منظم تشدد


باجوڑ سے وزیرستان تک! سیکولر سے مولوی تک، ہم سب حقوق نسواں دینے میں ناکام ہو چکے ہیں، جو لوگ یہ نہیں مانتے وہ پہلے زمینی حقائق دیکھیں، دو دن پہلے باجوڑ میں قبائلی جرگے نے خواتین کے سیاحتی مقامات جانے پر پابندی لگا دی اس پر اکثر قبائلی روشن فکر ناراض ہو گئے مگر ہمیں تو کوئی علم نہیں ہے کہ قبائلی خطے میں خواتین بھی ایسے مقامات پر جاتی ہیں، البتہ عیدین کے موقع پر اکا دکا گئی ہوں گی۔

ایکس فاٹا کو فی الحال رہنے دیجئے پاکستان و افغانستان کو دیکھئے، افغانستان اول نمبر پر جبکہ پاکستان خواتین کے لئے بدترین ریاستوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ سوچئے ٹرانس جینڈر، خواجہ سراؤں وغیرہ وغیرہ کن حالات میں جی رہے ہیں؟

خواتین، بے ہودگی، لواطت، عریانی، عیاشی کو ہم نے دانستہ یا نادانستہ طریقے سے مذہب سے پیوست کیا ہے، حکومت بھی مذہبی کارڈز استعمال کرتی ہے، کیونکہ ووٹ بنک بھی مندرجہ بالا باتوں سے منسلک ہے۔ پاکستانی سیاست دان کیوں اپنے دور حکومت میں خواتین کے لئے نرم قوانین بنائیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے بدلے میں لوگ ناراض ہو گے اور مستقبل میں ہمارا ساتھ نہیں دیں گے۔

اب ایکس فاٹا پر آتے ہیں، قبائلیوں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان تک کتنے مولویوں و روشن فکر طبقے نے خواتین کو حقوق دیے ہیں؟ ایسے سوالات نہ کریں کہ باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک ان قبائلی خواتین کے لئے گائناکالوجسٹ موجود ہیں یا نہیں وہ الگ موضوع ہے کہ باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک کوئی قبائلی گائناکالوجسٹ کیوں نہیں ہے۔

مملکت خداداد میں جی بی وی (جینڈر بیسڈ وائلنس) صنفی بنیاد پر تشدد، جسمانی، جنسی، جذباتی تشدد کم سے کم سندھ میں خواتین پر ہوتے ہیں جس کا تناسب کم سے کم اٹھارہ 18 فیصد اور زیادہ سے زیادہ بتیس 32 فیصد ہے۔ جبکہ یہی تناسب باجوڑ سے لے کر وزیرستان تک کم از کم پچپن 55 فیصد اور زیادہ سے زیادہ چھیاسٹھ 66 فیصد ہے، مجھے توقع ہے کہ یہ تناسب مزید تقویت پائے گا، کیونکہ ہمارے اکثر مسائل افغانستان سے منسلک ہیں۔ اور ہم بشمول حکومت ہمیشہ کی طرح پشتون ولی، غیرت، مذہب کے پیچھے چھپنے کی کامیاب کوشش کریں گے۔

Facebook Comments HS