گھر کے چراغ سے خانہ سوزی

نسل پرست کا خطرہ ہر مقام پر محسوس ہی نہیں کیا جاتا بلکہ آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے، لیکن حیرت اس امر پر ہوتی ہے کہ تمام تحفظات و خدشات کےباوجود وطن عزیز میں نام نہاد قوم پرستی اور نسل پرستی کا اتنا بڑا خطرہ کئی دہائیوں سے منڈلا رہا ہے لیکن سب کچھ دیکھنے کے باوجود قانون کی حکمرانی کو بیداری پیدا نہیں کر رہا۔ اگر ہم بھی ان تمام نسلی دھماکوں کے باوجود بیدار نہیں ہونا چاہتے تو ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ محض مقدس آرزوئیں زندگی کی ضامن نہیں ہو سکتیں۔ مقصد امن کی تلاش ہے تو ہمیں اس نفرت انگیز مہم کو رد کرنا ہو گا، جو بلدیاتی انتخابات سے قبل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سندھ میں بھڑکائی گئی اور پھر اس کے شعلے بلوچستان تک پہنچے۔
سندھ کا شہر کراچی کئی دہائیوں تک نسل پرستی اور لسانی تعصب کی آگ میں جلتا رہا، انسانی زندگیوں کو بے مول موتی کی طرح کھویا جاتا رہا ہے۔ انسانیت کا کوئی پرسان حال نہ تھا، اس کے مضر اثرات سے آج تک اہل کراچی باہر نہیں نکل سکے، سندھ کے دیگر شہروں میں جب بھی لسانیت اور تعصب کی نفرت کا لاؤا بھڑکایا جاتا تو اس کی تپش صرف کراچی میں محسوس ہی نہیں کی جاتی، بلکہ جھلسا دینے والی آگ سے بے گناہوں کی چتا جلائی جاتی۔
عام حالات میں نسلی اور لسانی تعصب و نفرت کو کم کرنے کی کوشش بھی کام کر جاتی ہے لیکن سیاسی درجہ حرارت کو گرم کرنے کے لیے جن حالات کو ابھارا جاتا ہے ان کے لیے انتہائی کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور ارباب اقتدار کی جانب سے سست روی یا جانب دارنہ مصلحت کے تحت مجرمانہ خاموشی، تقاضا کرتا ہے کہ ذرا سوچیں اور گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ انہوں نے کس حد تک اپنے فرائض کی تکمیل کی۔ ارباب اختیار کو یاد رکھنا چاہیے کہ امن و سلامتی کا قیام اور نسل پرستی اور لسانیت کے منفی رجحانات کو روکنا درحقیقت خود آپ کے اپنے لیے ہوتا ہے، اس لیے کہ سیلاب کو روکنے کے لیے گاؤں کے باہر بند بنانے والا گاؤں ہی کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ خود اپنی حفاظت بھی کرتا ہے، اس لیے کہ جب طوفان امنڈتا ہے تو وہ مکانوں کے سائن بورڈ دیکھ کر اندر داخل نہیں ہوتا۔
سیلاب نہ پرسد کہ در خانہ کدام است
اس کی رو میں میر کا قصر مزین بھی اسی سبک سیری سے بہہ جاتا ہے، جس طرح ایک فقیر کی جھونپڑی۔ اللہ تعالی کسی ملک کو حوادث کی آماجگاہ نہ بنائے، اس وقت کی کیفیت کا تصور بھی لرزہ انگیز ہے۔ حوادث کا ایک بڑی حد تک صرف وہی قومیں مقابلہ کر سکتی ہیں، جن میں اتحاد و یگانگت ہو، باہمی ربط و ضبط ہو اور اطاعت کا جذبہ ہو۔ قربانی کی روح اور دوسروں کی خاطر سینہ سپر ہو جانے کی ہمت ہو، ہر چند کہ من حیث القوم ان خصوصیات کی ضرورت پہلے بھی کچھ کم نہ تھی، لیکن اب تو وہ وقت آ چکا ہے کہ اس میں ذرا سی غفلت افسوسناک عواقب پر منتج ہو جائے گی، ہم اس نفرت کے آگ کو ختم کرنے کے لیے صحیح سوچ اور صحیح راہ عمل تجویز کر سکتے ہیں۔
ضرورت یہ ہے کہ عدم برداشت کے اس ماحول کو ختم کرنے کے لیے ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں اور قانون کو اپنا راستہ بنانے دیں، جب تک غیر جانب دارانہ، شفاف اور سستا عدل میسر نہ ہو گا تو اسی طرح ہجومی تشدد میں گناہ گار اور بے گناہ دونوں جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے۔ جرم کرنے والا کوئی مجرم ہو یا ملزم ہو، کسی بھی انسان کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کی جان اپنی خود ساختہ عدالت لگا کر لے لے۔ یہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے، اسی طرح ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناتے کسی بھی شہری کا ملک کے کسی بھی حصے میں روزگار یا رہائش اختیار کرنے سے روکنے کا حق کسی فرد، تنظیم یا گروہ کو حاصل نہیں۔
گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا وہ ایک افسوس ناک عمل ہے۔ اس کی حمایت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے بعد ردعمل میں جو کچھ ہوا تو سمجھنے میں دقت نہیں ہوئی کہ یوں تو فرشتوں کی معصوم نگاہوں نے خون کے چھینٹے اور آگ کی چنگاریاں، آدم کے خمیر میں ہی بھانپ لی تھیں لیکن اس آگ اور نفرت کا مظاہرہ جس شدت اور بربریت سے ہوا، ایسا نظارہ پہلے کئی بار دیکھا جا چکا ہے۔ کبھی کبھار لگتا ہے کہ ذہن انسانی نے ’نادر‘ کی یاد بطور ایک ظالم اور سفاک کے قائم کی لیکن ہلاکو اور چنگیز کے سیلاب فنا کے پس منظر میں دراصل نفرت کا دریا تھا جس نے بربادی کے ان خونچکاں مناظر کی یاد کو تازہ کر دیا۔
دنیا کا کون سا گوشہ ہے جو نسل پرستی اور لسانی عصبیت کی وجہ سے خون آدم سے لالہ زار نہیں، کون سا خطہ ہے جو نسلی جہنم کی اس آگ کی لپیٹ میں نہیں آیا؟ کون سی بستی ہے جو عالمگیر سطح کی نفرت کے دھماکوں سے محفوظ ہے، کچھ راکھ کا ڈھیر ہو کر رہ گئیں، کچھ گرتی چلی جار ہی ہیں، جو اب تک بظاہر محفوظ ہیں، انہیں بھی اس پیکر اجل سیل آتش کا ہر وقت دھڑکا لگا ہوا ہے۔ بہت آگے گئے۔ باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
نسل پرستی اور لسانی تعصب میں الجھے انسان کی بے بسی کی اس سے بڑھ کر عبرت انگیز مثال اور کیا ہوگی کہ جس شاخ پر بیٹھا ہے، اسے اپنے ہاتھوں سے کاٹ رہا ہے، فاطمہ جناح کے الیکشن ہوں یا بشریٰ زیدی کا اتفاقی حادثہ، پکا قلعہ ہو یا قصبہ علی گڑھ، کالی پہاڑی ہو یا کٹی پہاڑی، لیاری ہو لیاقت آباد، عزیز آباد، سہراب گوٹھ اور بارہ مئی، سٹی کورٹ جیسے سانحات ہمیں کیا سبق دیتے ہیں۔
یہی کہ نسل پرستی اور لسانیت کی اس آگ سے مفاد پرستوں نے اپنے فروعی مفادات کو حاصل کیا اور اپنی سیاست کو چمکایا۔ اس کی قیمت بے گناہ انسانوں کو ادا کرنی پڑی جنہوں نے اپنی جان بھی کھوئی، پیاروں کو بھی اور مستقل روزگار و رہائش کو بھی۔ اتنا کچھ دیکھنے کے بعد بھی یہ کون سی مجبوری ہے کہ کمزور شاخ پر کھلاڑی برابر چلائے جا رہا ہے۔ یا یہ آگ قوموں کی جنگ نہیں، ملکوں کی جنگ نہیں، بلکہ معاشی نظاموں کی جنگ ہے۔ باہمی مناقشت و مسابقت یہ وہ فتیلہ ہے جو ان آتش بازوں کی دکانوں پر گرے گا۔ گھر کے چراغ سے خانہ سوزی کی عبرت ناک مثال بننے سے بچنا ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔

