پربتوں کے سائے میں
بے آب و گیاہ دیوہیکل پہاڑوں سے ٹکراتا، جھاگ اڑاتا شیر دل دریائے سندھ کے کنارے مسافر سمٹا سمٹایا گاڑی کی اگلی نشست پر بیک وقت حیرت، تعجب اور خوف کی ملی جلی کیفیات میں اسکردو کی جانب رواں دواں تھا۔ نظریں ساتھ چلتی ہزاروں فٹ گہری کھائی اور چنگھاڑتے دریائے سندھ پر مرکوز تھیں۔ پچھلی سیٹ پر بیٹھے مسافر بھی سہمے ہوئے تھے۔ یہاں معمولی سی غلطی کا مطلب دریائے سندھ کی بے رحم موجوں کی نظر ہونا تھا۔ گلگت بلتستان ایک ایسی دیومالائی سرزمین ہے جس کا ہر رنگ، ہر وادی اپنی خوب صورتی اور دل کشی میں اپنی مثال آپ ہے۔
دیوقامت پہاڑوں کے درمیان اور شوریدہ سندھو دریا کے کنارے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرنے کے بعد اسکردو پہنچنے کی خوش خبری ملی تو رات کے دس بج رہے تھے۔ اسکردو پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ باغی دریائے سندھ یہاں بالکل شانت ہوجاتا ہے۔ ”شنگریلا“ کے دیس میں اسے بغاؤت اور گستاخی کی اجازت نہیں۔ پہاڑوں کی گود میں مسلسل سفر کرنے سے مسافر اچھے خاصے تھک گئے تھے کچھ سو گئے اور کچھ نے ”معیشت کو نقصان“ پہنچانے کے بعد اپنے اپنے کمروں کی راہ لی۔
صبح تڑکے پرندوں کی چہچہاہٹ سے آنکھیں کھلیں، چائے کے ساتھ چپاتی اور سڑک کنارے کھڑے خوبانی کے درختوں سے تازہ خوبانیاں تھوڑ کر کھائی گئی جس کا ذائقہ لاجواب تھا۔ ہوٹل سے نکلنے کے بعد اگلی منزل خوابوں کی سرزمین ”شنگریلا“ ٹھہرا۔ سکردو سے نکلیں تو گلگت سکردو روڈ پر کوئی پچیس کلو میٹر آگے کچورا گاؤں میں ”شنگریلا جھیل“ واقع ہے۔ پہاڑوں میں گھری دل کش، پرسکون اور پر کیف وادی کچورا۔ اسی وادی کچورا کے پہاڑوں کے دامن میں ہے زمین پر جنت کا ٹکڑا ”شنگریلا“ ۔
اسی دل نما جھیل کو ”لوئر کچورا جھیل“ بھی کہتے ہیں۔ بریگیڈئیر اسلام خان نے 1983 میں اس علاقے میں ”شنگریلا“ کے نام سے بلتستان کا پہلا ریسٹورنٹ قائم کیا۔ بریگیڈئیر صاحب نے ریسٹورنٹ کا نام جیمز ہلٹن کی کتاب ”لاسٹ ہورائزن“ کے نام پر رکھا۔ برطانوی مصنف جیمز ہلٹن نے 1934 میں شہرہ آفاق ناول لاسٹ ہورائزن لکھا۔ اس ناول میں ایک جہاز برف پوش پہاڑوں میں گر جاتا ہے۔ مسافر خوش قسمتی سے محفوظ رہتے ہیں، جو کئی دن برفانی وادیوں میں بھٹکنے کے بعد کوہ کاراکل کی وادی شنگریلا کی لا ما سرائے پہنچ جاتے ہیں۔
شنگریلا کے سبزہ زار میں بھی ایک کریش طیارہ کھڑا ہے، اورینٹ ائر لائنر (Orient Air Liner) کا ڈی سی۔ تھری طیارے نے سکردو سے پرواز کرتے ہی، دریائے سندھ میں کریش لینڈنگ کی تھی۔ بریگیڈیئر اسلام خان نے ناکارہ طیارہ ڈیڑھ سو روپے میں خریدا تھا۔ اسے کریش ہونے کی جگہ سے گھسیٹ کر لانے میں تقریباً تین مہینے لگے تھے۔ اب اس میں کافی شاپ قائم ہے۔
جھیل میں تیرتی مچھلیاں، ساحل پر پھیلے سبزہ زار اور کنارے پر لگے پھلوں اور پھولوں کے درخت عجیب طمانیت کا احساس پہنچاتے ہیں۔ چاروں طرف سنگلاخ، خشک اور ہیبت ناک پہاڑوں کے درمیان واقع ”شنگریلا“ واقعی زمین پر جنت ایک ٹکڑا لگتا ہے۔
”ایسے مقامات کو دیکھ کر خدا کی خدائی پر یقین اور مضبوط ہوجاتا ہے۔“


