دنیا کی جنت کا پاکستان سے الحاق


1947 میں آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے ایک اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی جس میں مہاراجہ سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں اور مہاراجہ کو کشمیریوں کی خواہشات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

27 اکتوبر 1947 ء کو کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب رقم ہوا اس روز بھارتی مسلح افواج تمام بین الاقوامی اصول و ضوابط اور قوانین کو اپنے پاؤں تلے روندتے ہوئے وادٔ کشمیر میں داخل ہوئیں۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے دارالحکومت سرینگر سے فرار ہونے کے بعد جموں میں پناہ لی اور بھارت کے ساتھ ایک نام نہاد الحاق کا ڈرامہ رچایا جس کے فوری بعد بھارت نے بڑے پیمانے پر اپنی افواج کو کشمیر میں داخل کر دیا۔ بھارت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے حکم پر رائل انڈین ائر فورس کا پہلا ڈکوٹا طیارہ صبح نو بجے سرینگر کے ہوائی اڈے پر اتر گیا اس طرح دو قومی نظریے اور تقسیم بر صغیر کے مسلمہ اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کے حق آزادی پر شب خون مارا گیا۔ اس سازش میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن، وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور مہاراجہ ہری سنگھ کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے صدر شیخ محمد عبداللہ بھی برابر کے شریک تھے جسے کشمیر کے بھارت کے ساتھ انضمام کی صورت میں اقتدار کا لالچ دیا گیا تھا۔

ایل او سی کے دونوں اطراف اور دنیا کے دیگر حصوں میں رہنے والے کشمیریوں کی طرف سے ہر سال 19 جولائی کو یوم پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ وہ بھارتی تسلط سے مکمل آزادی چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ مسلسل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی قرارداد کے تناظر میں کشمیر پر بھارتی تسلط بے جا اور مجرمانہ ہے جبکہ بھارتی ریاست معصوم کشمیریوں کو بے جا ظلم و تشدد کا بھی نشانہ بناتی ہے

کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو روکنے کے لئے بھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا، ہندوستان کا یہ عمل کشمیریوں کے ساتھ غداری ہے جبکہ وہ 75 سالوں سے اقوام متحدہ کی قرار داد کے خلاف عمل پیرا ہیں

بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق 94 ہزار 888 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے جبکہ 1990 ء کے بعد بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کے ہاتھوں 7099 افراد دوران حراست شہید کیے گئے۔ اس عرصے میں ایک لاکھ 43 ہزار 48 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک لاکھ 8 ہزار 596 رہائشی مکانوں اور دیگر تعمیرات کو نذر آتش کیا گیا۔ قابض بھارتی فوج نے خواتین کی آبروریزی کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور اب تک 11 ہزار 36 خواتین کی عصمتوں کو پامال کیا گیا۔

جولائی 2016 ء میں برہان وانی کی بھارتی فوج کے ہاتھوں ایک کارروائی کے دوران شہادت کے بعد کشمیر میں تحریک انتفادہ نے ایک نیا رخ اختیار کیا اور لوگ قابض بھارتی سامراج کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے، انہوں نے بھارتی تسلط کے خلاف بھرپور ردعمل کا اظہار کیا جس نے کشمیر کی تحریک آزادی میں ایک نئی جان ڈال دی۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں سیکڑوں لوگوں کو شہید کیا گیا اور 20 ہزار 873 افراد کو زخمی کیا گیا۔

اس عرصے میں بھارتی فوج نے نہتے نوجوانوں پر مہلک ”پیلیٹ گنوں“ کا بے دریغ استعمال کیا۔ پیلیٹ گنوں کے استعمال سے 8355 کشمیری نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے 73 نوجوان اپنی بینائی سے محروم ہوئے جبکہ 207 نوجوانوں کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی اور 974 نوجوانوں کی دونوں آنکھیں متاثر ہوئیں۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد 18 ہزار 990 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ان میں سے 818 کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا۔

2017 ء میں قابض افواج اور مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی انتظامیہ نے بھارتی حکومت کے احکامات پر حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند قائدین اور سرگرم رہنماؤں کو بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کے ذریعے من گھڑت مقدمات کے تحت گرفتار کیا اور وہ اس وقت نئی دہلی سمیت کئی جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔ یہ سب کچھ انہیں مرعوب کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے تاہم ایسے ہتھکنڈے کشمیریوں کو اپنی منزل سے دور نہیں کر سکتے۔

کشمیری عوام 1947 ء سے بالعموم اور 1988 ء سے بالخصوص آزادی کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں جو دراصل ’تحریک تکمیل پاکستان‘ ہے۔ کشمیریوں نے بھارتی تسلط سے آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ بھارتی قابض افواج نے حالیہ عرصے کے دوران مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کی ہیں۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر میں اب تک بڑی تعداد میں نہتے مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا موقف ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بڑے پیمانے پر تعیناتی اور کالے قوانین کا نفاذ مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا باعث بن رہا ہے۔

ظلم و جبر سے نجات کے خاطر مقبوضہ وادی کے کشمیری بھائی بہن 19 جولائی کو یوم پاکستان مناتے ہیں۔

Facebook Comments HS