اپنے اندر کے بچے کو زندہ رکھیں


ہم اپنی ہر چھوٹی سی چھوٹی غلطی پر خود کو پیٹنے بیٹھ جاتے ہیں اس کے برعکس جب ہم اپنی غلطیوں پر ہنسنا اور ان سے سیکھنا شروع کر دیں تو زندگی بالکل مختلف اور منفرد بنی شروع ہوجاتی ہے۔

ہم انسانوں کے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں میں سے سب سے بڑا تحفہ کیا ہے؟ ہماری تخیل یعنی ایمیجینیشن ہے۔ ہم نے اسے اپنے ذہنوں میں ان چیزوں کی خوبصورت تصویریں بنانے، جو ہم کرنا چاہتے تھے اور جہاں ہم جانا چاہتے تھے یہاں تک کہ خود کو خاص طاقتوں کے ساتھ دیکھا، جیسا کہ اڑنے یا عمارتوں کی چھت پر بڑی بڑی چھلانگیں لگانا وغیرہ۔ ہمارا تخیل ایک وہ تحفہ ہے جسے ہم کہیں بھی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں لیکن یہ سب کچھ ہمارے سکول جانے کے فوراً بعد اکثر لوگوں کا بدلنا شروع ہوجاتا ہے کیوں کہ ہمارے کچھ اساتذہ اور بڑوں نے ہماری تخیل کو استعمال کرنے پر نا صرف ڈانٹنا شروع کر دیتے بلکہ اس پر توجہ نہ دینا یا دن میں خواب دیکھنا قرار دے جاتے لہٰذا ہم نے تصور کرنا چھوڑ دیا اور دنیاوی دنیا پر توجہ مرکوز کردی گئی یعنی اپنے اسکول کے کام، گھر کے کام کاج، اور اپنے چھوٹے بڑے بہن بھائیوں کے ساتھ نیک رویہ اور ان کی دیکھ بھال کرنا شامل کر دیا جاتا۔

جیسے جیسے ہم جوانی میں آگے بڑھتے اس کے بعد ہم مستقبل کے بارے میں زیادہ سوچنے لگ جاتے ہیں تو ایک اضطراب کی کیفیت جنم لینی شروع ہو جایا کرتی ہے، وقتی طور پر آنے والا اضطراب کنٹرول کرنا آسان ہے بہ نسبت مستقل اور زیادہ رہنے والا کیوں کہ یہ ہمارے جسم اور دماغ کو بہت منفی طریقے سے نقصان پہنچانے لگ جاتا ہے اسی طرح ماضی میں گزرے کچھ منفی واقعات کے بارے میں بار بار سوچنا صرف افسردگی، جرم، نشہ یا تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔

کیا یہ بات معلوم ہے کہ ماضی یعنی بچپن میں جا کر اپنے اندر کے بچے سے مل کر ہم اپنا حال اور مستقبل بہتر اور موثر بنا سکتے ہیں؟ جی ہاں ہمارے بہت سے ایسے واقعات جو بہت الجھ چکے ہیں ان کو دوبارہ واپس جا کر ہم اپنے حال اور مستقبل کو سنوار اور نکھار سکتے ہیں۔

آخر ہم اپنے اندر کے بچے کو زندہ کیوں رکھیں؟ اپنے اس بچے سے وہی عمر والے زندہ سلامت حقیقت میں ملاقات تو ممکن نہیں لیکن اس سے تصوراتی ملاقات ممکن ہے۔ جو لوگ اس حسین احساس اور اس سے جڑے بیشمار فائدوں سے نا آشنا ہیں وہ اپنے اس بچے کو دوبارہ زندہ یا باہر لانے کے لیے وہ سب مثبت کام کرنا شروع کریں جو ہمیں سب سے زیادہ پسند ہیں جیسا کہ رنگ کاری، پینٹنگ، خاکہ نگاری، ایکٹنگ، مٹی سے کھیلنا یا ڈرائنگ کرنا وغیرہ۔

جب ہم یہ سب چیزیں کرتے ہیں تو ہمارے اندر کے ذہنی تناؤ میں کافی کمی ہونے لگ جاتی ہے کیوں کہ یہ ہم کو آس پاس کے ان تمام مسائل سے منقطع کر دیتا ہے جو ہم کو مختلف زنجیروں سے جکڑ لیا کرتے ہیں پھر ہم کو تخلیقی محسوس کرتا ہے جس سے ہم خود اپنی زنجیروں کو دھیرے دھیرے کھول کر اس مشکل سے آزاد ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہم اپنے اندرونی بچے سے دوبارہ جڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔

جب زندگی میں کچھ نیا یا پرانا جو سیکھا ہوا ہو اور سیکھنے اور سکھانے کا عمل بند ہو جائے تو سمجھ لو کہ ہم نے اپنے اندر کے بچے کو مار دیا یا سلا دیا اور الزام ہم باہر کے بیرونی اثرات اور ماحول کو دینے لگ جاتے جس سے صرف اور صرف ہمارا اپنا نقصان ہی سامنے آتا ہے حالاں کہ کبھی بھی اپنے آپ کو یہ نہ کہیں اور نہ سوچیں کہ میں کسی بھی چیز یا کام کو کرنے کے قابل نہیں یا بہت بوڑھا/بوڑھی ہوچکی ہوں۔ کیوں کہ ہمارے اندر کا یہ بچہ جب تک زندہ اور سلامت رہے گا ہم ہمیشہ کچھ نیا ہنر اور تعلیم سیکھتے رہیں گے یا جو ہم نے تعلیم اور ہنر سیکھا ہوا ہوتا ہے اسی میں مزید ترقی حاصل کرنے لگ جاتے ہیں جس سے ہم خود نکھرتے رہتے اور کبھی بھی الزام کی طرف نہیں نکلتے اور زندگی کی بڑھتی عمر دیوار بن کر سامنے نہیں آتی ہے۔

اس تحریر کو لکھتے ہوئے ذیشان نیازی کے یہ اشعار میری سوچ میں مچل رہے
مدتوں خود سے ملاقات نہیں ہوتی ہے
رات ہوتی ہے مگر رات نہیں ہوتی ہے

بہت کچھ بدلنے جیسے دوریوں کو نزدیکیوں میں بدلنے کا فن بچے سے زیادہ کسی کو نہیں آتا اس بچے سے ملنے کے کافی طریقے ہیں لیکن جس تصوراتی طریقے سے میں ملنے کو یہاں بیان کرنا چاہ رہی اس کے لیے بہتر ہو گا کہ اس مشق کی شروعات میں ایک دو بار کسی ماہر، ماہر نفسیات یا لائف کوچ کے زیرنگرانی ہی کی جائے اور وہ ماہر خود یہ مشق باقاعدہ کرنا جانتا اور سمجھتا ہو کیوں کہ اپنے اس بچے سے تصورات میں ملنا بہت آسان بھی ہے اور ملاقات کے وقت بہت پیچیدہ مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے مطلب بچپن اور ماضی کا کوئی ایسا خوفناک واقعہ یا حادثے کا سامنا بھی ہو سکتا ہے جو مدہم تو ہو گیا لیکن ڈر اور خوف کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے لیکن جو ماہر ہو گا وہ اس انسان کے لیے اس عمل کو انتہائی مثبت اور مضبوط بنا کر بہت کار آمد بنانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو گا۔

آپ اس تصوراتی عمل میں جانے اور سیکھنے کے لیے میرے اس پلیٹ فارم کے ذریعے مجھ سے رابطہ بھی کر سکتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اس عمل کے دوران اور بعد میں اپنی ذہنی کشیدگی کو کنٹرول اور منزل پہچان جاتے اور اکثر اپنے ماضی سے جڑے کسی خوفزدہ واقعے سے باہر نکل جاتے ہیں جو ان کو خود معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ہمارے اندر ایک بلاوجہ کا ڈر، خوف اور مایوسی ہمارے خیالوں کی سطح میں چھپی ہوئی تھی۔

Facebook Comments HS