لیگیوں کی بے صبری انھیں لے ڈوبی
کہتے ہیں بے صبری بسا اوقات انسان کو لے ڈوبتی ہے۔ اس ضمن میں موجودہ حکومت کی صورت حال ہمارے سامنے ایک بڑی مثال ہے۔ اگر کوئی چیز ان کی کشتی میں چھید کر گئی ہے تو وہ ان کی بے صبری کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے۔ سابقہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ملک کو ہر طرح کے مسائل کا سامنا تھا۔ انھوں نے نعرہ لگایا کہ وہ عوام کو اس مشکل سے ضرور نکالیں گے۔ انھوں نے سابقہ حکومتوں کی بے تحاشا کرپشن کی نشاندہی کی اور قوم کو یہ یقین دلایا کہ ان کا پیسا کس طرح لوٹ کر باہر لے جایا جا رہا ہے۔ اور وہ اس کلچر کو ختم کر کے عوام کو ریلیف دیں گے، نوکریاں، گھر اور سستی خوراک مہیا کریں گے۔ عوام نے ان کی آواز پر لبیک کہا اور ان کا بھرپور ساتھ دیا۔
وقت گزرتا گیا اور عوام کو خود کے ساتھ کیے گئے وعدوں کا کوئی خاص ثمر نظر نہیں آیا۔ گو کہ اس حکومت نے بہت سے ایسے کام بھی کیے جو عوام کے لیے بے حد مفید ثابت ہوئے، لیکن وہ عوام کو چھوٹے پیمانے پر ریلیف دینے میں بری طرح ناکام نظر آئی۔ حکومتی وعدوں اور خوابوں کی تکمیل جب کہیں نظر نہیں آئی تو عوام بے چینی کا شکار ہونے لگے۔ باقی رہی سہی کسر مہنگائی نے نکال دی۔ اس ساری صورت حال میں عوام عمران حکومت سے بددل ہونے لگے اور کافی حد تک مایوس بھی نظر آئے۔ عمران حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی اپنی سی کوشش تو کی، لیکن اپنی زیادہ توانائی صرف اپوزیشن کو دیوار سے لگانے میں صرف کر دی۔ یوں عوام کا اعتماد عمران حکومت سے اٹھنے لگا اور حکومتی ساکھ تیزی سے زوال پذیر ہونے لگی۔ تب عوام کو لیگی حکومت کی یاد ستانے لگی۔
لوہا گرم دیکھتے ہوئے اپوزیشن نے بھی اس پر چوٹ لگانے کے لیے کمر کس لی۔ ان کا یہ خیال تھا کہ یہ وقت ان کے لیے بہت موزوں ہے۔ اور ویسے بھی وہ اقتدار میں آنے کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ انھوں نے اس کے لیے تمام حربے بروے کار لائے، اور حکومت گرانے میں کامیاب بھی ہو گئے۔ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد ہی انھوں نے ”مشکل فیصلوں“ کے نام پر مہنگائی کا جو نیا طوفان کیا اس نے عوام کو دن میں تارے دکھانے والا کام کیا۔
صرف ڈھائی تین ماہ میں ہی موجودہ حکومت نے عوام کا جو استحصال کیا اس امر نے رہی سہی تمام کسر نکال دی۔ یوں دو کام ہوئے : پہلا یہ کہ عوام کی نظروں میں موجودہ حکومت کی قدر بالکل ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ کیونکہ وہ مہنگائی کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئے تھے لیکن انھوں نے آتے ہی مہنگائی کو دو گنا کر دیا۔ نیب قوانین میں ایسی ترامیم کیں جس سے ان کے اپنے کیس ختم ہو سکیں۔ اور بھی ایسے بہت سے کام کیے جو صرف ان کے اپنے مفاد کے لیے تھے اور یہ سب کام بہت کام عجلت میں کیے گئے۔ یوں عوام کو یقین ہو گیا کہ یہ ہمیں ریلیف دینے نہیں فقط اپنے مفادات کی خاطر اقتدار میں آئے ہیں۔
دوسرا کام یہ ہوا کہ عمران حکومت اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب وہ بری طرح سے زوال کا شکار ہو رہی تھی۔ یوں سمجھیں کہ وہ زیرو سے ہیرو بن گئی۔ جس کی بڑی مثال ابھی پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات ہیں جس میں پی ٹی آئی امیدواروں کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ عوام کا رجحان کس طرف ہے۔ اور اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اگلے جنرل انتخابات میں عمران حکومت بآسانی کامیاب ہو سکتی ہے۔
یوں لیگی حکومت نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے والا کام کیا ہے۔ جس طرح عمران حکومت زوال کا شکار ہو رہی تھی اگر وہی سلسلہ جاری رہتا تو اگلے انتخابات تک صورت حال یکسر مختلف ہو سکتی تھی۔ اب اگر لیگی حکومت بقیہ مدت پوری کر بھی لیتی ہے تو اس وقت تک جو حالات پیدا ہو جائیں گے وہ ان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوں گے۔ یوں ان کی بے صبری انھیں لے ڈوبی۔


