زیارت آپریشن: کرنل لئیق کی بازیابی کے لیے کی گئی کارروائی میں ہلاک ہونے والے شدت پسند تھے یا لاپتہ افراد، متضاد دعوے
جہاں حکومت کی جانب سے ان افراد کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ’دہشتگرد‘ قرار دیا جا رہا ہے وہیں ان کے اہلِخانہ نے اس حکومتی الزام کو مسترد کیا ہے۔
خیال رہے کہ 13 اور 14 جولائی کی درمیانی شب ڈی ایچ اے کوئٹہ کے سینیئر افسر لیفٹیننٹ کرنل لئیق بیگ مرزا اور ان کے چچا زاد بھائی عمر جاوید کے اغوا کے بعد سکیورٹی فورسز نے ضلع زیارت میں جو آپریشن کیا اس میں حکام کے مطابق نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
دونوں مغویوں کی محفوظ بازیابی ممکن نہیں ہو سکی تھی کیونکہ انھیں مبینہ طور پر اغوا کاروں نے ہلاک کر دیا تھا۔
لیفٹیننٹ کرنل لئیق مرزا کے اغوا اور قتل کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی تاہم بازیابی کے لیے کیے گئے آپریشن کے بعد بی ایل اے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ آپریشن میں تنظیم کا کوئی رکن ہلاک نہیں ہوا۔
اس آپریشن کے حوالے سے پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جو بیانات جاری کیے گئے، ان میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس آپریشن میں کالعدم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہلاک ہوئے جبکہ سیکورٹی فورسز کا ایک اہلکار بھی مارا گیا۔
متضاد دعوے
بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ و قبائلی امور میر ضیاء اللہ لانگو نے بتایا کہ آپریشن میں نو افراد مارے گئے جن میں پانچ کی شناخت شمس ساتکزئی، انجینیئر ظہیر، شہزاد بلوچ، مختیار احمد بلوچ اور سالم کریم بخش کے ناموں سے ہوئی ہے۔
اُنھوں نے بتایا کہ جن نو افراد کی لاشوں کو کوئٹہ منتقل کیا گیا ان میں سے پانچ کو ان کے رشتے داروں نے شناخت کیا ہے۔
اگرچہ مشیر داخلہ نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد نو بتائی لیکن بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتے داروں کے تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن کے نام پر اس مبینہ ’جعلی مقابلے‘ میں 11 لوگوں کو مارا گیا۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے الزام عائد کیا ہے کہ جن نو افراد کی لاشوں کو زیارت سے کوئٹہ منتقل کیا گیا ان میں سے پانچ کی شناخت ہوئی جو کہ پہلے سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے تھے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے اسے ’جعلی مقابلہ‘ قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم حکومت بلوچستان کے مشیر برائے داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ یہ جعلی مقابلہ تھا۔
ہلاک شدگان کون تھے؟
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتے داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں سے ایک لاش شمس ساتکزئی کی تھی۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ شمس ساتکزئی کو سنہ 2017ء میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔
اُنھوں نے بتایا کہ آخری مرتبہ گمشدگی سے پہلے بھی ان کو دو مرتبہ لاپتہ کیا گیا تھا اور پھر چھوڑ دیا گیا تھا جس کے باعث ان کے رشتے داروں نے ان کا نام نہ صرف ان کی تنظیم کے پاس درج نہیں کروایا بلکہ حکومتی کمیشن میں بھی کوئی درخواست نہیں دی۔
نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ جب وہ پیر کو شمس ساتکزئی کے رشتے داروں کے ہمراہ ان کی لاش لینے ہسپتال گئے تو ان کے رشتے داروں نے اُنھیں بتایا کہ ان کی جبری گمشدگی کے خلاف اُنھوں نے کہیں اس لیے رجوع نہیں کیا کیونکہ اُنھیں یہ توقع تھی کہ پہلے کی طرح ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔
نصراللہ بلوچ کے مطابق دوسری لاش انجینیئر ظہیر بلوچ کی تھی جن کو سات اکتوبر 2021ءکو ایئرپورٹ روڈ کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا تھا۔
اُنھوں نے بتایا کہ ان کی گمشدگی کی ایف آئی آر ان کے رشتے داروں نے نہ صرف متعلقہ پولیس سٹیشن میں درج کروائی بلکہ ہائیکورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے درخواست بھی لگائی جس کی آخری سماعت 27 جون 2022 کو ہوئی جبکہ اگلی سماعت 28 جولائی کے لیے مقرر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں سے متعلق حکومتی کمیشن میں بھی ان کے رشتے داروں نے درخواست دی تھی۔
نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ تیسری لاش شہزاد بلوچ کی تھی جن کو چار جون 2022ءکو کوئٹہ میں سریاب روڈ کے علاقے سے لاپتہ کیا گیا تھا۔
اُنھوں نے بتایا کہ ان کے رشتے داروں نے ان کا نام لاپتہ افراد کے رشتے داروں کی تنظیم کی فہرست میں شامل کروایا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ حکومتی کمیشن میں بھی درخواست دی گئی تھی۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نے مزید بتایا کہ مبینہ طور پر دوران حراست مارے جانے والوں میں ڈاکٹر مختار احمد بلوچ کی لاش بھی تھی جن کو 11 جون کو کوئٹہ سے مبینہ طور پر لاپتہ کیا گیا تھا جبکہ سالم بلوچ کی لاش کی شناخت بھی ہوئی ہے جن کو پنجگور سے کوئٹہ آتے ہوئے مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ باقی چار افراد کی تاحال شناخت نہیں ہوئی تاہم لوگ ان کی شناخت کے لیے آ رہے ہیں لیکن ہسپتال میں مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے لاشیں خراب ہو رہی ہیں۔
لواحقین کیا کہتے ہیں؟
بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والی عظمیٰ بی بی کے بھائی انجینیئر ظہیر بلوچ ان افراد میں شامل ہیں جن کی لاش اس آپریشن کے بعد جائے وقوعہ سے برآمد ہوئی ہے۔
اُنھوں نے اپنے بھائی کے کسی مقابلے میں مارے جانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ اکتوبر 2021ء میں جبری گمشدگی کے بعد سے وہ ریاستی اداروں کی حراست میں تھے۔
ان کی عمر 26 سال کے لگ بھگ تھی اور اُنھوں نے انجنیئرنگ یونیورسٹی خضدار سے الیکٹریکل انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی۔
عظمیٰ بی بی نے کہا کہ بھائی کی بحفاظت بازیابی کے لیے اُنھوں نے ہر در پر دستک دی لیکن وہ زندہ بازیاب تو نہیں ہوئے بلکہ 10 ماہ بعد ان کی تشدد زدہ لاش ہمیں ملی۔
اُنھوں نے کہا کہ ان کے بھائی کا تعلق کسی تنظیم سے تھا اور نہ ہی وہ زیارت میں فورسز سے مقابلے میں مارے گئے۔
عظمیٰ نے کہا کہ اگر اُن کے بھائی مقابلے میں مارے گئے تھے تو ان کے ہاتھوں پر مبینہ طور پر ہتھکڑیوں اور آنکھوں پر پٹی باندھے جانے کے نشانات کیوں تھے۔
’میرے بھائی کے ہاتھوں پر ہتھکڑیوں کے گہرے نشانات تھے۔ ان کے پیر، ہاتھ اور چہرہ بہت زیادہ سفید تھا اور یوں لگتا تھا کہ طویل عرصے سے ان کو سورج کی روشنی لگی ہی نہیں۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ہمارے بھائی کا کوئی قصور نہیں تھا اور اگر حکومت اور اس کے ادارے یہ سمجھتے تھے کہ اُنھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو ان کو اپنے قوانین کے تحت عدالتوں سے سزا دلواتے مگر ایسا سلوک نہیں کیا جاتا۔
اسی طرح ایک اور شناخت ہونے والے شخص شہزاد احمد کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے گیاوان سے تھا۔
ان کے بھائی عبدالحمید نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ شہزاد کی عمر 23 سال تھی اور انھوں نے کوئٹہ کے پولی ٹیکنک کالج سے سول انجنیئرنگ میں ڈپلومہ کر رکھا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ اُن کے بھائی قلات سے کوئٹہ اپنی سند لینے آئے تھے اور اُنھیں چار جون کو پولی ٹیکنک کالج کے قریب سے ہی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
’بھائی کی جبری گمشدگی کے بعد ان کی بازیابی کے لیے میں نے بہت کوشش کی اور مجھے یہ تسلی دی گئی تھی کہ ان کو چھوڑ دیا جائے گا۔‘
عبدالحمید کے مطابق ان کے بھائی کا تعلق کسی تنظیم کے ساتھ نہیں تھا اور دعویٰ کیا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں ہلاک نہیں ہوئے۔
ڈاکٹر مختیار احمد کا تعلق کوئٹہ شہر سے تھا۔ اُنھوں نے بلوچستان یونیورسٹی سے فزیوتھراپی کی تعلیم حال ہی میں مکمل کی تھی اور پریکٹس شروع کی تھی۔
ان کے ایک قریبی رشتے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا تعلق کسی سیاسی و عسکری تنظیم سے نہیں تھا۔
شناخت کیے جانے والے دو دیگر افراد شمس ساتکزئی اور سالم کے رشتے داروں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل نہیں کی جا سکیں۔
سرکاری مؤقف کیا ہے؟
زیارت آپریشن کے حوالے سے کوشش کے باوجود تاحال سیکورٹی فورسز کا مؤقف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے تاہم جب اس سے قبل بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ان کی تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی سے متعلق سیکورٹی فورسز کے ایک سینیئر اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ’ایک سوچی سمجھی سازش‘ ہے جس کے تحت پاکستان کو بدنام کیا جا رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’حکومت کے قائم کردہ کمیشن کے مطابق لاپتہ افراد کے 8381 کیس رپورٹ کیے گئے اور ان میں سے 6163 کیسز عدالتی تحقیقات کے بعد ختم کر دیے گئے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کمیشن روزانہ کی بنیاد پر کیسز کی سماعت کرتا ہے۔ تحقیقات کے مطابق زیادہ تر افراد کو دہشت گرد تنظیمں اغوا کر کے قتل کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔‘
مشیرِ داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ جہاں تک حقیقی لاپتہ افراد کی بات ہے اور وہ اگر ریاستی اداروں کے پاس ہوں گے تو ہم ان کی بازیابی کے لیے ہرممکن کوشش کریں گے تاکہ وہ منظر عام پر آ جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات میں جو لوگ مارے جاتے ہیں ان میں سے بعض لوگوں کے نام بھی لاپتہ افراد کے فہرست میں شامل ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے اُنھوں نے کراچی میں چینی قونصل خانے، کراچی سٹاک ایکسچینج، گوادر میں پرل کانٹی نینٹل ہوٹل، اور پنجگور و نوشکی میں ایف سی کیمپوں پر حملوں کا حوالہ دیا۔
تاہم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے سربراہ نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جن واقعات میں مارے جانے والوں کا ذکر مشیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا ان میں سے کسی کا بھی نام لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل نہیں تھا۔


