مشکل کا شکار کمپنیوں میں خواتین کو چیف ایگزیکٹو کیوں بنایا جاتا ہے؟
جنوری سنہ 2009 میں جب کیرول بارٹز کو یاہو میں چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا تو اُس وقت یہ انٹرنیٹ کمپنی مشکلات سے دوچار تھی۔ کیرول کو چار سال کے عرصے کے لیے ایک معاہدے کے تحت یہ عہدہ دیا گیا تھا اور انھوں نے کمپنی کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے ایک سٹریٹجک منصوبہ پیش کیا تھا لیکن ستمبر سنہ 2011 میں یعنی کمپنی میں شامل ہونے کے صرف دو سال اور آٹھ ماہ بعد، یاہو کے بورڈ کے چیئرمین نے انھیں ایک ٹیلی فون کال کر کے، اس عہدے سے سبکدوش کر دیا۔
امریکہ کی یوٹاہ سٹیٹ یونیورسٹی میں مینجمنٹ کی پروفیسر ایلیسن کُک کہتی ہیں کہ ’انھوں نے (اُسے اپنے سٹریٹجک منصوبے) کو بھی عملی جامہ پہنانے کا وقت نہیں دیا۔‘
کیرول بارٹز ان، ان گنت خواتین لیڈروں میں سے ایک ہیں جن کو قیادت کی ایک غیر یقینی حیثیت دی گئی اور وہ بغیر کسی سہارے کے ’مشکل حالات کے آخری کنارے کی حد‘ پر خطر حالات میں کھڑی ہوئیں (اِن حالات کو اب ’گلاس کلِف‘ کہتے ہیں یعنی وہ حالات جب ایک کمپنی یا سیاسی مشکل کے وقت قیادت کسی عورت یا کسی اقلیتی فرد کو دی جاتی ہے)۔
تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ خواتین اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو کمپنی، کھیلوں کی ٹیم، یہاں تک کہ ملک کی قیادت کے لیے منتخب کیے جانے کا امکان اُس وقت زیادہ ہو جاتا ہے جب وہ کمپنی یا ملک بحرانی حالت میں ہو۔ اگرچہ ’گلاس کلِف‘ کی پوزیشن کچھ لیڈروں کے لیے اپنی اہلیت ثابت کرنے کا ایک موقع فراہم کر سکتی ہیں لیکن یہ مواقع بنیادی طور پر زوال کی جانب لے جاتے ہیں – جن میں اعصابی تناؤ، ضرورت سے زیادہ محنت اور اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے ڈگمگا جانے کے امکانات ز یادہ ہوتے ہیں۔
سنہ 2003 میں برطانیہ کے انگریزی روزنامے ’دی ٹائمز‘ میں لکھتے ہوئے صحافی الزبتھ جج نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لندن کی سٹاک ایکسچینچ کی انڈیکس FTSE 100 کمپنیوں نے اپنے بورڈز پر مردوں کی نسبت خواتین نے زیادہ بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پھر دعویٰ کیا تھا کہ برطانوی فرموں میں اپنی امکانی ترقی کی حدود سے آگے بڑھ جانے والی، یعنی ’گلاس سیلِنگ‘ توڑنے والی، خواتین نے ’کمپنیوں کی کارکردگی اور حصص کی قیمتوں کو تباہ کر دیا۔‘
برطانیہ میں ایکسیٹر یونیورسٹی کے محققین نے اس ظاہری تعلق کی تحقیقات کا آغاز کیا۔ انھوں نے بورڈ ممبر کی تقرری سے فوراً پہلے اور بعد میں FTSE 100 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں تبدیلی کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کون سی بات پہلے ہوئی، آیا خواتین کی تقرری یا حصص کی قیمتوں میں کمی۔ انھوں نے محسوس کیا کہ یہ تعلق درحقیقت دوسرے انداز کا بنتا ہے، وہ کمپنیاں جنھوں نے خواتین کو اپنے بورڈ میں تعینات کیا تھا وہ پہلے ہی خراب کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔
