جب انسان کو اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہو جائے تو وہ ملک چھوڑ دیتا ہے


گزشتہ دو مہینے بہت زیادہ سفر میں گزرے۔ حالیہ سفر کراچی کا تھا جو میرا آبائی گاؤں ہے۔

کراچی میں جو کچرے، گندگی، دھواں، تعفن، ٹریفک، سڑکیں اور گٹر بہنے کے حالات میں نے اب دیکھے، اس کو گاؤں لکھنا ہی بہتر ہے۔ شاید گاؤں پھر بھی کچھ بہتر ہی ہوں گے۔

پیپلز پارٹی اس شہر پر اور سندھ پر دو ہزار آٹھ سے حکومت کر رہی ہے۔ تقریباً چودہ سال کی حکومت ہے۔ وہ پیپلز پارٹی جو جمہوریت کی باتیں کرتے نہیں تھکتی، وہ بلدیاتی انتخابات بھی کرانے کے لئے تیار نہیں ہوتی جہاں نچلی سطح پر میئر اور کونسلر کو اختیارات منتقل ہو جاتے ہیں۔

عدالت حکم دیتی ہے کہ فوراً بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں تو یہ عوام کی باتیں کرنے والی آمرانہ پارٹی سندھ اسمبلی میں بلدیاتی قانون پاس کروا کر میئر کے تمام اختیارات وزیر اعلٰی کو منتقل کر دیتی ہے۔

وزیر اعلی اپنے پاس شہر کے اسپتال، پانی، بجلی، پولیس، اسکول اور کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی جیسے تمام اختیارات جو پوری تہذیب یافتہ دنیا میں میئر کے پاس ہوتے ہیں، اپنے پاس رکھ لیتا ہے۔

دو لاشوں پر سیاست کرنے والی اس جماعت نے کراچی کو چھوڑیں، کیا اندرون سندھ میں غریب کسانوں اور سندھی بھائیوں کے لئے کچھ کیا؟

میرے ایک دوست کے بڑے بھائی پیپلز پارٹی کے بڑے کارکنوں میں سے ایک ہیں جن کی رسائی اور دوستی سعید غنی اور مرتضی وہاب جیسے لوگوں سے ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے پیپلز پارٹی سے گلہ ہے کہ وہ سندھ پر چودہ سال سے حکومت کر رہے ہیں اور شہر اور صوبہ کا یہ حال ہے۔

کہنے لگے تمہیں کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ ہم نے ابھی کورنگی پر فلائی اوور، طارق روڈ پر انڈر پاس اور لاڑکانہ میں اسٹیڈیم بنا رہے ہیں۔

اس طرح انہوں نے مجھے کوئی آٹھ دس چیزیں بتائی جو تقریباً ہر سیاستدان ٹاک شو میں کرتا ہے۔

میں نے جواب میں کہا کہ جب کوئی حکمران اپنے اعداد و شمار بتانے پر آ جائے تو سمجھ جاؤ کہ کوئی ترقی نہیں ہوئی۔ ترقی دکھنی چاہیے، ترقی محسوس کی جاتی ہے۔

میں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جب آپ دبئی جاتے ہیں، وہاں آپ ترقی کو محسوس کرتے ہیں، وہ دکھتی ہے۔ وہاں کوئی اعداد و شمار لے کر بیکار کی باتیں نہیں کر رہا ہوتا۔ دبئی، سنگاپور، ملیشیا چودہ سال میں کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ان چودہ سالوں میں آپ نے کیا حال کر دیا ہے اس شہر اور صوبے کا۔

وہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ کہنے لگے کہ کراچی کی ذمہ دار متحدہ ہے۔ میں نے جواب دیا کہ جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان نے میئر کے طور پر خوب کام کیا۔ پھر مصطفی کمال نے لاجواب کارکردگی دکھائی۔ وجہ یہ تھی کہ اس وقت میئر اور کونسلروں کے پاس اختیارات بھی تھے اور فنڈنگ بھی۔

میں نے سوال کیا کہ آپ تو عوام کی بات کرتے ہیں، غریبوں کی بات کرتے ہیں، وفاق سے سارے اختیارات صوبے کو ملنے چاہئیں کی بات کرتے ہیں لیکن جب یہی اختیارات میئر کو منتقل کرنے ہوں تو آپ آمرانہ طرز حکومت پر آ جاتے ہیں کیونکہ میئر متحدہ قومی موومنٹ کا ہوتا ہے۔

وہ اب کچھ پہلو بدلنے لگے تھے اور پیپلز پارٹی کی قربانیوں کا ذکر کرتے رہے۔ میں نے ان کی بات کی حامی بھری اور کہا کہ جب اپنی جانوں کی قربانی دی ہی ہے تو اس ملک کی عوام تک روٹی، کپڑا اور مکان پہنچا دو تاکہ وہ تاریخ میں اچھے ناموں سے زندہ رہیں نہ کہ لوگ بھٹو کا مذاق اڑائیں۔

میں نے کہا کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ ناروے، ڈنمارک، آئس لینڈ، فن لینڈ اور سویڈن کیوں ہمیشہ دنیا کے بہترین ملکوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ کہنے لگے کہ ان ملکوں کی آبادی کم ہے۔ میرا جواب نفی میں تھا۔

وہ ملک اس لئے دنیا کے بہترین ملکوں میں شمار کیے جاتے ہیں کیونکہ ان ملکوں کی جی ڈی پی کا اوسطاً پچیس فیصد حصہ میونسپل کارپوریشن پر خرچ ہوتا ہے۔

وہ ممالک اس اصول پر چلتے ہیں کہ جس علاقے، گلی، محلے کا مسئلہ ہو، اس کو وہیں کے مقامی عہدے دار حل کریں۔ مقامی کونسل یونین اور میئر کے پاس اسکول، پارکس، اسپتال، پولیس، گٹر، پارکنگ، سڑکیں اور اس طرح کے کئی اختیارات ہوتے ہیں۔

مان لیجیے کہ ان چودہ برسوں میں سوائے عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا۔ لوگ اپنے پیاروں کے جنازے گٹر کے پانی سے بچتے ہوئے لے کر جاتے ہیں۔ جس نیشنل بنک سے بزرگ حضرات اپنی پنشن لینے آتے ہیں اس کے سامنے کی سڑک کسی قبرستان کا منظر پیش کر رہی ہے۔ کئی مرتبہ ضعیف لوگ گرتے گرتے بچے ہیں۔

اسپتالوں کے سامنے کی سڑکیں بھی کچھ جنگ زدہ عراق کا منظر پیش کر رہی ہیں جہاں سینکڑوں مریضوں کو لایا جاتا ہے۔ آپ کی حکومت تو ایک طریقے کی ایمبولینس سروس نہ دے سکی جس میں ائر کنڈیشن ہو، آکسیجن سلنڈر اور جان بچانے والی دوسرے آلات ہوں۔ یہاں تو یہ کام بھی صدقہ خیرات پر ایدھی اور چھیپا کرتے ہیں۔

مزید گفتگو کرتے ہوئے میں نے ان سے کہا ابھی کل میں سامنے اپنے پڑوسی کے یہاں ملنے گیا ہوا تھا۔ میرے دوست کی سب سے بڑی بہن بھی آ کر گفتگو میں شریک ہو گئیں۔ میں جب بھی ان سے ملتا تھا وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی پاکستان بہت اچھا ہے، یہ اچھا ہو جائے گا، تم بھی واپس آ جاؤ۔ لیکن تیس سالوں میں پہلی مرتبہ انہوں نے مجھ سے کل کہا اب یہاں مت آنا، یہ شہر رہنے کے قابل نہیں رہا۔ ہم اپنے بھائیوں سے بھی کہہ رہے ہیں کہ کسی باہر ملک چلے جاؤ۔

انور مقصود صاحب نے صحیح کہا تھا کہ جب انسان کو اپنی نہیں، اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہو جائے تو وہ ملک چھوڑ دیتا ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments