سیاست: میں سب کچھ دیکھ رہا تھا کہ

جو میں نے دیکھا اس منظر میں مولانا صاحب عمران کو گلے مل رہے تھے اور دونوں طرف کے کارکنان ڈھول کی تھاپ پر رقص کناں تھے۔ مولانا فرما رہے تھے یہ جو میں نے تمہیں یہودیوں کا سرغنہ قرار دیا تھا میری بھول تھی تم بے شک شاطر بہت ہو مگر تم نے پاکستان کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ ہم آج تسلیم کرتے ہیں کہ 73 کے آئین کے تناظر میں جو شخص ملک و قوم کی اتنی خدمت کر سکتا ہے حکمرانی کیوں نہیں کر سکتا۔
تم پر لگائے گئے میرے سارے الزامات تعصب پر مبنی تھے۔ چلو کہ مل کر اس ملک کے غریبوں کے لئے کچھ کام کریں۔
خان نے جیسے ہی اپنے بارے میں یہ نئی باتیں سنی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور مولانا کے ساتھ بغل گیر ہو کر کہنے لگے۔ مولانا غلطیاں تو میری بھی بہت ہیں۔ میں نے سر عام ڈیزل ڈیزل کی رٹ لگا کر یقیناً تمہاری عزت نفس کو ٹھیس پہنچائی ہے مگر ارادے میرے بھی نیک تھے۔ اندر سے میں بھی جانتا تھا کہ تم اس ملک کے لئے حقیقت میں کچھ کر دکھانا چاہتے ہو۔ آؤ کہ بھوکے ننگے منتظر ہیں۔
دونوں ہاتھوں میں ہاتھ تھامے لاکھوں لوگوں کے مجمعے کے سامنے کھڑے تھے اور میں یہ سب دیکھ رہا تھا۔
میں اس نئے منظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک مجمعے میں بھگدڑ مچ گئی۔ کسی نے آواز دی نواز شریف بھی پہنچ چکے ہیں۔
ووٹ کو عزت دو کے فلک شگاف نعروں میں میاں صاحب کو سٹیج پہنچا دیا گیا۔ جیسے ہی وہ خان کے قریب آئے دونوں لپٹ کر زار زار روئے اور ایک دوسرے سے معافی مانگ کر یہ تہیہ کر لیا کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور آج کے بعد مل کر اس ملک کی بقاء ’سالمیت اور استحکام کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگائیں گے۔
ایک زرداری سب پر بھاری نے جیسے ہی یہ رقت آمیز مناظر دیکھے اپنے نئے دوستوں کے قریب آ کر گویا ہوئے۔
میں اپنے کیے پر نادم ہوں۔ اب بس صرف پاکستان۔
پوری دنیا یہ مناظر دیکھ رہی تھی۔ بھوک نے برسوں سے جنہیں مارا تھا وہ مسکرانے اور چیخنے کی کوشش کر رہے تھے مگر ان کے لئے کسی ایک فرد کے لئے زندہ باد کا نعرہ لگانا اب ممکن نہ تھا۔ لاکھوں بے روزگاروں کے ہونٹوں پر امید کی مسکراہٹیں تھیں۔ کروڑوں مریض یہ نیا نظارہ دیکھ کر زندگی کی طرف لوٹ رہے تھے۔ میں بھی بہت خوش تھا۔ دور سے سراج الحق اور اسفندیار ولی ہاتھوں میں ہاتھ دیے سٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہ دونوں جیسے ہی سٹیج پر پہنچے سب نے ان کا استقبال کیا اور وہاں موجود تمام نے ہاتھوں کی زنجیر بنا کر پاکستان زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
میں دل ہی دل میں خود کو اپنی مایوسی پر کوس رہا تھا۔ مجھے ایک ایک کر کے وہ ساری نفرتیں یاد آ رہی تھیں جو ہمارے درمیان بنائی گئیں تھیں۔ ایک سیانے کی وہ بات جب ملک کے بڑے دل سے ایک ہو جاتے ہیں تو پھر مسائل دنوں میں حل ہو جاتے ہیں۔ ترقی کے لئے وسائل سے زیادہ نیتوں سے فتور کا نکالنا ضروری ہوتا ہے۔
لوگوں کی تعداد لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی۔ میں دعائیں مانگ رہا تھا کہ اللہ کریں کہ یہ سب کچھ دیر پا ثابت ہو۔
سب کچھ ٹھیک تھا کہ ایسے میں دور کونے سے لوگوں کی چیخ و پکار سے بھگدڑ مچ گئی۔ ہر ایک جان بچانے کی فکر میں ادھر ادھر بھاگنے لگا۔ چاروں طرف بس چیخ و پکار تھی وہ آ گئے وہ آ گئے جان بچاؤ۔
میں خود بھی ڈرا ہوا تھا۔ اپنی جان بچانے کی فکر میں جیسے ہی میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا مجھے بے شمار بھیڑیے نظر آئے جو انسانوں کے جم غفیر کو روندتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ جو کچھ بھی سامنے آتا خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتا۔ مجھے اس لمحے صرف اپنی جان بچانے کی فکر تھی۔ میں اوپر سٹیج پر موجود مملکت خداداد پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ میرا خیال تھا کہ اس دھکم پیل میں وہ اپنے لوگوں کو بچانے کی فکر کریں گے لیکن یہ میری خام خیالی تھی کیونکہ بھوکے بھیڑیے ان تک پہنچ چکے تھے اور ان میں ہر ایک خود کو بچانے کے لئے دوسرے کو نیچے پھینک رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں پورا میدان خالی تھا۔ جس سٹیج پر کچھ دیر پہلے پاکستان کے سیاسی راہنما ایک دوسرے کے ساتھ محبتیں بانٹ رہے تھے اسی سٹیج پر اب بھیڑیے تھے اور نیچے پورے میدان میں میں اکیلا کھڑا تھر تھر کانپ رہا تھا۔
وہ جیسے ہی میری طرف لپکے میری سانسیں رک گئی اور مجھے یوں لگا جیسے میری روح جسم سے نکل رہی ہو۔
سینے پر زور دیا اور اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ میں پسینے میں شرابور تھا اور اس شدید گرمی میں بجلی پچھلے کئی گھنٹوں سے غائب تھی۔ گلاس میں پانی ڈالا ’دو گھونٹ حلق کے اندر اتارے اور اللہ سے دعا مانگی کہ وہ مجھے اور میرے ملک کو خونخوار بھیڑیوں سے بچائیں۔

