتے، وہ جو پنسلوینیا (امریکہ) میں ہیں وہ اس فوجی بغاوت کے پیچھے ہیں۔ فتح اللہ گولین امریکہ میں ہیں اور اس فوجی بغاوت کے پیچھے ان کا ہاتھ بتایا جا رہا تھا۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ میں فوج میں صفائی کرنا چاہتا تھا، یہ بغاوت اللہ کی طرف سے ایک انعام ہے۔

ترک آرمی ہیڈکوارٹرز میں پولیس نے آپریشن کیا جس میں 700 فوجیوں نے سرینڈر کیا جبکہ 150 مسلح فوجیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ صبح کے وقت باسفورس پل بلاک کرنے والے فوجیوں نے بھی پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور گرفتاری دیدی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بغاوت میں 8651 سپاہیوں، 1676 افسران، 1214 ملٹری اکیڈمی طلبہ، 74 ٹینک، 172 آرمرڈ گاڑیوں، 35 جہازوں (جن میں 24 فائٹر جیٹ تھے ) ، 37 ہیلی کاپٹروں، 3 وارشپس نے حصہ لیا۔

جبکہ ان کے مقابلے میں 97 فیصد ترک آرمڈ فورسز، 66 فیصد ملٹری لیڈرشپ اور ترک کے عوام تھے۔ باغیوں میں سے 104 (متضاد رپورٹس) جبکہ بغاوت کے خلاف جمہوریت کے دفاع میں کھڑے ہونے والوں میں 67 پولیس افسران اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ 350 سویلین شہید 2185 زخمی ہوئے۔ ناکام بغاوت کے بعد 10012 باغی فوجیوں، 1481 عدلیہ ممبران کو گرفتار کیا گیا، 48222 گورنمنٹ افسران و ملازمین کو معطل کیا گیا، 3 نیوز ایجنسیوں، 16 ٹی وی چینلز، 23 ریڈیو سٹیشنز، 45 اخبارات، 15 میگزین اور 29 پبلشرز پر پابندی لگا دی گئی، 93 تعلیمی ادارے جن کا تعلق گولین سے تھا کو بھی بند کر دیا گیا۔ محکمہ تعلیم کا 15 ہزار سٹاف معطل، نجی تعلیمی اداروں کے 21 ہزار اساتذہ کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے، 77 ہزار افراد کو مجموعی طور پر گرفتار کیا گیا جبکہ 1 لاکھ 60 ہزار افراد کو نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا۔

یوں ترک قوم نے اپنی جمہوریت کے تحفظ کے لئے بھرپور جنگ لڑ کر اپنی قیادت کو سرخرو کیا اور ایک عظیم قوم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

Facebook Comments HS