عمران خان اور میر جعفر
نو اور دس اپریل 2022 کی درمیانی شب کو ایک عدم اعتماد کی کامیاب تحریک کے نتیجے میں جب آخر کار سابق وزیر اعظم عمران خان صاحب کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا تو انہوں نے اپنے منحرف ساتھیوں کو میر جعفر کے لقب سے مخاطب کیا۔ جرمنی جاپان کا بارڈر ہو یا خلافت تحریک، عمران خان صاحب ویسے بھی حقائق کو مسخ کرنے میں بھر پور شہرت رکھتے، مگر کیا طاقت کے ایوانوں میں ’میر جعفر‘ سراج الدولہ کی حکومت زمین بوس کرنے کی حیثیت رکھتے تھے یا عمران خان صاحب آدھا سچ بیان کر رہے ہیں؟
ہندوستان کی تاریخ میں غدار کی پہچان رکھنے والا کردار میر جعفر علی خان ( 1765۔ 1691 ) جو کہ نواب سراج الدولہ ( 1757۔ 1733 ) کے سپاہ سالار تھے، نے بنگال کا تخت جنگ پلاسی کے بعد ایک خونی انقلاب سے حاصل کیا۔ چونکہ سراج الدولہ مغل سلطنت کے نواب تھے اور میر جعفر کی تخت نشینی ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا حکومتی معاملات میں مداخلت کے ایک نئے دور کا آغاز ہے تو ہندوستانی تاریخ نویسوں نے بھی حقائق کو اپنی پسند کے حساب سے بیان کیا ہے۔
تاریخ کا یہ باب جو کہ قدر اوجھل رہا، وہ یہ کہ سراج الدولہ کو تخت سے رخصت کرنے اور میر جعفر کو بنگال کی نوابی سونپنے کی گرینڈ اسکیم کے اصل ماسٹر مائنڈ بنگال کے انتہائی طاقتور و سرمایہ دار ’بینکار‘ تھے۔
سراج الدولہ کو تخت اپنے نانا علی وردی خان سے ملا تھا۔ کیونکہ علی وردی خان کا اپنا کوئی بیٹا نہ تھا اور سراج ان کا چہیتا نوا سہ، یہی وجہ تھی کہ وہ سراج الدولہ کی ہر اچھی بری بات کو نظر انداز کرتے تھے۔ علی وردی خان کا اپنے نواسے سے محبت کا یہ عالم تھا کہ جب 1750 میں جب سراج نے اپنے ہی نانا کے خلاف بغاوت کی تو اس کو بھی معاف کیا اور ایک محبوب کی طرح مخاطب کیا۔ جب نوجوان اور نا تجربہ کار سراج الدولہ کی تخت نشینی ہوئی تو ان کی عمر فقط 23 سال تھی اور اپنے مدبر نانا کے برعکس امور مملکت سے مکمل نا واقف تھے۔
سراج کے اپنے کزن غلام حسین خان کے مطابق وہ ایک نا عاقبت اندیش شہزادہ تھا۔ اس نے ریاست کے پرانے وفادار عہدیداروں اور فوجی افسران سے اس حد تک توہین آمیز رویہ رکھا ہوا تھا کہ وہ سراج کے سامنے سانس تک لینے سے ڈرتے تھے۔
اس سب کے باوجود سراج الدولہ کے زوال اور بھیانک انجام کی سب سے بڑی وجہ سراج کا بنگال کے سب سے بڑے سرمایہ دار جگت سیٹھ بینکاروں سے اس کا ہتک آمیز رویہ تھا۔ یہ وہی جگت سیٹھ بیکار تھے جو 1740 میں اس کے نانا علی وردی خان کو اقتدار میں لائے تھے۔ غلام حسین خان کے مطابق سراج الدولہ جگت سیٹھ کو مختلف طریقوں سے دھمکیاں دیتا اور کثیر سرمائے کا مطالبہ کرتا، یوں اس نے ریاست کے سب سے طاقتور لوگوں کو اپنے سے دور کیا۔
جگت سیٹھ بینکاروں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے خاطر سراج الدولہ کو اقتدار سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس ضمن میں 11 جون 1757 کو بینکار جگت سیٹھ، میر جعفر اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کے تحت ایسٹ انڈیا کمپنی اور رابرٹ کلائیو کو ان کی خدمات کے بدلے ڈھائی کروڑ روپیہ (موجودہ دور کے 325 ملین برطانوی پاونڈز) اور دیگر مراعات کا وعدہ کیا گیا اور اس طرح بینکاروں کا ایک فرنٹ مین ہندوستان کے ایک انتہائی دولت مند خطے کا حکمران بنا! یہ ہندوستانی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے جب ایک کاروباری کارپوریشن کی نجی ملیشیا/آرمی نے مقامی بینکاروں کے سرمائے سے انقلاب برپا کیا تھا۔
اب چونکہ عمران خان صاحب اقتدار سے الگ ہوچکے ہیں تو ان طاقت ور طبقات سے نبرد آزما ہو رہے ہیں جن کی ایما اور منشا سے وہ اقتدار میں آئے تھے۔ عمران خان صاحب نے بھی اپنے فنانسرز جہانگیر ترین، علیم خان اور دیگر سے منہ پھیرا اور نوبت یہاں تک آئی کہ اپنے اقتدار کی آخری رات مکمل کابینہ بھی ان کے ساتھ نہ تھی۔ نا تجربہ کاری اور گھمنڈ سے بچا تو صرف غدار غدار اور میر جعفر کے نعرے۔ کاش کے سابق وزیر اعظم نے میر جعفر کی ہی تاریخ ٹھیک سے پڑھی ہوتی تو اپنی نا عاقبت اندیشی کے نتیجے میں اقتدار سے رخصتی کی ذمے داری امریکی خط و سازش پر نہ ڈالنے پڑتی۔
حوالہ:
( 1 ) ’آ میموئیر آف دی مغل ایمپائر‘ از لا، 1757
( 2 ) ’سیر متقہرین‘ از سید غلام حسین خان طباطبائی، 1790
( 3 ) ’دی رول آف مرشد آباد ایز آ ریجنل اینڈ سب ریجنل سینٹران بنگال‘ از فیلپ بی کیلکنز، 1969
( 4 ) ’دی انارکی‘ از ولیم ڈیلرمپل، 2020




