گال ٹیسٹ : سری لنکا کی 323 رنز کی برتری، پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے پھر آزمائش کی گھڑی


گال میں دوسرے ٹیسٹ کا احوال پہلے ٹیسٹ جیسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس بار بھی ایک بڑا ہدف پاکستانی بیٹسمینوں کا منتظر ہے۔

تیسرے دن کے دوسرے سیشن میں جب پاکستانی بولرز کو وکٹیں ملنے لگیں تو کپتان بابراعظم جلد سے جلد بساط لپیٹ دینا چاہتے تھے تاکہ ایک بڑے ہدف سے جتنا ممکن ہو بچا جا سکے لیکن سری لنکا کی ٹیم مجموعی برتری کو 323 رنز تک لے جانے میں کامیاب ہو گئی اور ابھی بھی اس کی پانچ وکٹیں باقی ہیں۔

تیسرے دن جب کھیل خراب روشنی کی وجہ سے وقت سے پہلے ختم ہوا تو سری لنکا نے اپنی دوسری اننگز میں پانچ وکٹوں پر 176 رنز بنا پائے تھے۔ کپتان دموتھ کرونا رتنے جو کمر کی تکلیف کی وجہ سے چھٹے نمبر پر بیٹنگ کے لیے آئے ہیں، 27 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔

اُن کے ساتھ دھنن جایا ڈی سلوا چھ چوکوں کی مدد سے 30 رنز بنا کر موجود ہیں اور ان دونوں کی چھٹی وکٹ کی شراکت میں 59 رنز بن چکے ہیں۔

اس سے قبل وکٹ کیپر ڈک ولا جو کرونا رتنے کی جگہ اوپنر کے طور پر آئے تھے صرف 15 رنز بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔

اوشادا فرنینڈو کو یاسر شاہ نے 19 رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا۔ کوسال مینڈس نے بھی بولرز کو زیادہ پریشان نہیں کیا اور 15رنز بنا کر محمد نواز کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

سری لنکا کے نقطہ نظر سے دنیش چندی مل اور اینجیلو میتھیوز کی کریز پر موجودگی بہت اہم تھی لیکن یہ دونوں صرف 41 رنز کی شراکت قائم کر پائے۔ دونوں میں سے کوئی بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکا۔

اینجیلو میتھیوز کا اپنا 100واں ٹیسٹ یادگار بنانے کی خواہش پوری نہ ہو سکی اور وہ 35 رنز بنا کر آغا سلمان کی پہلی ٹیسٹ وکٹ بن گئے۔ اُن کا کیچ سلپ میں بابر اعظم نے لیا تاہم امپائر نے ناٹ آؤٹ دیا۔ پاکستانی ٹیم نے ریویو لیا جو اس کے حق میں گیا لیکن میتھیوز اس فیصلے سے مطمئن دکھائی نہیں دیے۔

دنیش چندی مل کی وکٹ 21 رنز پر نسیم شاہ نے حاصل کی۔

دموتھ کرونا رتنے کی اننگز دھیمے انداز سے آگے بڑھی لیکن دوسرے اینڈ پر دھنن جایا ڈی سلوا نے حکمت عملی کے مطابق اٹیکنگ انداز اختیار کیا۔

ڈیڑھ گھنٹے میں صرف چالیس رنز

پاکستانی ٹیل اینڈرز نے تیسرے دن بیٹنگ شروع کی تو اُن کے اور سری لنکن ٹیل اینڈرز کے مائنڈ سیٹ میں واضح فرق دکھائی دیا۔ سری لنکا کے آخری بیٹسمین دوسرے دن کے پہلے سیشن میں 63 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، اِس کے برعکس یاسر شاہ، حسن علی، نعمان علی اور نسیم شاہ ڈیڑھ گھنٹہ کریز پر گزار کر ضرورت سے زیادہ دفاعی بیٹنگ کرتے ہوئے 40 رنز ہی بنا پائے۔

سب سے زیادہ توقعات یاسر شاہ سے وابستہ تھیں جن کے نام کے آگے ٹیسٹ سنچری درج ہے لیکن وہ 97 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 26 رنز بنا کر آؤٹ ہونے والے آخری بیٹسمین تھے۔

یہ بھی پڑھیے

گال ٹیسٹ: بابر اعظم سری لنکا کو ‘بور‘ نہ کر سکے

بابر اعظم کے آؤٹ ہوتے ہی میچ بچانے کی فکر شروع

عبداللہ شفیق کی آنکھوں میں جھانکیے

گال ٹیسٹ: ’چائے کے بعد چیزیں مثبت نہ رہیں‘، سمیع چوہدری کا کالم

یاسر شاہ کی ان 97 گیندوں میں 78 گیندیں ڈاٹ بالز تھیں، یعنی اُن پر کوئی رن نہیں بنا۔

حسن علی کی 21 رنز کی اننگز میں ایک چھکا شامل تھا لیکن وہ بھی اپنے عام جارحانہ انداز کے برعکس دفاعی خول میں بند نظر آئے۔

یہ اسی سُست روی کا نتیجہ ہے کہ پاکستانی ٹیم پہلی اننگز کے خسارے کو جتنا کم کرنا چاہتی تھی وہ نہ کر پائی اور سری لنکا کو 147 رنز کی اہم برتری حاصل ہو گئی۔

آف سپنر رمیش مینڈس تیسری مرتبہ ٹیسٹ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ پراباتھ جے سوریا کے حصے میں تین وکٹیں آئیں۔

جے سوریا اب تک پانچ اننگز میں بولنگ کرتے ہوئے 24 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp