غیر معروف فیصلوں کے غیر معروف نتائج نکلتے ہیں


سترہ جولائی کو پورے پنجاب میں ضمنی الیکشن ہوئے۔ عمران خان کی پی ٹی آئی نے میدان مارا نہیں بلکہ الیکشن کا یہ میلہ یا انتخابات کا یہ جشن نما مشن لوٹ لیا ہے۔ سیاسی پنڈت اور سیاسی تجزیہ کار اسے غیر معروف نتائج کا نام دے رہے ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ دھیمے سے آنکھ پھڑکا کر کسی کی طرف اشارہ بھی کر رہے ہیں۔ لیکن یہ تجزیے، یہ اشارے اور کنائے ہر انتخاب کے بعد زبان زد عام و خاص ہوتے ہیں۔ کوئی کہاں سے دلیل لے کر آتے ہیں اور کوئی کہاں سے تانے بانے ملانے کی سعی لاحاصل اور سعی حاصل میں مصروف عمل ہوتے ہیں۔

در اصل سب بیک زبان ہیں کہ یہ غیر معروف نتائج ہیں لیکن یہ کوئی نہیں کہتا کہ غیر معروف فیصلوں کے نتائج بھی غیر معروف ہی ہوتے ہیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ ( ن ) کے ساتھ ہاتھ ہو گیا لیکن اس کا جوابی بیانیہ یہ کہہ کر اس بات کو مسترد کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ( ن ) کے ساتھ ہاتھ نہیں ہوا بلکہ انھوں نے بھی ہاتھ مارا ہے اور وہ ان مشکل فیصلوں کی قیمت میں ذاتی مفاد، جیسے نیب ترمیمی آرڈینینس اور اس طرز کے دیگر مفاد اپنے پلڑے میں ڈال چکے ہیں۔ اور اپنے اسٹیبلش کردہ بیانئے کو الٹ پلٹ کر دیا ہے۔

ووٹ کو عزت دو ، اور ہمیں کیوں نکالا جیسے اینٹی اسٹیبلشمنٹ نعرے حالیہ ضمنی انتخابات میں ان کے انتخابی منشور کا حصہ ہی نہیں تھے کیونکہ ضمنی الیکشن میں سیٹس ہی ان کو دی گئی تھیں جو منحرف تھے اور ووٹ کی تقدس کو پائمال کر چکے تھے اور رہی سہی کسر ان متوقع اور محروم کردہ امیدواروں نے مسلم لیگ ( ن) کو ووٹ نہ دے کر یا ووٹ نہ دلا کر پوری کر دیں تاکہ اپنی قیادت کو یہ پیغام پہنچایا جائے کہ کسی پارٹی کے لئے صوبائی سیٹ کا جیتنا ہر کس و ناکس کا روگ نہیں اور پارٹی کو ووٹ کے ساتھ ساتھ عوامی ووٹ اور وفادار لیڈرشپ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ حالیہ پنجاب کا الیکشن آنے والے ملکی انتخابات کے لئے ایک ٹریلر کی حیثیت کا حامل ہے۔

اور اب آنے والے انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے جیتنے سے پی ٹی آئی کو کوئی نہیں روک سکتا اور دو تہائی اکثریت کا مطلب اٹھارہویں ترمیم کے ختم کروانے کی پیش بندی اور منصوبہ بندی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ سب کچھ یا کہا سنا درست ہے تو پھر یہ بھی سمجھ آ سکتا ہے کہ پھر تو عمران خان سچ کہتا تھا کہ نیوٹریلٹی کچھ نہیں ہوتی، غیر جانبداری کچھ نہیں ہوتی ایک جانب کا یا ایک طرف کو ہونا پڑتا ہے اور وہ جب کوئی ایک جانب کا یا ایک طرف کو (بھلے منہ سے نہ کہیں) عمل سے ہو جائے یا ان کے عمل سے ثابت ہو رہا ہو کہ وہ ایک جانب کھڑا نظر آ رہا ہے تو پھر وہ نیوٹرل نہیں رہتا۔

مسلم لیگ ( ن ) کا کھلے دل سے نتائج کو تسلیم کرنا ان کی وسیع النظری نہیں بلکہ ان کی مجبوری ہے ان کے پاس کسی کے خلاف بولنے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں ورنہ سننے والے فوراً استعفی کا مطالبہ کریں گے اور مسلم لیگ (ن) یا شہباز شریف حکومت چھوڑنے کے موڈ میں نہیں کیونکہ غیر معروف فیصلوں کے نتائج صرف بھگتے نہیں جاتے بلکہ کچھ ثمرات بھی گین کرنا ہوتے ہیں۔

اور یہ ثمرات مسلم لیگ (ن) اس وقت حاصل کر سکتی ہے جب وہ حکومت میں ہوں بھلے وہ برسر اقتدار نہ ہوں جیسے کہ ضمنی الیکشن سے ظاہر ہوا کہ مسلم لیگ (ن) ملک اور پنجاب میں برسر حکومت تو تھی پر برسر اقتدار نہیں۔ کیونکہ بر سر اقتدار رہنے کے لئے املا جیسے پروسس سے گزرنا پڑتا ہے اور وہ سکت اگر نواز شریف میں بدرجہ اتم موجود نہیں ہے تو شہباز شریف میں فیاضی کے حد تک موجود ہے۔ اور حالیہ پارٹی پوزیشن میں تو یہی شہباز شریف کی فیاضی ہے جس کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی ورنہ نواز شریف تو کب کے راستے الگ کر چکے تھے۔

غیر معروف فیصلوں کی وجہ سے پیٹرول مہنگا ہو گیا گو کہ بقول وزیر اعظم شہباز شریف یہ فیصلہ دل پر پتھر رکھ کر کیا ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ فیصلہ کیا تو ہے۔ لیکن اس کے نتیجے میں عوام پر مہنگائی کے پتھروں کا جو پہاڑ گرا ہے اور جس کے نیچے وہ جس طرح سے معاشی بے بسی اور قوت خرید کے سنگین ملبے تلے لہو لہان ہوئے ہیں اس کا بھی تو عوامی ازالہ کسی نہ کسی طرح اور کہیں نہ کہیں نکلنا تھا۔ اور عوام کے ساتھ الیکشن یا عوامی رائے دہی کے علاوہ اور کوئی چارہ ہوتا ہی نہیں اور یہی ان کا چارہ ہے، تھا اور رہے گا۔ اور یہی انھوں نے کیا۔

لیکن۔ لیکن ان سب باتوں میں ایک بات خوش کن اور مثبت ہے یا یوں سمجھ لیجیے کہ مسلم لیگ ( ن ) کے حق میں جا رہی ہے اور وہ یہ کہ پھر بھی مسلم لیگ ( ن ) نے پی ٹی آئی سے جیتی ہوئی تین چار نشستیں اپنے نام کر لی ہیں۔ یا دوسرے لفظوں میں پی ٹی آئی کو تین چار نشستوں پر شکست ہوئی ہے۔

Facebook Comments HS