کامیابی کے بارے میں آپ کا تصور کیا ہے

ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے۔ انسانی فطرت میں ترقی، کچھ کرنے کی اور آگے بڑھنے کی جستجو قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے۔ لیکن کامیابی کی ایک قیمت ہوتی ہے جو بہت کم لوگ ادا کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔
کامیابی کیا ہے؟ یہ کیسے حاصل کی جاتی ہے؟ اس کو حاصل کرنے کا فارمولا کیا ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کون شخص کامیاب ہے اور کامیابی کا تعین، پیمائش یا اندازہ کیسے کیا جائے؟
اس سے پہلے ہم اس موضوع پر مزید گفتگو کریں۔ یہ ایک اہم بات ہے کوئی بھی انسان زندگی میں نہ تو مکمل طور پر کامیاب ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر ناکام، ہر انسان کو دنیا میں کئی دفعہ کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے اور ناکامی کا سامنا بھی ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ زندگی کے اس سفر کے اختتام پر اس کے حصے میں کتنی کامیابیاں آئیں اور کتنی ناکامیاں۔
درحقیقت کامیابی کی تعریف اور پیمائش ہی اصل مسئلہ پیدا کرتی ہے کیونکہ ہر شخص کامیابی کی پیمائش کے لئے اپنا اپنا ترازو لے کر ، اپنے پیمانے کے مطابق دوسروں کی کامیابی کو ماپنے کی کوشش کرتا ہے، جو میری نظر میں سب سے بڑی اور بنیادی غلطی ہے جو کامیابی کے تصور کو مصنوعی بنا دیتی ہے۔
مذہب، فلسفہ، نفسیات، سائنس اور سماج ہر ایک کی نظر میں کامیابی کا تصور بالکل مختلف ہے۔ ہزاروں سالوں سے انسان اس پر گفتگو کرتے آئے ہیں کہ کامیابی کا معیار کیا ہے۔ ایک بچے، ایک نوجوان اور ایک بزرگ کے لئے کامیابی کا تصور فرق ہو گا۔ ایک عام دیہاتی کسان کے لئے اور شہر میں ایک کاروباری انسان کے لئے کامیابی کا تصور اور پیمانہ ایک نہیں ہو سکتا ہے۔
میری نظر میں کامیابی کا تصور، نظریہ اور پیمائش بالکل فرق ہے اور آپ میں سے زیادہ تر لوگ شاید اس سے اتفاق نہ کریں، جو کہ آپ کا بنیادی حق ہے کیونکہ میرا اور آپ کا پس منظر، سوچ، حالات، واقعات اور چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا نظریہ ہی فرق ہے اور یہ ہی قدرت کی خوبصورتی ہے کہ انسان مختلف اور منفرد ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ کامیابی کوئی بھی حتمی اور فائنل پیمانہ نہیں بلکہ چند اصول یا ضابطے ہو سکتے ہیں جن کی بنیاد پر ہم کسی شخص کو کسی حد تک کامیاب کہہ سکتے ہیں لیکن پھر بھی میری سوچ کے مطابق ہر انسان کو اپنی کامیابی کے تصور کے مطابق، اپنے اصولوں پر کامیابی کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔
پہلا بنیادی اور اہم اصول یہ ہے کہ وہ انسان جسے ہم کامیاب کہتے ہیں وہ خود کو کامیاب سمجھتا ہے اور وہ اپنی کامیابی سے خوش اور مطمئن ہے۔
دوسرا اصول کیا وہ انسان اپنی کامیابی سے اپنے قریبی لوگوں کو متاثر کر پایا ہے۔
تیسرا اصول کیا وہ انسان اپنی کامیابی کو دوسروں کے لئے قابل تقلید مثال تصور کرتا ہے۔
میرے خیال میں اور بھی بہت سارے اصول اور سوالات ہو سکتے ہیں لیکن یہ وہ بنیادی اور اہم سوال ہیں جو ہمیں کامیابی کے تصور کو وسیع کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ باقی کامیابی کا جو معیار اور پیمانہ ہمارے معاشرے میں ہے۔ اس کے بارے میں صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ صرف مادی اشیاء تک محدود ہے جبکہ کامیابی بہت اوپر کی چیز ہے۔
رہی بات کامیابی کے بارے میں میرے خیال کی تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر وہ انسان کامیاب ہے جس کے بچے کہیں کہ انہوں نے اپنے والدین کی مانند بننا ہے۔ جس کے والدین فخر سے کہہ سکیں کہ ہمیں اپنے اس بچے کے والدین ہونے پر فخر ہے۔ باقی سارا کچھ مایا ہے، سمجھ نہ آئے تو اپنا سرمایہ کھو دیں، آپ کو اس معاشرے میں اپنی اصلی حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا۔ کئی لوگ مجھ سے بھی سوال کرتے ہیں کہ آپ خود کامیاب تصور کرتے ہیں؟
میں کہتا ہوں ہاں، کیونکہ مجھے میری زندگی کے سب سے بڑے مینٹور میرے دادا نے 102 کی عمر میں مرنے سے پہلے کہا تھا کہ میں تمہارے کام کو دیکھ کر اور تمہیں بولتا خود سن کر مجھے اطمینان ہے کہ میری نسل میری میراث کو جاری رکھ سکتی ہے، اس لئے اب میں سکون سے مر سکتا ہوں، لیکن میری روح نہیں مرے گی۔ اور انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا جب میں مروں تو مجھے سپرد خاک کرنے ضرور آنا۔
میں اپنے دادا کے چہرے پر مرتے ہوئے وہ خوشی دیکھی تھی، اور انہیں سپرد خاک کرتے ہوئے اپنا وعدہ نبھایا تھا۔ میرے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی کامیابی نہیں، باقی سب دنیا کی باتیں ہیں۔

