انصاف کی پتی


قانون کیا ہے اس ملک کا جس کی لاٹھی اس کی بھینس ایسا لگتا ہے کہ ہر طرف صرف ایک ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے۔ اس ڈرامے کا لکھاری پیسہ اور طاقت ہے۔ یہاں زندگیاں ختم ہوجاتی ہیں مگر انصاف نہیں ملتا اور اکثر ایسے کیسز بھی سنے ہیں کہ مردے کو انصاف مل گیا۔ اگر عدالتوں کی خالی ردی اٹھا کر بیچی جائے جس پر ہمارے ججز حضرات پورے مہینے کے انتظار کے بعد اگلی تاریخ لکھ کر اٹھ جاتے ہیں تو کتنے غریب گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں۔

سب سے اہم بات کہ جو شخص قانون کو تھوڑا بہت سمجھتا ہے اس کی اس ملک میں پکڑائی نہیں۔ جو قانون ہماری حفاظت اور تحفظ کے لیے بنائے گئے ہیں وہی قانون ہمارے معاشرے میں موجود چند بھیڑیے اپنے مفاد کے لیے اپنے جرم کو چھپاتے ہوئے قانون کی آنکھوں میں دھول ڈال کر قانون کا تمسخر بناتے نظر آتے ہیں۔ کسی عام شہری کی انصاف تک رسائی کی بات کیا کریں یہاں اپنے مفاد کی خاطر حکومتیں قانون بدل دیتی ہیں ہر آنے والی حکومت خود پر لگائے گئے قانونی الزامات کو مٹانے اور خود کو صاف ستھرا ظاہر کرنے کے لئے قانون تک کی ترمیم کر دیتی ہیں۔

یہاں قانون اتنا سست ہے کہ انصاف کے طلبگار کی موت کے بعد اس کو انصاف کی پرچی ملتی ہے۔ جہاں پیسے والا گناہ گار یہ جانتا ہے کہ ہم پیسے دے کر آزادی سے باہر پھرتے رہیں گے اور اگر پکڑ ہوئی بھی تو گرفتاری سے پہلے بیل ہو جائے گی۔ سچ کہتے ہیں کہ قانون اندھا ہے۔ یہاں کسی کی گمشدگی کی خالی ایف آئی آر کروانے کے لیے جوتیاں گھسیٹنی پڑتی ہیں۔ زمینوں کے قبضے چھڑانے کے لیے نسلیں رول جاتی ہیں۔ جہاں حکمرانوں کے ہاتھوں میں انصاف کی ڈور ہو وہاں عوام تھانہ کچہری سے ڈرتی ہے اور کیوں نہ خوفزدہ ہوں یہاں انصاف پانے کے لیے دھن، دھرم یہاں تک کہ عزت تک کے سودے ہوتے ہیں یہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ یہاں تفتیش کی ابتدا ہی رپورٹ درج کروانے والے سے شروع ہوتی ہے۔ میں یہ مانتی ہوں کہ قانون اندھا ہوتا ہے مگر یہ بھی سچ ہے کے پتی لگائے بنا انصاف کی تکڑی ہلتی نہیں۔ اس ملک میں پتی کی بہت اہمیت ہے۔ جو کام ناممکن ہو عدالتی نمائندے جج وکیل سب جواب دے جائیں۔ وہ کام اس ملک میں پتی سے ہو جاتا ہے۔

مگر ایسا ہرگز نہیں کہ یہاں بالکل ہی تاریخی ہے۔ ابھی کچھ لوگ ہیں۔ ابھی کچھ ماؤں میں اپنے بچوں کو حلال و حرام کا سبق پڑھایا ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے عدالتیں قائم ہیں۔ ساری باتیں ایک طرف مگر پتی کا مقام ایک طرف۔ سب سے پہلے ہمیں اس کلچر کو ختم کرنا ہو گا۔ اس کے بعد تمام قانون ساز اداروں میں سے ان لوگوں کو چن چن کر باہر نکالنا ہو گا جن کا اس پیشے سے کوئی تعلق نہیں ان کا تعلق صرف اور صرف پیسے سے ہے۔ ایسے لوگ عدالتی نظام، پولیس، ججز اور وکلاء کے نام پر ایک بے ہودہ کرپٹ کلچر کو فروغ دے رہے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جو قانون کے اندر بیٹھ کر قانون کا سودا کر رہے ہیں ان کے پاس قانونی اسناد نہیں ہیں مگر یہ جانتے ہیں کہ پیسہ کیسے بنایا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے خلاف ایک تحریک چلانی چاہیے اس کا سب سے غلط اثر ان لوگوں کو ہو رہا ہے جو پڑھ لکھ کر قانون کو سمجھ کر اپنے پیشے کا حلف اٹھا کر اس فیلڈ میں ایمانداری اور دیانت داری سے کام کرنا چاہتے ہیں۔ قانون ہر معاشرے کے لئے بہت اہم ستون ہے۔ ہر شخص کا حق ہے کہ اس کو انصاف ملے مگر بدقسمتی سے انصاف کے طلبگار مصیبت کے وقت ہر شخص سے مدد کی آس رکھتا ہے یہ جان بغیر کہ یہ منصف بھی ہے یا نہیں۔

اگر حکومت وقت کو اپنے بکھیڑوں سے فرصت ملے تو سب سے پہلے اس نظام کو درست ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ لاکھوں لوگ اپنی نا انصافیوں کے ازالہ کے لیے عدالتوں کا رخ کرتے ہیں جہاں اصل اور نقل کی پہچان اور پتی سسٹم عوام کو قانون ہاتھ میں لینے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ان اداروں پر سے اعتبار اٹھ جائے فوراً سے پہلے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کرپشن کو نکال باہر مارا جائے۔ اور ہر انسان کو قانون کا پابند کیا جائے۔ چاہے وہ کسی بھی عہدے یا حکومت میں ہوں کیونکہ انصاف سب کے لئے برابر ہونا چاہیے۔

Latest posts by ثنا آغا خان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments