پاکستانی سیاست: کون صحیح ہے کون غلط؟


پاکستانی سیاست میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بظاہر سیاسی جیت کے بعد مٹھائی تقسیم کرنے کے بعد سیاسی کارکنان کو پتا چلتا ہے کہ دراصل ان کی ہار ہوئی تھی۔ اب پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کو ہی دیکھ لیجیے۔ حمزہ شہباز نے محض چالیس دن میں تیسری بار وزرات اعلیٰ کا حلف اٹھایا تو اسی روز عدالتی حکم سے وہ ایک بار پھر عبوری وزیراعلیٰ بن کر رہ گئے۔ ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ پر عدالت نے سوالات اٹھا دیے۔ حالاں کہ یہ رولنگ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے عین مطابق تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران خان نے اپنے بیس ایم پی اے ڈی سیٹ کروائے تھے۔ فیصلہ یہ تھا کہ پارٹی ہیڈ کی رائے کے خلاف ووٹ دیا جائے گا تو وہ شمار نہیں ہو گا اور ممبر ڈی سیٹ بھی ہو گا۔

اس حوالے سے ریفرنس بھی صدر عارف علوی اور عمران خان نے بھیجا تھا۔ اب پی ٹی آئی ہی کا موقف ہے کہ ان کی اتحادی جماعت ق لیگ کے ووٹ غلط طور پر مسترد کیے گئے ہیں۔ ان کو شمار کرنا چاہیے جبکہ ق لیگ کے پارٹی ہیڈ اپنے اراکین کو خط لکھ چکے تھے کہ ووٹ حمزہ شہباز کو دیں۔ بھولے بھالے عوام پریشان ہیں کہ ایک ہی عمل بیک وقت صحیح اور غلط کیسے ہو سکتا ہے؟

ذرا سا غور کرنے سے یہ عقدہ با آسانی حل ہو جاتا ہے کہ کسی بھی سیاسی عمل میں کون صحیح ہے اور کون غلط۔ عوام کو سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ بات کون کر رہا ہے۔ مثلاً اگر میرے کپتان کو کم ممبران کے باوجود سینٹ کے الیکشن میں چیئرمین کے عہدے پر اپنی پسند کا امیدوار چاہیے تو آصف زرداری کی مدد لینے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر قومی اسمبلی میں شہباز شریف وزیر اعظم بننے کے لیے پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا چاہیں تو یقیناً غلط ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کی تعداد قومی اسمبلی میں زیادہ ہے۔ باقی تمام پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ آپس میں نفاق رکھیں اور ہرگز اتحاد نہ کریں۔

اسی طرح شہباز شریف کو اسٹیبلشمنٹ سے مل کر کام نہیں کرنا چاہیے یہ تو ”چیری بلاسم“ بننے کا عمل ہو گا۔ البتہ کپتان اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر آ سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے ایک پیچ کے حقوق اپنے نام پہلے ہی رجسٹر کرا لیے تھے۔ کسی اور کو کیا حق پہنچتا ہے کہ کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرے۔ ملک کے بد ترین معاشی حالات میں اگر قرض لیے بغیر چارہ نہ ہو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس وقت کس کی حکومت ہے۔ اگر نون لیگ، پیپلز پارٹی یا متحدہ حکومت ہو تو آئی ایم ایف کے پاس ہرگز نہیں جانا چاہیے کیونکہ یہ قرض ایک بھیک ہو گی۔ اور اس سے نہ صرف وزیر اعظم بلکہ پوری قوم بھکاری بن جائے گی۔ لیکن اگر ملک کی باگ ڈور میرے کپتان کے ہاتھ میں ہو تو کسی بھی ملک اور ادارے کے آگے ہاتھ پھیلانا خودداری کہلائے گا۔ قرض کی مد میں ملنے والی رقم تحفہ شمار کی جائے گی۔ اس صورت میں آپ جشن بھی منا سکتے ہیں۔

اگر کوئی 30 ارب میں میٹرو بنائے تو غلط ہو گا کیونکہ اس میں کرپشن ہو گی لیکن کپتان سو ارب سے بھی زیادہ میں میٹرو بنائے تو صحیح۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ میرے کپتان کے ہوتے ہوئے کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایماندار بندہ مہنگی بجلی بھی خریدے تو صحیح ہو گا تاہم کوئی سستی گیس ایران سے لائے تو غلط۔ کپتان پروٹوکول لے یا ہیلی کاپٹر میں سفر کرے تو صحیح ہے اس طرح وقت بھی بچتا ہے اور کپتان کی انفرادیت کی وجہ سے انہیں سوٹ بھی کرتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر وزیر اعظم پروٹوکول کی ضد کرے۔

لانگ مارچ کرنا اور دھرنے دینا بھی انتہائی غلط بات ہے۔ کسی بھی سیاسی پارٹی کو ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ اس کا تو صاف صاف مطلب یہ ہو گا کہ وہ پارٹی اقتدار کی خاطر یہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ منتخب حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ حکومت خواہ کچھ بھی نہ کرے یا جو کچھ بھی کرے مثبت رپورٹنگ کرنی چاہیے۔ تاہم ایک استثنا کپتان کو حاصل ہے وہ چاہیں تو ڈی چوک میں پڑاؤ ڈال کر مہینوں بیٹھے رہیں۔ ظاہر ہے کپتان کا اس میں ذاتی فائدہ تو نہیں ہے۔ کپتان کی حکومت ہو گی تو عوام کا ہی فائدہ ہے۔ اسی لیے حکومت جانے کی صورت میں عوام کا سڑکوں پر نکل کر توڑ پھوڑ کرنا اور جلاؤ گھیراؤ جائز تصور کیا جائے گا۔

اگر پارلیمنٹ کا کوئی ممبر اپنی وفاداری تبدیل کرتا ہے تو اسے لوٹا کہا جائے گا۔ حسب توفیق آپ اسے گالیوں سے بھی نواز سکتے ہیں۔ آپ اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیں گے تو آپ کو صحیح کہا جائے گا۔ لیکن ضمیر جاگنا ایک مختلف صورت حال ہے۔ ضمیر جاگتا ہے تو ممبران میرے کپتان کے حلقے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ایسے ممبر کے گلے میں پی ٹی آئی کے جھنڈے کے ساتھ ساتھ پھولوں کے ہار ڈالے جاتے ہیں۔ مبارکباد دی جاتی ہے۔ مخالف ٹیم کی وکٹ گرانا کتنا مشکل ہے۔

عدالت کے فیصلوں میں بھی صحیح اور غلط آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلے تو یہ ذہن نشین کر لیں کہ میرے کپتان کے علاوہ باقی سارے سیاست دان چور ہیں۔ کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ آنے کے بعد غور کریں کہ یہ چوروں کے حق میں جاتا ہے یا باوضو نیک لوگوں کے حق میں۔ بس آپ کو فوراً پتا چلا جائے گا کہ فیصلہ صحیح ہے یا غلط۔ صحیح فیصلے کی صورت میں عدالتوں کی خوب تعریف کریں اور فتح کے شادیانے بجائیں اور غلط کی صورت میں ببانگ دہل جو نظر آئے اس کی ایسی کی تیسی کر دیں۔ خواہ وہ کوئی جج ہو یا سر جی۔

اگر ”ایمان دار“ پارٹی قومی یا صوبائی اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھے تو اسی اصول کے تحت اقتدار کی منتقلی میں غیر ضروری تاخیر، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کا عمل آخری بال تک لڑنا کہلائے گا۔ لیکن ”چور“ پارٹیاں کسی گزشتہ فیصلے کی روشنی میں کوئی عمل کریں تو غلط ہو گا۔ امید ہے کہ اتنے دلائل کے بعد آپ بخوبی سمجھ گئے ہوں گے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔

 

Facebook Comments HS