تیسرا ون ڈے : ہارِدک پانڈیا اور رشابھ پنت نے بھارت کو جتوا دیا، کوہلی کے ستارے ابھی بھی گردش میں
انڈیا نے انگلینڈ کے خلاف اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلا گیا تیسرا اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل 5 وکٹوں سے جیت کر سیریز دو ایک سے اپنے نام کرلی۔
انڈیا کو مشکل صورتحال سے نکال کر جیت کی راہ دکھانے والے ہاردک پانڈیا اور رشابھ پنت تھے۔ پنت نے اپنی پہلی ون ڈے انٹرنیشنل سنچری سکور کی۔
انگلینڈ نے ٹیسٹ ٹیم کا کوچ اور کپتان بدلا ہے اور یہ تبدیلی اسے راس آئی ہے۔ برینڈن مک کلم اور بین سٹوکس کی جوڑی اسے جیت کی ڈگر پر لے آئی ہے تاہم اوئن مورگن کی جگہ وائٹ بال ٹیم کی کپتانی سنبھالنے والے جوز بٹلر اور نئے کوچ میتھیو موٹ کو صحیح سمت میں آنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہے ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ کی ناکامی ہے۔
اتوار کے روز مانچسٹر کے اولڈ ٹریفرڈ گراؤنڈ میں انڈین ٹیم کی جیت کے ساتھ تینوں فارمیٹ والی کرکٹ کا یہ دورہ بھی مکمل ہوا جس میں اسے کووڈ کی وجہ سے گذشتہ سال کے ملتوی شدہ ایجبسٹن ٹیسٹ میں سات وکٹوں سے شکست ہوئی جس کی وجہ سے انگلینڈ نے یہ سیریز دو دو سے برابر کردی لیکن انڈیا نے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے دونوں سیریز میں فتح حاصل کی۔
بھارت کی تیسری پوزیشن برقرار
آخری ون ڈے انٹرنیشنل میں انڈیا کی جیت اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کی وجہ سے ون ڈے انٹرنیشنل کی عالمی رینکنگ میں اس کی تیسری پوزیشن برقرار رہی ہے۔ اگر بھارتی ٹیم یہ میچ ہار جاتی تو اس کی جگہ پاکستان تیسرے نمبر پر آجاتا۔
عالمی ون ڈے رینکنگ میں نیوزی لینڈ ِاس وقت پہلے اور انگلینڈ دوسرے نمبر پر ہے۔
انگلینڈ سیریز میں تیسری بار آل آؤٹ
روہت شرما نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کی ٹیم کو پہلے بیٹنگ دی جو اپنی اننگز کے پورے پچاس اوورز کھیلنے سے پہلے ہی 259 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔
اس ون ڈے سیریز میں یہ تیسری مرتبہ ہوا ہے کہ انڈین بولرز نے انگلینڈ کو آل آؤٹ کیا ہے۔
اس سے قبل اوول کے پہلے میچ میں انگلینڈ کی ٹیم صرف 110رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی جبکہ لارڈز کے دوسرے میچ میں وہ 246رنز پر دس وکٹیں گنوابیٹھی تھی۔
اولڈ ٹریفرڈ میں انڈین بولنگ اٹیک اگرچہ جسپرت بمراہ کے بغیر تھا جو کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں لیکن ان کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے والے محمد سراج نے اپنے پہلے ہی اوور میں انگلینڈ کی کمر چٹخا دی۔
آؤٹ آف فارم جیسن روئے نے اگرچہ محمد شامی کے پہلے ہی اوور میں تین چوکے لگائے لیکن محمد سراج نے اگلے ہی اوور میں جانی بیرسٹو اور جو روٹ کو پویلین بھیج دیا۔ان دونوں کو اپنا کھاتہ کھولنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
انگلینڈ کے لیے سب سے زیادہ پریشانی اس کے اہم بیٹسمینوں کا بڑا سکور نہ کرنا ہے۔
ٹیسٹ کی عالمی رینکنگ کے نمبر ایک بیٹسمین جو روٹ نے انڈیا کے خلاف اس ون ڈے سیریز میں صفر۔ 11 اور صفر کی مایوس کن کارکردگی دکھائی ہے۔
جان بیرسٹو اس سال ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے کامیاب بیٹسمین ہیں لیکن اس ون ڈے سیریز میں وہ صرف 7 ۔ 38 اور صفر کے ہند سے سکور شیٹ میں درج کرا پائے ہیں۔
جیسن روئے ٹی ٹوئنٹی سیریز اور پھر پچھلے دونوں ون ڈے میچوں میں معمولی سکور پر آؤٹ ہونے کے بعد تیسرے میچ میں اگرچہ 41 رنز کی اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن مایوسی کے بادل نہیں چھٹے ہیں۔
کپتان جوز بٹلر جنھوں نے ہالینڈ کے خلاف 162 ناٹ آوٹ اور86 رنزناٹ آؤٹ کی دو بڑی اننگز کھیلی تھیں انڈیا کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ان کا سب سے بڑا سکور محض 18 تھا جبکہ پہلے دو ون ڈے میں 30 اور 4 رنز کے بعد وہ تیسرے میچ میں نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہو پائے۔
محمد سراج کے بعد ہاردک پانڈیا بھی ایکشن میں آئے۔
جیسن روئے اور بین سٹوکس کو آؤٹ کر کے انھوں نے انگلینڈ کےلیے ایک بڑے اسکور تک پہنچنے کے راستے میں مزید رکاوٹ کھڑی کردی۔ بین سٹوکس کا حال بھی اس ون ڈے سیریز میں اپنے دیگر ساتھیوں سے کسی طور مختلف نہیں رہا ہے۔
انگلینڈ کے لیے سکور بورڈ پر ایک معقول سکور سجانے کی آخری امیدیں کپتان جوز بٹلر اور معین علی سے وابستہ تھیں۔
دونوں نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 75 رنز کا اضافہ کیا۔
رویندرا جادیجا نے یہ شراکت معین علی کو آؤٹ کر کے ختم کی جنھوں نے دو چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے34 رنز سکور کیے۔
جوز بٹلر نے پچھلی پانچ ناکام اننگز کا ازالہ نصف سنچری کے ذریعے کرنے کی کوشش کی تاہم ٹاپ آرڈربیٹنگ کو جتنا بڑا جھٹکا لگ چکا تھا اس کے بعد انگلینڈ کی ٹیم ایک بڑے سکور تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔
جوز بٹلر کو لیئم لیونگ سٹون کی شکل میں ایک ایسا پارٹنر ملا جس سے سکور میں تیز رفتاری سے اضافے کی توقع کی جاسکتی تھی۔
لیئم لیونگ سٹون کو دنیا اس اننگز کی وجہ سے یاد رکھتی ہے جو انھوں نے گذشتہ سال ٹرینٹ برج کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کھیلی تھی جس میں انھوں نے نو چھکوں اور چھ چوکوں کی مدد سے103 رنز بنائے تھے لیکن بھارتی بولنگ نے انہیں سر نہیں اٹھانے دیا۔
ہاردک پانڈیا کا چھٹا اوور انگلینڈ پر بجلی بن کر گرا۔ اگرچہ پہلی ہی گیند پر لیونگ سٹون نے چھکا لگایا لیکن دو گیندوں کے بعد انھوں نے گیند کو جادیجا کے ہاتھوں میں جاتی دیکھ لی۔
اسی اوور کی آخری گیند پر جوز بٹلر کی 60 رنز کی اننگز بھی جادیجا کے کیچ کی صورت میں تمام ہوگئی۔
ہاردک پانڈیا نے اپنی بولنگ کا اختتام 24 کے عوض 4 وکٹوں پر کیا جو ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی بہترین انفرادی بولنگ بھی ہے۔
لیگ اسپنر یوزویندرا چاہل نے انگلینڈ کی آخری تین وکٹیں صرف نو گیندوں پر حاصل کر کے بساط لپیٹ دی۔
پانڈیا اور پنت فتح گر
انڈین ٹیم ان دنوں جب بھی اپنی بیٹنگ شروع کرتی ہے صرف ایک ہی سوال ہوتا ہے کہ وراٹ کوہلی ناکامی کا جمود توڑنے میں کامیاب ہوسکیں گے یا نہیں؟ اور کپتان روہت شرما کو ہر بار اس سوال کا یہی جواب دینا پڑتا ہے کہ بس ایک اننگز کی بات ہے سب ٹھیک ہو جائے گا۔
260 رنز کے ہدف کو عبور کرنے کے لیے انڈیا کو ایک مستحم اوپننگ شراکت کی ضرورت تھی لیکن دوسرے ہی اوور میں ریس ٹوپلی شکھر دھون کو صرف ایک رن پر آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔
شکھر دھون تین سال قبل آسٹریلیا کے خلاف ورلڈ کپ کی سنچری کے بعد سے 20 اننگز سنچری کے بغیر کھیل چکے ہیں۔
روہت شرما نے اگرچہ تین چوکوں کے ساتھ اننگز کی ابتدا پراعتماد انداز میں کی لیکن سترہ کے اسکور پر وہ بھی ٹوپلی کی گیند پر پہلی سلپ میں جو روٹ کو کیچ دے گئے۔
وراٹ کوہلی کے تین چوکے دیکھ کر یہی سوچا جاسکتا تھا کہ آج یہ جمود ٹوٹ جائے گا لیکن جب قسمت روٹھی ہوئی ہو تو فارم اور فٹنس سب کچھ بہانہ بن جاتا ہے۔
17 رنز کے سکور پر ٹوپلی کی گیند بلے کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر جوز بٹلر کے گلووز میں محفوظ ہوگئی۔ بھارتی شائقین کے دل پھر ٹوٹ گئے لیکن انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے چہرے چمک اٹھے۔
انگلینڈ کی تینوں وکٹیں لے کر ریس ٹوپلی جیسے ہوا میں اڑ رہے تھے۔ پچھلے ہی میچ میں انھوں نے چھ وکٹوں کی شاندار پرفارمنس دی تھی جو انگلینڈ کی طرف سے ون ڈے انٹرنیشنل میں کسی بھی بولر کی سب سے بہترین کارکردگی تھی۔
انڈین ٹیم سکور کے تین ہندسوں میں داخل ہونے سے پہلے ہی چار وکٹوں سے محروم ہوچکی تھی ۔ورلڈ کلاس بیٹسمینوں کے آؤٹ ہونے کے بعد ہاردک پانڈیا اور رشابھ پنت کی حوصلہ مندی انگلینڈ کی فرسٹریشن میں اضافہ کرتی چلی گئی۔
ہاردک پانڈیا نے 2018 کے ٹرینٹ برج ٹیسٹ اور موجودہ دورے میں ساؤتھمپٹن کے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی طرح اس بار بھی چار وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نصف سنچری سکور کی لیکن سب سے اہم بات یہ کہ ان کی 71 رنز کی شاندار اننگز اور رشابھ پنت کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 133 رنز کی اہم شراکت بھارت کو میچ میں واپس لے آئی۔
انڈین ٹیم کی جیت کا وہ منظر کبھی نہیں بھلایا جاسکے گا جب پنت نے ڈیوڈ ولی کے ایک ہی اوور میں پانچ چوکے مارکر اپنی ٹیم کو جیت سے صرف ایک قدم دور لاکھڑا کردیا اور پھر رویندرا جادیجا نے ایک رن لے کر وننگ شاٹ کے لیے پنت ہی کو موقع فراہم کیا جنھوں نے جو روٹ کو چوکا لگا کر رسمی کارروائی مکمل کردی۔
رشابھ پنت 125رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے جس میں سولہ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔
یہ اننگز شائقین مدتوں یاد رکھیں گے اوراگر کوئی زندگی بھر نہ بھلا پایا تو وہ ڈیوڈ ولی ہوں گے۔


