پاکستانی موسیقی کا سب سے بڑا تجربہ اور نصرت فتح علی خان


نوے کی دہائی کے اوائل میں پی ٹی وی اپنے عروج پر تھا، کسی بھی ڈرامے یا پروگرام میں ایک آدمی کی ایک جھلک یکمشت پورا پاکستان دیکھتا تھا، نئے آنے والے اداکار اپنے پہلے ہی ڈرامے میں راتوں رات سٹار بن جاتے تھے۔

استاد نصرت فتح علی خان فیصل آباد کے ایک بڑے قوال گھرانے سے تھے، بطور قوال اپنا نام بنا چکے تھے، لیکن اللہ تعالی نے انہیں گلے کے ساتھ کمپوزیشنز یعنی نئی نئی دھنیں بنانے کے ٹیلنٹ سے بھی نوازا تھا، تب انہوں نے پاکستان کی موسیقی کی تاریخ کا سب سے بڑا تجربہ کیا یعنی روایتی قوالی کو مغربی سازوں سے مزین کر دیا (دم مست قلندر مست مست) ۔

جب وہ یہ قوالی لے کر پی ٹی وی لاہور سینٹر پہنچے تو اس وقت کے جنرل مینیجر جو موسیقی کے بہت بڑے پروڈیوسر بھی تھے (بے شمار موسیقاروں اور سنگرز کو انٹروڈیوس کروا چکے تھے اور نصرت فتح علی خان کے بڑوں کو اچھی طرح ناصرف جانتے تھے بلکہ ان کے قریب بھی رہ چکے تھے ) نے خان صاحب کو اپنے سیکرٹری کے کمرے میں ویٹ کرنے کو کہا، خاں صاحب وہاں گھنٹوں بیٹھے رہے، اس اثناء میں بہت سے سنگرز اور میوزیشنز جنرل مینیجر کے کمرے میں آئے اور گئے لیکن خان صاحب کو نا بلایا گیا، جب ایک انتہائی معمولی سا شوقیہ سنگر سیکریٹری سے پوچھے بغیر جنرل منیجر کے کمرے میں گھسا تب خاں صاحب سے نہ رہا جا سکا اور وہ اٹھ کر چل دیے، چند جونیئر پروڈیوسرز نے بلڈنگ کے اندر والے گیٹ میں خان صاحب کو ناراض ہو کر جاتے دیکھا تو روک کر زبردستی بہلا پھسلا کر اپنے کمرے میں لے گئے، انہیں چائے پلائی اور کسی قدر ان کی ناراضی دور کی۔

خان صاحب اس وقت مشہور ضرور تھے لیکن بہرحال بطور ایک عام قوال کے، اس سے پہلے خاں صاحب نے نور جہاں سے اپنی بنائی ہوئی دھن گنوانے کے لیے بہت سے لوگوں سے سفارش کروائی جو ایک عام قوال کی دھن گانے پر آمادہ نہیں تھیں۔

پی ٹی وی میں کام کرتے ہوئے میرے پاس مختلف نوعیت کے پروگراموں کے مطابق الگ الگ ٹیمیں تھیں، موسیقی کے حوالے سے جس پرائیویٹ کوآرڈینیٹر کو میں نے چنا تھا وہ ستر کی دہائی سے یہ کام کر رہا تھا اور نصرت فتح علی خان کے ساتھ اس کا خاص تعلق تھا جو ان کی وفات تک رہا۔

ایک دن گپ شپ کے دوران نصرت فتح علی خان کا ذکر ہوا تو وہ بتانے لگا کہ خان صاحب ان دنوں صرف ریڈیو پر گایا کرتے تھے، ٹیلی ویژن پر انہوں نے ابھی پرفارم نہیں کیا تھا، ایک دن مجھے پی ٹی وی بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ نصرت فتح علی خان فیصل آباد میں کہاں رہتے ہیں؟ میں نے کہا میں وہاں کبھی گیا تو نہیں لیکن مجھے کچھ اندازہ ہے،

پی ٹی وی انہیں ایک قوالی کے پروگرام کے سلسلے میں دعوت دینا چاہ رہا تھا، لیکن شاید خان صاحب کے گھر فون نہ ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، مجھے پیسے دیے گئے کہ میں فیصل آباد جاؤں اور ان کا گھر تلاش کر کے ان کو دعوت اور ریکارڈنگ کی تاریخ دے کر آؤں۔

ایک صبح میں بس پر بیٹھا اور فیصل آباد پہنچا، پوچھتے پچھتاتے ان کا گھر ڈھونڈ لیا، جب انہیں پتا چلا کہ پی ٹی وی سے بندہ آیا ہے تو جیسے پورے گھر میں جشن کا سماں تھا، میری بہت آؤ بھگت کی گئی، مجھے بہترین چارپائی پر نئے بستر ڈال کر وہاں رات رکھا گیا اور اگلے دن مٹھائی دے کر رخصت کیا گیا، خاں صاحب نے یہ بات مرتے دم تک یاد رکھی اور میرے ساتھ تعلق کو کبھی ماند نہیں پڑنے دیا۔

پی ٹی وی میں ریکارڈنگ عموماً شام کے وقت ہوتی ہے، خان صاحب کو جو تاریخ میں دے کر آیا تھا اس دن خان صاحب صبح آٹھ بجے پوری ٹیم کے ساتھ پی ٹی وی پہنچ گئے، میں نے کہا اتنی جلدی آنے کی کیا ضرورت تھی؟ بولے لاری (بس) صبح کی ملی تھی اس کے بعد والی بس شاید ہمیں لیٹ کر دیتی۔

نصرت فتح علی خان نے صرف 49 سال کی مختصر زندگی پائی، انیس سو اکانوے میں دم مست قلندر مست ریلیز ہوئی اور 1997 میں ان کی وفات ہو گئی، صرف چھ سال کے عرصے میں جو میوزک انہوں نے پروڈیوس کیا (گو کہ اس سے پہلے بھی انہوں نے بہت سا میوزک بنایا ) اس معیار کا کام شاید ہی کوئی کر سکے۔

میرے خیال میں یہ پاکستان کی موسیقی کی تاریخ کا سب سے بڑا اور کامیاب ترین تجربہ تھا، وہ خود تو لیجنڈ بنے ہی بنے اس کے ساتھ پاکستانی میوزک اور خاص طور پر قوالی کو پوری دنیا میں متعارف کروا دیا۔

نصرت فتح علی خان ایک انتہائی درویش صفت انسان تھے، ان کی بنائی ہوئی دھنیں بے شمار لوگوں نے (ملک اور ہمسایہ ملک میں ) کاپی کیں لیکن انہیں اس بات کی چنداں پروا نہیں تھی، اس کے جواب میں وہ ہمیشہ مسکراتے نظر آئے۔

اسی طرح مختلف فلاحی تنظیموں کے ساتھ انھوں نے بے لوث کام کیا، وہ (اپنی پرفارمنسز کے ذریعے ) جتنا بھی حصہ ڈال سکے انہوں نے ڈالا، شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے انہوں نے عمران خان کی درخواست پر پوری دنیا میں شوز کیے ۔

آج کل سوشل میڈیا پروپیگنڈا کا زمانہ ہے، عمران خان کی سیاسی پارٹی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بعض اوقات نصرت فتح علی خان کے بارے میں یہ کریڈٹ لینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عمران خان نے نصرت فتح علی خان کو پوری دنیا میں متعارف کروایا، یہ بات حقائق کے منافی ہے، شوکت خانم ہاسپٹل کے لیے کام کرنے سے پہلے ہی نصرت فتح علی خان ہٹ ہو کر پوری دنیا میں پرفارم کر چکے تھے، اور عمران خان کا نصرت فتح علی خان سے درخواست کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اس وقت عمران خان کو نصرت فتح علی خان کی ضرورت تھی کیونکہ وہ crowed puller اور saleable بن چکے تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments