کیا سپریم کورٹ تفتیش کر سکتی ہے؟


سازشی مراسلہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے تفصیل کے ساتھ سنا دیا اور ساتھ تفصیل بتا بھی دی۔ لیکن عمران خان سمیت چوہدری فواد اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ فواد چوہدری کا سٹانس سیاسی ہے جب کہ عمران خان کا سٹانس بڑا عجیب و غریب ہے۔ وہ اس لئے کہ عمران خان سپریم کورٹ پر انگلی اٹھا کر یہ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے اس مراسلے کی تفتیش ہی نہیں کی۔

اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا سپریم کورٹ کسی کیس کی تفتیش کر سکتی ہے یا سپریم کورٹ کے علاوہ ہائی کورٹ یا کوئی بھی ماتحت عدالت کسی کیس کی تفتیش کر سکتی ہے اور قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے۔

سب سے پہلے تو میں یہ بتاتا چلوں کہ بدقسمتی سے ہمارے پورے ملک میں تفتیش کا کوئی باضابطہ ادارہ نہیں پولیس یا دیگر ادارے یہ کام کسی حد تک معمول کے ٹریننگ اور بعد میں اس اداروں کے موجود اسلاف یا سروس کے لحاظ سے تجربہ کار گورو احباب سے تفتیش کے گر سیکھتے ہیں یعنی کسی کیس کے اندراج کے بعد تفتیش کیسے کی جائے؟ کہاں کمی کرنی ہے اور کہاں زیادتی؟ کہاں کسی کو بچانا ہے اور کہاں کسی کو پھنسانا ہے؟ یہ سب کچھ تفتیشی افسر اپنے سروس کے دوران اپنے پہلے سے موجودہ ذمہ داروں سے سیکھتے ہیں۔

اکثر تفتیش اے ایس آئی کے رینک سے شروع ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض سپیشل قوانین میں اے ایس آئی کے رینک کے افسر نہ کسی کو گرفتار کر سکتا ہے اور نہ گرفتاری کا فرد بنا سکتا ہے جیسے کہ انسداد منشیات کے ایکٹ انیس سو ستانوے کے دفعہ اکیس اور بائیس کے تحت یہ پروویژنز موجود ہیں۔

پاکستان میں تفتیش کے لئے ضابطہ فوجداری کے تحت دفعہ 156 تفتیش کے لئے قانونی مواد فراہم کرتا ہے۔ اور وہ مثال کے طور پر اگر زیر دفعہ 154 کوئی قابل دست انداز پولیس جرم میں کوئی ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج ہوتی ہے تو یہ کام کسی بھی تھانے میں ایڈمنسٹریشن کے ساتھ ہوتا ہے لیکن جوں ہی ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو تفتیشی برانچ میں کسی آئی او یعنی انویسٹیگیشن افسر کے پاس بمع جملہ دستاویزات اور متعلقات انٹرسٹڈ ہوجاتا ہے۔

جس کے بعد وہ تفتیشی افسر ریمانڈ کی کارروائی اور ملزم کو جیل کسٹڈی کرانے کے بعد چارج شیٹ کی تیاری کراتے ہیں جو وہ کم سے کم چودہ اور زیادہ سے زیادہ سترہ دنوں میں زیر دفعہ 173 ضابطہ فوجداری پولیس رپورٹ کی شکل میں متعلقہ کورٹ آف لاء میں ڈسٹرکٹ پروسیکیوٹر یا ان کے اسسٹنٹ یا ڈپٹی کے توسط سے داخل دفتر کراتے ہیں۔

تفتیش کے اس پورے عمل میں عدالت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے البتہ یہ ضروری نہیں کہ عدالت پولیس کی اس تفتیش سے ایگری کرے ڈس ایگری بھی کر سکتے ہیں دونوں صورتوں میں خواہ وہ چارج شیٹ ملزم کے فیور میں ہوں یا مخالف میں لیکن اگر عدالت ایک بار اس چالان پر اپنا کاگنیزنس لیتی ہے تو پھر وہ اگر مجسٹریٹ ٹرائل ہو تو اپنے پاس رکھتا ہے اور اگر سیشن ٹرائل ہو تو سیشن کورٹ بھیج دیا جاتا ہے۔

پھر یہ کیس گواہان کے طفیل ٹرائل ہوتا ہے جس پر پھر عدالت سزا اور جزا کا فیصلہ کرتی ہے۔

اب اگر ماتحت عدالت تفتیش میں کوئی عمل دخل نہیں کر سکتی جو کہ ٹرائل کورٹ کہلاتی ہیں تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تو اپیل کی عدالتیں ہیں وہ کیسے کسی کیس میں تفتیش کر سکتی ہیں۔

اور پھر یہ تو سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس کا کیس تھا اور مطالبہ بھی عمران خان کا تھا اور دستاویزات بھی پی ٹی آئی یا عمران خان کو فراہم کرنا تھی اور سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں واضح کہہ چکی ہے کہ پی ٹی آئی اس سازش سے متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

لیکن ہماری سیاسی قیادت اپنے کھلے جلسوں میں کھلے میڈیا کے سامنے ایسے ایسے الزامات یا ارشادات اپنے زبان سے ادا کرتے ہیں کہ ذی شعور اور تھوڑا سا سمجھ بوجھ رکھنے والا فرد سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ عوام تو سب کچھ سنتے اور سب کے جلسوں میں جمع ہوتے بھی رہتے ہیں لیکن خواص کیا کریں اندر ہی اندر کڑھتے رہتے ہیں یا پھر ہمارے جیسا کوئی عوامی بندہ اس پر قلم اٹھا کر دل کے پھپھولے پھوڑ دیتا ہے۔

Facebook Comments HS