چائلڈ لیبر



چائلڈ لیبر ایک اصطلاح ہے جس کے بارے میں آپ نے خبروں یا فلموں میں سنا ہو گا۔ اس سے مراد وہ جرم ہے جہاں بچوں کو بہت کم عمری سے ہی کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یا بچوں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنے لیے کام کرنے اور خود کو سنبھالنے جیسی ذمہ داریاں انجام دیں۔ اب کچھ ادارے ہیں جنہوں نے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام شروع کیا ہے بچوں کے چھوٹی عمر میں کام کرنے پہ قدغن لگانے کی مہم شروع کی ہے۔

کوئی بھی کام کرنے کے لیے بچے کی عمر 15 سال یا اس سے زیادہ مقرر کی ہے اس عمر کی حد سے نیچے آنے والے بچوں کو زبردستی کسی بھی قسم کے کام میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ کیونکہ چائلڈ لیبر بچوں سے عام بچپن، مناسب تعلیم اور جسمانی اور ذہنی تندرستی کا موقع چھین لیتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے لیکن بیشتر ترقی پذیر ممالک ابھی تک اس لعنت سے نجات نہیں حاصل کر سکیں۔

پاکستان لیبر فورس سروے 2017۔ 18 کے مطابق 10۔ 17 سال کی عمر کے 13.7 فیصد بچے چائلڈ لیبر میں مصروف ہیں۔ ان میں سے، تقریباً 5.4 فیصد خطرناک چائلڈ لیبر میں ملوث ہیں۔

محتاط اعداد و شمار کے مطابق، جنوبی ایشیا میں چائلڈ لیبر میں 16.7 ملین ( 5۔ 17 سال کی عمر کے ) بچے ہیں، اور ان میں سے 10.3 ملین 5۔ 14 سال کی عمر کے درمیان ہیں۔ اوپر دیے گئے اعداد و شمار کی رو سے جنوبی ایشیاء میں تمام اقسام کی چائلڈ لیبر کا تقریبا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔

چائلڈ لیبر کو کنٹرول کرنے کی تحریک 18 ویں صدی کے آخر میں برطانیہ میں شروع ہوئی، جب بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کی تیز رفتار ترقی نے کان کنی اور صنعتی کام میں چھوٹے بچوں کا استحصال ممکن بنایا۔

پورے یورپ میں 1890 تک چائلڈ لیبر قوانین نافذ تھے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) مزدوری کے عالمی کم از کم معیارات طے کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ اقوام متحدہ نے 2021 کو چائلڈ لیبر کے خاتمے کا عالمی سال قرار دیا۔

چائلڈ لیبر کی وجوہات

چائلڈ لیبر کئی وجوہات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگرچہ کچھ ممالک میں کچھ وجوہات عام ہو سکتی ہیں، لیکن کچھ وجوہات ہیں جو مخصوص علاقوں اور اور خاص ماحول تک مخصوص ہیں۔ جب ہم ہماری حکومتی ادارے اس پر پورے لگن کے ساتھ کام کریں گے تو ہم اس مسلے سے اچھے سے لڑ سکیں گے۔

مزید برآں، جب لوگوں کو تعلیم تک رسائی نہیں ہو گی تو وہ بالآخر اپنے بچوں کو کام پر لگا دیں گے۔ ان پڑھ لوگوں کو صرف قلیل مدتی نتائج کی فکر ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ بچوں کو کام پر لگاتے ہیں تاکہ وہ اپنے حال کو زندہ رکھ سکیں۔

چائلڈ لیبر کا خاتمہ

اگر ہم چائلڈ لیبر کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کچھ انتہائی موثر حل وضع کرنے کی ضرورت ہے جو ہمارے بچوں کو بچائیں۔ یہ ان سماجی مسائل سے نمٹنے والے کسی بھی ملک کے مستقبل کو بھی بہتر بنائے گا۔ شروع کرنے کے لیے، کوئی ایسی کئی یونینیں بنا سکتا ہے جو صرف چائلڈ لیبر کو روکنے کے لیے کام کرتی ہیں۔ اس کو اس کام میں ملوث بچوں کی مدد کرنی چاہیے اور ان کو سزا دینی چاہیے جو انھیں یہ کام کرواتے ہیں۔

اس کے علاوہ آبادی میں اضافہ کو کنٹرول کرنے کے اقدامات بھی کرنے چاہئیں۔ اس سے خاندان کا بوجھ کم ہو جائے گا اس لیے جب آپ کے پاس کھانا کھلانے کے لئے کم نفوس ہوں گے ۔ تو بچوں کے بجائے والدین ان کے لیے کام کرنے کے لیے کافی ہوں گے۔ درحقیقت، ہر خاندان کو زندہ رہنے کے لیے حکومت کی طرف سے بھی غریب خاندانوں کے لیے وظائف منظور کرنے چاہیے۔

مختصر یہ کہ اس لعنت کو ختم کرنے کے لئے حکومت اور عوام کو یکساں کوشش کرنی ہو گی۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو روزگار کے وسیع مواقعے فراہم کرے تا کہ ہر خاندان پہ معاشی بوجھ کم ہو اور والدین بچوں کی کفالت احسن طریقے سے خود کر سکیں۔ بچے کسی کی ملک کی طرح، پاکستان کا مستقبل بھی ہیں اور کوئی قوم بھی اپنے مستقبل کو پھلنے پھولنے سے نہیں روک سکتی۔ ایک مہذب قوم کو کبھی گوارا نہیں ہو گا کہ اس کی وارث اگلی نسل خاندان کے معاشی حالات کو بنیاد بنا کر ملک و قوم کا مستقبل تاریک کر دے۔

Facebook Comments HS

One thought on “چائلڈ لیبر”

  • 28/07/2022 at 12:05 شام
    Permalink

    Boht aila tehreer

Comments are closed.