بھیگی بھیگی سی افسانوی شام
چاک ایونٹ مینجمنٹ شہر کراچی کی ایک فعال ادبی و ثقافتی تنظیم ہے۔ یہ تنظیم ہر تھوڑے وقت کے بعد کوئی نہ کوئی ایسا پروگرام کرتی ہے جو ادب اور ثقافت کے کسی شعبے کے حوالے سے ہوتا ہے اور بہت خوب ہوتا ہے۔ ڈیڑھ برس کے مختصر سے عرصے میں اس تنظیم نے اپنی ایک نمایاں اور بہت واضح پہچان بنالی ہے۔ اس کے منفرد پروگرام نہ صرف اس تنظیم کا حوالہ اور اس کی شناخت ہیں بلکہ یہ کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں بھی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ تنظیم کراچی کی ادبی فضا میں تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہے۔
22 جولائی کی بادلوں بھری شام تھی۔ دن بھر سے بوندا باندی ہوتی رہی تھی لیکن شام کو بارش تھم گئی تھی۔ فضا خوش گوار تھی۔ فریئر ہال گارڈن میں چاک ایونٹ مینجمنٹ و ادبی فورم کے زیر اہتمام شام افسانہ منعقد کی گئی۔ یہاں یہ ذکر کرنا دل چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ پہلے یہ تقریب 2 جولائی کو رکھی گئی تھی لیکن تب بھی بارشیں خاصی ہو رہی تھیں سو اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ بارشیں تو اس سال کراچی میں بہت شدت سے ہو رہی ہیں تو چاک ایونٹ مینجمنٹ نے ہرچہ بادا باد کے مصداق اللہ کا نام لے کے اس شام کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور جولائی کی ایک بھیگی بھیگی سی شام کو افسانوں کی محفل کے ذریعے مزید رنگین مزید حسین بنانے کا سوچا چناں چہ بائیس جولائی کو شام افسانہ کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کا مقام فریئر ہال گارڈن تھا۔
شام چھ بجے معزز مہمانوں کی آمد شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے کرسیاں بھر گئیں۔ پروگرام کی ترتیب کچھ یوں تھی کہ پہلے سینئر افسانہ نگار رحمٰن نشاط صاحب کا افسانے کے بارے میں لیکچر تھا۔ پھر چار صدا کاروں نے
چار افسانہ نگاروں کے افسانے پڑھے۔ مشہور صدا کار و اناوٴنسر عارف با حلیم نے محترمہ نغمانہ شیخ کا افسانہ ”ونڈو شاپنگ“ اپنی خوب صورت آواز میں سنایا۔ آواز کی دنیا کی ایک اور نمایاں آواز، ریڈیو میزبان اور شاعر ہدایت سائر نے شاکر انور کا افسانہ ”عذاب کے ساحل پر“ پڑھا۔
اسٹیج کی ایک سینئر آرٹسٹ شبانہ سحر خان نے عامر انور کا افسانہ ”جسم اور روح“ پڑھا۔ ٹی وی اور اسٹیج کے ایک اور فن کار جناب وجہی وارثی نے لبنیٰ طاہر کا افسانہ دتو سنایا۔
افسانوں کے اس حصے میں آخری ٹکڑا بازگشت کے نام سے تھا جس میں ماضی کے ایک بڑے افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ان کا افسانہ تعاون منتخب کیا گیا تھا اور یہ افسانہ راقم یعنی کرن صدیقی نے سنایا تھا۔
تمام صدا کاروں کو ان کی خوب صورت آوازوں اور عمدہ قرات پہ بہت داد ملی۔ ہر افسانے کی پڑھت کے وقت اسٹیج پہ صداکار کے ساتھ افسانہ نگار بھی بیٹھتا۔ افسانے کی سماعت کے بعد حاضرین محفل افسانے اور اس کی قرات پر اپنی رائے دیتے۔ ان چار افسانوں کی سماعت کے بعد محفل اختتام کی جانب بڑھنے لگی۔ میزبان صائمہ نفیس نے صدر شام افسانہ جناب ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی سے درخواست کی کہ وہ اپنا خطبہ6 صدارت پیش کریں۔ انھوں نے یہ درخواست قبول کی اور بھرپور خطبہ پیش کیا۔
ان کے خطبے کے بعد معزز مہمانوں، افسانہ نگاروں اور صدا کاروں کو چاک ایونٹ مینجمنٹ کی طرف سے خوب صورت گل دستے پیش کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی محفل کا اختتام ہو گیا۔ محفل کے اختتام کے بعد شرکا6 کو مزے دار بسکٹس کے ساتھ چائے پیش کی گئی۔ ایک دوسرے کے ساتھ دعا سلام اور گفت گو میں مشغول ہو گئے۔ اسی دوران سیلفیاں اور تصویریں بھی لی گئیں۔ بارش کا موسم تھا۔ ڈر تھا کہ کہیں بارش نہ شروع ہو جائے لہٰذا سب لوگ جلدی رخصت ہوئے۔ اس خوب صورت شام افسانہ کا حسین تاثر لے کر۔


