نئے انقلابیوں کی حقیقت
بتایا جاتا رہا ہے ہر بات پر ہر اعتراض کے جواب میں اور چند ایک کی جانب سے نہیں اکثریت کی طرف سے کہ ایک ہی تو ادارہ رہ گیا ہے پاکستان میں اور آپ اس کے بھی پیچھے پڑے ہیں۔ ہم جواب دینے کی اپنی سی کوشش کرتے کہ ایک ہی ادارہ اس لئے رہ گیا ہے کیونکہ اس نے باقی کسی کو چھوڑا جو نہیں۔ گرچہ اب تازہ تازہ انقلابی تھوڑا بہت جان ہی گئے ہیں پر پھر بھی یاد دہانی کو پھر بتلائے دیتے ہیں کہ پاکستانی فوج کا کام شروع سے ہی حکومت بنانا، سیاستدان پیدا کرنا اور پالنا رہا ہے۔
سیاستدان بھی اس قماش کے پیدا کرنا کہ ان کو دیکھ کر بنانے والے سے نہیں بلکہ سیاستدان سے اور جمہوری نظام سے نفرت بڑھے اور یہ بات پھلتی پھولتی رہے کہ ارے جناب سب چھوڑیں بس فوج پھر سے آ جائے۔ ہمارے ادارہ کا خاص شغف اپنے ہی ملک کے معلوم مظلوموں کو نامعلوم لوگوں کے ہاتھوں غائب کروانا اور صحافت پر قدغن لگانا بھی رہا ہے۔ اور زیادہ نہیں بس زمین سے لے کر سیمنٹ، فرٹیلائزر حتیٰ کہ کھانے کے کاروبار میں بھی جوش اور جذبے کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔
صاحبوں انقلابی تو بہت سے گزرے ہیں جنہوں نے کبھی بلوچستان میں کبھی خیبر تو کبھی کراچی میں اپنی ہی عوام کے خلاف آپریشنز کے خلاف کھل کر مذمت کی اور آواز بلند کی، کسی کو اٹھا لیا گیا کسی کو صحافت سے بیدخل کر دیا گیا تو کسی کو غدار وطن کا خطاب ملا۔ ان سب انقلابیوں میں ایک بات مشترکہ تھی، وہ اپنے ملک اپنی قوم اور حق کے لئے بولے اپنا مفاد اس میں کہیں بظاہر نظر نہیں آتا۔
لیکن اب ایک تازہ بہار آئی ہے نئے نویلے انقلابی نکلے ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے سے برسوں کا پردہ ایک دم سے فاش ہو گیا ہے اور ان کو فوج کا کردار اچانک نظر آنے لگا ہے۔ ہمیں لگا گرچہ یہ تازہ انقلابی مظلوموں کے غائب ہونے پر، ہر حکومت کو کھڑا کرنے سے لے کر گرانے تک اور ان کے اپنے ہر دل عزیز عمران خان کی حکومت بننے اور چلانے تک فوج کے ساتھ سینہ تان کر کھڑے تھے اور ایک ہی تو ادارہ کی رٹ کو لے کر غائب کیے مظلوم کو غدار قرار دینے کے نا قابل معافی عمل میں شامل رہے پر چلو اپنے مفاد میں ہی سہی اپنے عمران خان کے لئے ہی سہی ان کو کچھ سمجھ نہ سہی نظر تو آیا۔
پر رکیے صاحب، صد حیف! اپنے تازہ خستہ اور ایک دم کرارے انقلابی کو غور سے سنیے، دیکھیے وہ رو رو کر چیخ چیخ کر یہ نہیں کہ رہے کہ نہیں ہم فوج کے اس کردار کو مسترد کرتے ہیں نہیں نہیں وہ کہہ رہے ہیں فوج ہمارے ہر دل عزیز لیڈر کی حکومت کوئی بھی طریقہ اختیار کر کے بحال کریں اور جیسے ہی ایسا ہو گیا فوج کی حیثیت ہماری نظروں میں واپس ’ایک ہی تو ادارہ‘ ہے والی ہو جائے گی۔ آئیں اس جعلی انقلاب کی دھول میں دبے اصل انقلاب اور انقلابیوں پر ایک بار فاتحہ پڑھ لیں۔


