ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی


کہتے آئے ہیں کہ جوانی کا عشق جان لیوا ہوتا ہے۔ عاشق محبوب کے لئے جان دے بھی سکتا ہے اور لے بھی کہ صاحب جوانی نام ہی ذرا سے التفات پے فدا ہونے کا نام ہے۔ اور عشق کے ہزار روپ۔ کہیں شفقت۔ کہیں عنایت۔ کہیں الفت۔ کہیں حسرت اور مہلک ترین ”عقیدت“ ۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو ضرر والہانہ عقیدت پہنچا سکتی ہے، اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ قیامت در قیامت تب ہے کہ عقیدت تقلید میں بدلے اور مقلد کی سوچنے، جانچنے، پرکھنے کی حس ہی معطل ہو جائے۔ ایسی وارفتگی کم عمری کی جذباتیت سے ہی ممکن ہے۔ ہٹلر کا اسٹوڈنٹ نازی ونگ ہو یا آج کا خودکش بمبار ذرا تحقیق کیجئے گا تو جان جائیے گا کہ زیادہ تر کی عمر چودہ سے چوبیس کے درمیان ہوتی ہیں۔ یہی ذہن ہیں جن کو کسی نظریے یا شخصیت کے سحر میں مبتلا کرنا آسان ہے۔

کل پنجاب میں ضمنی انتخابات ہوئے، عالم یہ تھا کہ تمام ملک ان کے نتائج کا منتظر تھا جیسے یہ بیس نشستیں ہی پاکستان کی قسمت جاننے اور لیڈر کی قامت ناپنے کا پیمانہ ہیں۔

کانٹے کا مقابلہ رہا، دونوں جانب سے انتخابی مہم بھی گویا نہلے پے دہلا مارنے کی تگ و دو تھی۔ بیشتر مبصرین متفق تھے کہ حکومتی جماعت یقیناً بازی لے جائے گی جس سے ناصرف پنجاب میں اپنی حکومت بچا پائے گی بلکہ اگلے سال تک وزیر اعظم بھی خطرے سے نکل جائیں گے۔

کوئی شبہ نہیں کہ مریم نواز نے انتخابی مہم میں دن رات ایک کیا، جماعت کے وزراء نے استعفی دے کر اپنے حلقوں میں اس سلسلے میں عوامی رابطے کیے ۔

ن لیگ کے سپورٹرز بہت پرامید تھے کہ ان تمام نشستوں پر چونکہ وہی اشخاص لڑ رہے ہیں جو پہلے بھی جیتے تھے تو اب تو کامیابی یقینی ہے، امیدوار کے اپنے ووٹ، ن۔ لیگ اور پیپلز پارٹی کے ووٹ ملا کر باآسانی معرکہ مار لیں گے۔

آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں جب نتائج نے بازی ہی پلٹ دی۔

حالانکہ یہ نشستیں نون لیگ کی نہیں تھیں پھر بھی عمومی رائے یہی تھی کہ اس بار ان پر دوبارہ تحریک انصاف نہیں آ سکے گی۔

بیس میں سے چار بہرحال نون لیگ نے جیتیں بقیہ پندرہ پر تحریک انصاف کی برتری رہی۔

نتائج کا اعلان ہوتے ہی دونوں جانب کھلبلی مچ گئی۔ جیتنے والے تو وہی کر رہے ہیں جو جیت کے بعد کرنا چاہیے یعنی بھنگڑا!

لمحۂ فکریہ نون لیگ کے لئے ہے، شکست کو کھلے دل سے تسلیم کرنا بہترین سیاسی روایت سہی مگر شکست کے جواز کا اندازہ لگا کر تدارک نہ کرنا یا تو ہٹ دھرمی ہوتا ہے یا حماقت یا دونوں۔

پارٹی قیادت کو سر جوڑ کے بیٹھنا ہو گا کہ دیکھیں، کہاں چوک ہوئی؟ کیسے عین وقت پے ستاروں نے اپنی چال بدل لی؟

میری ناقص رائے میں، اپنے نکتۂ نظر کو رائے عامۂ بنانے کا ہنر جیسے جیتنے والو کو آتا ہے، جتنے منظم اور جدید انداز میں وہ ووٹر کو اپنا ہم موقف بنانے کے لئے کام کرنا جانتے ہیں وہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔

لیڈر کی امیج بلڈنگ ( شخصی تاثر ) ہو یا ارکان کی شفافیت۔ مخالفین کی کارکردگی کو مشکوک کرنا ہو یا اپنی سیاسی یتیمی کو غیر ملکی سازش کے اطلس میں لپیٹ کر پیش کرنا۔ سب کچھ بے حد سمجھداری، ہوشیاری بلکہ فنکاری سے سرانجام دیا جاتا ہے۔

یوں کہوں تو بیجا نہ ہو گا کہ جیسے ایک چائے کمپنی اپنی مصنوعات کی مقبولیت کے لئے مکمل تحقیق کے بعد کوئی اشتہاری مہم تیار کرتی ہے عین مین اسی انداز میں تحریک انصاف کام کرتی ہے۔

کسی بھی قسم کی اشتہار بازی یا مقبولیت کے لئے جن اہم باتوں کا جاننا لازمی خیال کیا جاتا ہے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

صارف کی عمر
ان کی تعلیمی قابلیت
ان کی سماجی حیثیت
ان کی ذہنی استعداد
ان کے خواب
ان کے جذبات
ان کا مزاج

پاکستان دنیا کا پانچواں ملک ہے جس کی آبادی اس وقت پندرہ سے انتیس سال کے درمیان ہے۔ ملک کی کل آبادی کا کل چونسٹھ فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ وہ نوجوان جسے کرکٹ کھیلنے اور دیکھنے کا جنون ہے۔ وہ نوجوان جو پہلے ڈگری کے حصول اور پھر نوکری کی خاطر پریشان رہتا ہے جسے پاکستان کی موجودہ سیاسی قیادت سے گلہ ہے کہ اس کے لئے کچھ نہیں کیا۔

وہ نوجوان جسے ذہن نشین کرایا جا رہا ہے کہ تمھاری محرومیوں کی وجہ وہ چند با اثر سیاسی خاندان ہیں جو حکومت بنانے اور بے ایمانی سے قومی دولت لوٹنے کے لئے باریاں لگاتے ہیں۔ جن کے بچے بیرون ملک پر آسائش و پر تعیش زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ اپنا علاج بھی ان اسپتالوں میں کروانا گوارا نہیں کرتے جہاں غریب دھکے کھاتا ہے۔ ان کے بچے دوسرے ممالک میں اعلی ترین تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یوں ایک کے بعد دوسری نسل حکمرانی کا لطف اٹھاتی ہے۔

اس عمر کی جذباتی اور سیاسی طور پے ابھی نا تجربہ کار نوجوان نسل کے لئے یہ باتیں من و عن سچ مان لینا سب سے آسان ہے۔ ایسے میں اگر کوئی عالمی شہرت رکھنے والا۔ بہترین یونیورسٹی سے ڈگری یافتہ۔ ہر میدان کا کھلاڑی تاہم اب صوم و صلاۃ کا پابند انہیں اپنا لے یعنی میرے نوجوانو! کہہ کر مخاطب کرے، یقین دلائے کہ میں آپ کا درد سمجھتا ہوں اور اس کا علاج بھی میرے ہی پاس ہے، میرے ساتھ آئیے میں اس ملک کو جنت اور آپ کو اس جنت کا مالک بنا دوں گا۔ تو کوئی کیسے نہ اپنی گردن اس طناز کی تیغ پر رکھ دے۔

حیرت تو تب ہوتی اگر وہ نوجوانو کو اپنا آئیڈیل۔ اپنا ہیرو۔ اپنا رہنما نہ لگتا۔

روایتی سیاستدان آج بھی اسی خام خیالی میں رہے کہ یہ بڑ بولے، عقل میں تھوڑے لڑکوں بالوں کی جماعت ہے اور یہ سنجیدہ سیاست کی باریکیاں کیا جانیں؟ حقیقت میں تو ہم جانتے ہیں کہ اس تلاطم سے بیڑا کیسے نکالا جاتا ہے۔ اسی سوچ کے تحت ووٹرز کی ایک بڑی اکثریت یعنی نوجوانوں کو اپنے قریب لانے، اپنا موقف سمجھانے اور ساتھ ملانے کی کوشش ہی برائے نام کی گئی۔

نتیجہ سامنے ہے، جو بڑھ کے خود اٹھا لے ساغر و مینا اسی کا ہے!

آپ اسی سوچ میں رہ گئے کہ اخبار اور نیوز چینل ابو کے لئے ہوتے ہیں اور سیاسی عمل میں حصہ بھی وہی لیتے ہیں۔ مگر کوئی اور ہے جس کی نظر ہر اگلی نسل پر ہمہ وقت رہی ہے تاکہ وقت پڑنے پر انہیں استعمال کر سکے۔

اگلے انتخابات تک آپ کی مرضی ہے کہ آپ اپنے اور اس قوم کے مستقبل کو منہ لگانے کے قابل سمجھتے ہیں اور اپنے اسٹوڈنٹ ونگ کی تنظیم نو کرتے ہیں یا نہیں۔

کیونکہ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ کامیاب سیاسی رہنما ہمیشہ وہی رہا ہے جس نے نوجوانوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔

آپ کو طے کرنا ہو گا کہ اقبال کے شاہین درکار ہیں یا نورجہاں کے کبوتروں سے کام چل جائے گا۔

Facebook Comments HS