جب انھوں نے اپنی تحقیق کے نتائج شائع کیے تو میشئل ریان اور ایلکس ہاسلم نے ان عہدوں کی غیر یقینی صورتحال اور اس لطیف امتیاز کو بیان کیا جس کا مطلب تھا کہ کمپنیوں نے ان مشکل حالات میں ‘گلاس کلِف’ کے حالات میں خواتین کی تقرری عمومی حالات میں کی گئی تقرریوں سے کہیں زیادہ کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے:
وہ خصوصیت جو خواتین کے کیریئر کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے
لینا نائر، جو لگژری فیشن برانڈ شینیل کی عالمی چیف ایگزیکٹیو بن گئیں
ٹھیلے پر چائے فروخت کرنے والی خاتون برطانیہ کی کامیاب کاروباری شخصیت کیسے بنیں؟
بعد کی تحقیق میں پتہ چلا کہ بحرانی کیفیات میں سیاست، کھیلوں اور دیگر جگہوں پر بھی اسی طرح کی ‘گلاس کلِف’ والی تقرریاں دیکھی گئیں۔ بحرانی حالات کے ایسے حالات میں تقرریاں صرف خواتین کی ہی نہیں ہوئی تھیں بلکہ ان اقلیتی گروہوں کے افراد کو بھی ہوئی تھیں جنھیں عمومی حالات میں ترقی یا تقرری کا موقع نہیں ملتا ہے اور جن کی قائدانہ سطح پر عموماً کم نمائندگی ہوتی ہے۔
کُک اور اس کی ساتھی کرسٹی گلاس کی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ امریکی کالج کے مردوں کے باسکٹ بال ٹیموں میں نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کوچز کے سفید فام کوچز کے مقابلے میں، ہارنے والی ٹیموں میں ترقی پانے کا امکان زیادہ تھا۔ محققین نےپانچ سو بڑی کمپنیوں کی فہرست (Fortune 500) کمپنیوں میں 15 سال کے عرصے میں پروموشن پیٹرن کا بھی تجزیہ کیا اور دیکھا کہ – سفید فام مردوں کے مقابلے میں – سفید فام خواتین اور مرد اور خواتین دونوں کو مشکل حالات میں پھنسی فرموں میں چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کے طور پر مقرر کیے جانے کا زیادہ امکان ہے۔
سنہ 2005 کے برطانیہ کے عام انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کی خواتین امیدواروں نے اپنے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل نشستوں پر مقابلہ کیا۔ سیاہ فام اور اقلیتی نسلی قدامت پسند امیدواروں کو برطانیہ کے تین عام انتخابات میں اسی طرح کے ‘گلاس کلِف’ کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔
‘گلاس کلِف’ کی کیفیت دیگر قسم کے تجربات میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ جب 80 انڈرگریجویٹ طلبا سے ایک جائزے میں پوچھا گیا کہ وہ برطانیہ کے ضمنی انتخاب میں کسی ایک محفوظ نشست یا حزب اختلاف کی نشست کے لیے ایک خیالی امیدوار کے طور پر کس کا انتخاب کریں گے تو جائزے کے شرکا کا زیادہ امکان تھا کہ وہ محفوظ نشست کے لیے ایک مرد اور حزب اختلاف کی نشست جس پر کامیابی کے امکانات کم تھے، اُس کے لیے ایک عورت کو امیدوار کے طور پر نامزد کریں گے۔
لیکن یہ رجحان ہر جگہ نظر نہیں آتا، اور، برطانیہ اور جرمنی کی کمپنیوں میں ‘گلاس کلِف’ تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد کچھ محققین اس حد تک چلے گئے ہیں کہ وہ اے محض ایک ‘افسانہ’ قرار دیتے ہیں۔
ریان، جو اب آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں گلوبل انسٹی ٹیوٹ فار ویمنز لیڈرشپ کی ڈائریکٹر ہیں، کہتی ہیں کہ ‘گلاس کلِف’ کو عالمی سطح پر دیکھا نہ جانا اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ اس کا ہونا بہت سے عوامل پر منحصر ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘ہماری تحقیق یہ نہیں کہتی ہے کہ ہر عورت کو گلاس کلِف کی صورت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا یہ کہ غیر مرد خطرناک قیادت کے عہدوں پر فائز ہیں – بلکہ یہ کہ خواتین گلاس کلِف کی پوزیشنوں میں زیادہ نمائندگی کرتی ہیں۔’
امریکی ریاست انڈیانا میں پرڈیو یونیورسٹی کی تھیکلا مورگنراتھ اور اُن کی ساتھیوں نے سنہ 2020 میں 74 موجودہ تحقیقی رپورٹوں سے ڈیٹا لیا اور اس کا میٹا تجزیہ کیا جس میں انھیں نظر آیا کہ ‘گلاس کلِف’ کیفیت کے رجحان کے شواہد ملے جلے تھے۔
تجرباتی مطالعات میں بحران کے وقت خواتین کو مردوں کے مقابلے میں لیڈر کے طور پر منتخب کیے جانے کا زیادہ امکان تھا، اور یہ اثر ان ممالک میں زیادہ واضح تھا جہاں صنفی عدم مساوات زیادہ ہے۔ لیکن تجزیے کا حصہ حقیقی دنیا کے اعداد و شمار کو دیکھتا ہے تو ان میں خاص طور پر ان ممالک کے انتظام میں ‘گلاس کلِف’ کی کیفیات نہیں ملیں – خاص کر جہاں اس رجحان کو پہلی بار دیکھا کیا گیا تھا – حالانکہ ‘گلاس کلِف’ کا رجحان سیاست اور تعلیم اور غیر منافع بخش شعبوں میں نظر آیا۔
مورگنراتھ کا کہنا ہے کہ ‘یہ ہو سکتا ہے کہ انتظامی سطح پر گلاس کلِف کوئی چیز نہیں ہے، یا یہ کہ اس معاملے میں مزید عوامل اور مزید باریکیاں ہیں جنہیں ہم نے ابھی نہیں اٹھایا۔’ یہ ہو سکتا ہے کہ کچھ شعبوں میں یہ اب کوئی مسئلہ نہ ہو، مثال کے طور پر مشترکہ کارروائی کی بدولت یا یہ کہ ثقافتی اختلافات کی وجہ سے یہ صرف کچھ ممالک میں موجود ہے، اور دوسروں میں نہیں ہے۔
‘گلاس کلِف’ کی وضاحتیں تین اہم زمروں میں آتی ہیں، نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کی خدمات حاصل کرنے والے یہ سوچ سکتے ہیں کہ عمومی روایتی یا دقیانوسی تصور کے لحاظ سے خواتین کی خصوصیات بحران میں مددگار ہوتی ہیں۔ ایک سیاسی جماعت بیرونی دنیا کو یہ اشارہ دینا چاہتی ہے کہ وہ بدل رہی ہے۔ یا شاید فیصلہ ساز لوگ محض بعض گروہوں کے خلاف تعصب کا شکار ہیں۔
اس بات کا امکان ہے کہ عوامل کا ایک مجموعہ اثر انداز ہورہا ہے۔ ریان کا کہنا ہے کہ ‘ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ گلاس کلِف دیگر عوامل کے اثرات کو زیادہ بڑھا دیتی ہے۔’
صنفی عمومی تصورات پر تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بحران کے وقت لوگ سوچتے ہیں کہ لیڈر میں دقیانوسی طور پر (یا سٹیریوٹائپ) ‘خواتین’ کی خصلتیں زیادہ اہم ہوتی ہیں، اور یہ کہ دقیانوسی طور پر ‘مرد’ خصلتیں کم مطلوب ہوتی ہیں۔ لیکن ان تحقیقات میں صنفی خصلتوں اور ممکنہ رہنماؤں کے اصل جنس کی خصلتوں کی اصطلاحات کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
پچھلے سال شائع ہونے والی ایک تحقیق میں سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف جنیوا میں کلارا کُلیچ اور اسپین کی ڈیوسٹو یونیورسٹی میں لیئر گارٹزیا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر صنف اور صنفی دقیانوسی تصورات کو الگ الگ دیکھنے کے لیے ایک تحقیقی جائزہ تیار کیا۔
انہوں نے شرکا سے تین منظرناموں میں ایک خیالی کمپنی کے بارے میں پڑھنے کو کہا: ملازمین کے درمیان اندرونی انتشار، ناقص مالیاتی انتظام، یا کوئی بحران نہیں ہے۔ پھر انہیں سی ای او کے لیے امیدواروں کی مختصر ‘سی ویز’ دی گئیں، جس میں ان کے کام کرنے کے انداز کی ایک مختصر وضاحت پیش کی گئی جو صنفی خصائص سے بھری ہوئی تھی، جیسے کہ وہ غور و فکر کرنے والے اور مہربان ہیں، یا خود مختار اور فیصلہ کن ہیں۔
انہوں نے جو دیکھا وہ یہ تھا کہ دقیانوسی یا روایتی طور پر خواتین یا فرقہ وارانہ خصلتوں کے حامل امیدواروں کو، جیسے کہ مہربان ہونا، بحران کے پس منظر میں کمپنی کے لیے پسند کیا گیا، جب کہ دقیانوسی طور پر مردانہ خصلتوں کے ساتھ بیان کردہ امیدواروں کو، جیسے فیصلہ کن ہونا، مالی بحران کے لیے پسند کیا گیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ سوالنامہ اس بات سے آزاد تھا کہ آیا ان خصلتوں کے حامل امیدواروں کو مرد کے طور پر پیش کیا گیا ہے یا عورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
جنس کے اثر کو الگ کرنے کے لیے ان کے نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے محققین نے دیکھا کہ خواتین کو بحران کے حوالے سے، پھر مالیاتی بحران، اور آخر میں غیر بحرانی صورت حال کے لیے ترجیح دی گئی۔ دوسرے لفظوں میں خواتین کو بحران میں ترجیح دی جاتی تھی یہاں تک کہ جب دقیانوسی طور پر نسائی خصلتوں کو مطلوبہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ کلیچ کہتی ہیں کہ ‘ایسا لگتا ہے کہ صنف کے بارے میں ایسی ضرور کوئی بات ہے جو ہمیں مختلف قسم کے بحرانوں میں خواتین کو (لیڈر کے طور پر) منتخب کرنے پر مجبور کرتی ہے۔’
وہ کہتی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ دقیانوسی تصورات کہانی کا ایک حصہ ہیں، لیکن یہ قیادت کے انتخاب کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتے ہیں۔
اگر یہ دقیانوسی تصورات کے بارے میں نہیں ہے تو پھر ‘گلاس کلِف’ کی وجہ کیا ہے؟ بحران میں مبتلا کمپنیاں شاید یہ ظاہر کرنا چاہیں کہ وہ اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے وہ ایک نئے رہنما کا انتخاب کر سکتی ہیں جو ان کے پیشرو سے نمایاں طور پر مختلف ہو۔
اگرچہ نسلی اقلیتوں کے لیڈروں کے لیے ‘گلاس کلِف’ کی تحقیق کرنے والے بہت کم مطالعات تھے جیسا کہ خواتین کے لیے ہیں، لیکن جو موجود ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہ مسئلہ ان گروہوں کے لیے اُتنا ہی شدید ہے جتنا کے خواتین کے لیے ہے۔ مزید یہ کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف اقلیتی نسلی پس منظر کے لوگوں کے لیے ‘گلاس کلِف’ کے سائز میں کوئی فرق نہیں ہے۔
مورگنراتھ اس وضاحت کے ساتھ کہ ‘حقیقی دقیانوسی تصورات یا اوصاف جن کے بارے میں آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان گروہوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، کہتی ہیں کہ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ‘گلاس کلِف’ کے تصور سے یہ کمپنیاں تبدیلی کا اشارہ دینا چاہتی ہیں۔ یہ واقعی صرف اس کے بارے میں ہے کہ ‘اوہ، وہ مختلف ہیں’۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کیسے مختلف ہیں جب تک کہ وہ دیکھنے میں مختلف ہوں۔’
یہ ‘گلاس کلِف’ کے پیچھے محرک قوت کے طور پر تعصب کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔ درحقیقت تبدیلی کا اشارہ دینے کے لیے ایک نئے لیڈر کو استعمال کرنے اور انہیں قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کرنے کے درمیان ایک عمدہ لکیر ہوسکتی ہے۔ کلیچ کہتی ہیں کہ ‘آپ انہیں اس وقت تک وہاں نہیں رکھتے جب تک کہ آپ کے پاس کوئی بہتر حل نہ ہو، لیکن آپ واقعی اس بات پر یقین نہیں کرتے کہ وہ اصل میں کیا کر سکتے ہیں۔’
بلاشبہ ہر وہ شخص جو کم نمائندگی والے گروہوں کے لوگوں کو قیادت کے عہدوں پر دیکھنا چاہتا ہے اس کے ذہن میں کوئی منفی مقاصد نہیں ہوتے ہیں۔ فرانس اور سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بائیں بازو کے حصہ لینے والے اقلیتی امیدواروں کو سیاسی عہدے کے لیے مشکل سے جیتنے والی نشستوں پر انتخاب لڑایا جانے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے، ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ایسا ‘گلاس کلِف’ امیدوار حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔
فیصلہ سازوں کے محرکات اور ان کی مدد سے ‘گلاس کلِف’ کی پوزیشنوں میں بہت بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف جنیوا میں سارہ رابنسن کی سربراہی میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں خواتین ڈیموکریٹک امیدوار مشکل سے جیتنے والی نشستوں پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں، زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہیں اور بعض اوقات جیت جاتی ہیں، جب کہ ریپبلکن پارٹی کی خواتین کو ایسی کامیابی حاصل نہیں ہوتی ہے۔
کلیچ کہتی ہیں کہ ‘ہم اُس نفسیات کی پیمائش نہیں کرتے جو ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کی قیادت کے ذہنوں میں چل رہی ہوتی ہے، لیکن اس سے یہ یقین کرنے کا جواز بنتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی میں خواتین امیدواروں کے لیے حمایت زیادہ ہے۔’
بلاشبہ ہر پیش کش کے دو پہلو ہوتے ہیں – اور جو لوگ غیر معمولی عہدوں کو قبول کرتے ہیں ان کے مقاصد کو حال ہی میں تفصیل سے دیکھا گیا ہے۔
ایلیسن کُک کا کہنا ہے کہ ‘ابتدائی دعووں میں سے ایک یہ تھا کہ شاید یہ واحد موقع ہے جو وہ سمجھتے ہیں کہ وہ حاصل کرنے جا رہے ہیں، لہذا وہ آگے بڑھیں گے اور اسے حاصل کریں گے۔’ لیکن اس کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کم از کم کچھ اقلیتی رہنماؤں کے لیے اس بیانیے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف ان کے ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایسا کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔’
کُک نے 33 خواتین اور غیر سفید پسند دیگر اقلیتی نسلیتی گروہوں کے لوگوں کا انٹرویو کیا جو امریکہ میں مختلف صنعتوں میں اعلیٰ قیادت کے کردار میں ہیں اور ان میں سے تقریباً سبھی نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد پُرخطر، ‘آر یا پار’ منصوبوں کا ذکر کیا۔ صرف یہی نہیں انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود کو ثابت کرنے اور کیریئر بنانے کے لیے ان مشکل منصوبوں کا انتخاب آگے بڑھ کر خود سے کیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ‘ان میں سے بہت سے لوگوں کے پاس یہ اختیار ہے اور انہوں نے اپنے آپ اہل قائد ثابت کرنے کے لیے خود ایسے چلینجز قبول کیے۔ ان کے پورے کیرئیر میں ایسے ہی حالات رہے ہیں۔ وہ ‘ٹرنراؤنڈ آرٹسٹ’ (ڈوبتے ہوئے کاروبار کو بحال کتدینے والا شخص) کے طور پر جانے جاتے ہیں، یعنی کہ وہ واقعی ان مشکل حالات میں اچھے ہیں، کیونکہ انہیں ایسے مشکل حالات کا بار بار سامنا کرنا پڑتا رہا ہے۔’
لیکن خوشی سے ‘گلاس کلِف’ کی پوزیشن میں جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ‘خطرے کا ٹیکس’ (یعنی ان کی تقرری کی وجہ سے نقصانات کا امکان اور انھیں اس کی جو قیمت) جو کہ کم نمائندگی والے گروہوں کے ممبران اپنے پورے کیریئر میں ادا کرتے رہتے ہیں، وہ بہت زیادہ ہے۔
ایسا کام کرنے والے اگر آغاز میں اسے کسی پُرخطر اسائنمنٹ کے ذریعے نہیں کرتے ہیں تو ہو سکتا ہے آپ کو دوسرا موقع نہ ملے۔ اگر آپ اسے پورا کر لیتے ہیں تو امکان ہے کہ آپ کو بار بار اپنے آپ کو ثابت کرتے رہنا پڑے گا۔ کُک کہتی ہیں کہ ‘یہ (کام) صرف تھکا دینے والا ہو جاتا ہے۔’
وہ اپنی 50 کی دہائی کے اوائل میں ایک ایسے شخص کو یاد کرتی ہیں جس کا انھوں نے انٹرویو کیا، وہ جلد ہی اپنے کردار سے دستبردار ہونے کا ارادہ رکھتی تھی کیونکہ وہ اسے مزید برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ کُک کہتی ہیں کہ ‘یہ سننا واقعی مشکل تھا۔ آپ اپنی افرادی قوت میں سے ایسے واقعی باصلاحیت لوگوں کو ضائع کر رہے ہیں، کیونکہ انھیں اضافی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔’
یہ محسوس کرنے کا اضافی دباؤ بھی ہے کہ آپ نہ صرف اپنی بلکہ آپ جیسے دوسروں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ کُک نے جن لوگوں کے انٹرویو لیے ان میں سے ایک، لیٹنا کی ایک سینئر ایگزیکٹو، نے کہا کہ اس کے خیال میں ان کی کسی بھی ناکامی سے مستقبل کے لیٹنا کے امیدواروں کو نقصان پہنچے گا۔ اسی طرح ایک سیاہ فام مرد ایگزیکٹو نے سینئر کرداروں کے لیے سیاہ فام امیدواروں کا اندازہ لگانے کے بارے میں کہا کہ ‘اگر وہ ناکام ہو جاتا ہے، تو یہ دوسروں کی طرف سے اس فقرے ‘میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ ناکام ہوگا’ کے مترادف ہوگا۔ وہ ایسی کامیابی یا ناکامی کی وجہ اس کے لیے کی جانی والی جد و جہد بیان کرتے ہیں۔’
یہ خیال کہ اقلیتی لیڈروں کی ناکامی سفید فاموں کی واپسی کی راہ ہموار کرے گی، مردانہ معیار کو کُک کی تحقیق سے تائید حاصل ہوتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کسی پیشہ ور اقلیتی سی ای او کے دور میں کسی فرم کی کارکردگی میں کمی آتی ہے، تو ان کی جگہ ایک سفید فام آدمی کے آنے کا امکان ہوتا ہے۔ محققین اسے ‘نجات دینے والا اثر’ کہتے ہیں۔
اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کچھ لیڈروں کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ جانچ پڑتال اور امتحانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایکٹیوسٹ سرمایہ کار – جو کمپنی کی سمت کو ترتیب دینے کے لیے اس میں حصص خریدتے ہیں – خواتین سی ای او کو ان کے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں مشکل وقت دیتے ہیں۔ خواتین کو مردوں کے مقابلے سی ای او کے طور پر مختصر مدتِ ملازت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے ناکام ہونے والی کمپنی کو بہتر بنانے کے مشکل کام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کُک کہتی ہیں کہ ‘گلاس کلِف’ کے آغاز کی وجہ سے (آپ) خسارے کے ساتھ کام شروع کر رہے ہیں۔ آپ ان سے نہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ آپ کی کامیابی میں مدد کریں، بلکہ وہ آپ کو مشکلات سے نکالیں اور پھر کامیاب ہوجائیں۔ یہ ایک طویل عرصے کا اور ایک بڑا چیلنج ہے۔’
‘گلاس کلِف’ کے نتائج انفرادی کیریئر اور کمپنیوں کے باصلاحیت ملازمین کو کھونے سے کہیں زیادہ بڑھ سکتے ہیں۔ ریان کا کہنا ہے کہ ‘گلاس کلِف’کی پوزیشنوں پر خواتین کا ہونا صنفی دقیانوسی تصورات کو تقویت دینے میں مدد کر سکتا ہے کہ خواتین قیادت میں اچھی نہیں ہیں۔ اگر خواتین پرخطر اور غیر یقینی پوزیشنوں پر ہوں تو ان کی کارکردگی کا زیادہ منفی جائزہ لیا جا سکتا ہے، اور اسی وجہ سے عدم مساوات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔’
جیسا کہ صنفی مساوات میں اضافہ ہوتا ہے، ‘گلاس کلِف’، نظریاتی سطح پر، ختم ہو جائے گا۔ یہ پہلے ہی امریکہ اور برطانیہ جیسے کم صنفی برابری والے ممالک کی نسبت سوئٹزرلینڈ اور جرمنی جیسے مساوات پر اعلیٰ درجہ والے ممالک کے مطالعے میں چھوٹا مسئلہ دکھائی دیتا ہے۔ مورگنراتھ کا کہنا ہے کہ ‘یہ ممالک ثقافتی طور پر کافی ایک جیسے ہیں۔ یہ حیرت انگیز اور شاید حوصلہ افزا ہے کہ صنفی عدم مساوات میں چھوٹی چھوٹی بہتریاں بھی واقعی بڑی بہتری پیدا کر سکتی ہیں۔’
ایسے شواہد موجود ہی کہ اقدامات لینے سے ‘گلاس کلِف’ کیفیت کو پیدا ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔
حال ہی میں برطانیہ کے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کے امیدواروں کے طور پر کھڑی خواتین کو ‘گلاس کلِف’ کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کی لیبر پارٹی کے ہم منصبوں کو ایسا نہیں ہوا۔ ایک تحقیق کے مطابق، سنہ 1997 سے لیبر کے اندر استعمال ہونے والی حکمت عملیوں، جن میں جیتنے کے قابل نشستوں میں تمام خواتین امیدواروں کی شارٹ لسٹ شامل ہیں، اب اس کا مطلب ہے کہ ان کی خواتین امیدواروں کے بھی اتنے ہی امکانات ہیں جتنے مردوں کی انتخابی کامیابی کے بنتے ہیں۔
مورگنراتھ کا کہنا ہے کہ ‘اگر آپ کے پاس کوٹے کی کچھ شکلیں ہیں تو اس سے متعصبانہ فیصلے کے عمل کو بدلنا بہت مشکل ہے۔ یہ ایک بہت ہی پریکٹیکل چیز ہے جسے آرگنائزیشنز خود سے نافذ کر سکتی ہیں۔’
اگر لوگوں کے بعض گروہوں کو دوسروں پر ترجیح دینے کی ایک مشترکہ کوشش کو ‘دوست نوازی’ لگتی ہے تو ‘گلاس کلِف’ پر ایک اور نقطہ نظر سے غور کریں: ‘گلاس کلِف’ پر ایک دہائی کے کام کا جائزہ لینے والے ایک مقالے میں، ریان اور اُن ساتھیوں نے مشورہ دیا ہے کہ مردوں کو غیر متناسب طور پر دی جانے والی قائدانہ پوزیشنیں – ایک ‘گلاس کا کشن’ – مسئلے کی جڑ ہو سکتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ‘خواتین کے نقصانات پر توجہ مرکوز کرنے سے ہم مردوں کے استحقاق اور فائدے کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔’
اگرچہ قیادت کی کچھ ذمہ داریاں دوسروں کے مقابلے میں ہمیشہ مشکل ہوتی ہیں، لیکن تمام قسم کے لیڈروں کو یکساں تعاون فراہم کرنا مشکلات میں ذمہ داریاں اٹھانے والوں کے حالات کو تھوڑا کم خطرناک بنا سکتا ہے۔


