پاکستان قرضوں کے شکنجے میں پھنس چکا ہے



دنیا کے مختلف ملکوں کو قرضوں کے شکنجے میں پھنسایا جاتا ہے اور اس کے بعد مقروض ملک سامراج اور عالمی مالیاتی اداروں کے رحم و کرم کا اسیر ہو جاتا ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو قرضوں کی زنجیر میں ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ ان کی قرضوں سے رہائی کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

پاکستان کی قرضوں کی کہانی انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے

حکومتی قرض سے مراد کسی ملک یا ریاست پر واجب الادا قرضہ (ادھار) ہوتا ہے۔ حکومتی قرضوں کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ قرض لینے والا کوئی اور ہوتا ہے اور قرض بھرنے والا کوئی اور۔ قرض لینے والے بد دیانت لیڈر ہوتے ہیں جبکہ حکومت کا یہ سارا قرضہ آخر کار اس ملک کے ٹیکس دھندگان کو بھرنا پڑتا ہے جس میں انفلیشن ٹیکس بھی شامل ہے۔ حکومتی قرضوں نے ان بچوں کو بھی مقروض بنا دیا ہے جو ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے۔ 1947 ء سے 2008 ء تک پاکستان چھ ہزار ارب روپے کا بیرونی قرضوں کا مقروض تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 ء میں پاکستان کا ہر شخص پانچ سو روپے کا مقروض تھا اور آج 2022 ء میں ہر شخص دو لاکھ ستائیس ہزار روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کو قرضہ لینا پڑتا ہے اور قرضہ لینا کوئی بری بات نہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ یہ قرضہ کیسے خرچ ہوتا ہے۔

’اگر یہ قرضہ پیداواری شعبے کو بڑھانے کے لیے خرچ ہو رہا ہے اور اس سے معیشت کا حجم بڑھ رہا ہے تو یہ بہت اچھی پالیسی ہے۔ قرضہ ایک دو دھاری تلوار ہے اسے آپ اپنے فائدے اور نقصان کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کیسے استعمال کرتے ہیں۔ پر یہ قرضہ ہمارے غریب حکمران اپنے اثاثے بیرونی ملکوں میں بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جب ادائیگی کی باری آتی ہے اور شرح سود بڑھ جاتا ہے۔ شرح سود سے مراد قرض کی رقم کا کرایہ ہے جو قرض لینے والا ایک مقررہ مدت کے بعد قرض دینے والے کو بطور سود ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔

اسے عام طور پر فیصد میں بیان کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شرح سود دس فیصد سالانہ ہے تو قرض لینے والے کو ہر سو روپے کے قرض پر ایک سال بعد دس روپیہ قرض دینے والے کو سود ادا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد اگر قرض لینے والا اصل رقم بھی واپس ادا کر سکے تو قرض کا معاہدہ ختم ہو جاتا ہے اور وہ مزید سود ادا کرنے سے آزاد ہو جاتا ہے۔ جب بھی کسی ملک میں بینکوں کی طرف سے دیے جانے والے قرضوں پر شرح سود میں اضافہ ہوتا ہے تو ملک کی معیشت میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔ چونکہ اس سے معیشت پر منفی اثر پڑتا ہے اس لیے کوئی بھی ملک شرح سود میں اضافہ کرنا پسند نہیں کرتا۔ معیشت میں آنے والی تبدیلیاں یہ ہیں۔

قرض لینے کا رجحان کم ہو جاتا ہے کیونکہ قرض کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ نئی سرمایہ کاری کم ہو جاتی ہے اور مقابلے کی فضا کم ہو جاتی ہے جس سے قیمتیں بڑھنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ خریداری کم ہو جاتی ہے

قسطوں پر مکان یا گاڑی خریدنے کا رجحان کم ہو جاتا ہے کیونکہ اب ہر قسط پہلے سے زیادہ گراں ہو جاتی ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

ملکی کرنسی کی قیمت بڑھ جاتی ہے کیونکہ دوسرے ممالک کے لوگ اپنی بچت اب بلند شرح سود والے ملک میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ملکی کرنسی کی قیمت بڑھنے سے برآمدات میں کمی آ جاتی ہے جبکہ درآمدات بڑھ جاتی ہیں۔

جب بچت اور بینک ڈپازٹ بڑھتے ہیں تو زیر گردش نوٹوں کی مقدار میں کمی آتی ہے۔ افراط زر کم ہونے لگ جاتا ہے۔ حکومت پر واجب الادا قرضوں کی قسطیں بھی بڑھ جاتی ہیں جس کی وجہ سے حکومت عوام پر ٹیکس بڑھا دیتی ہے۔

امیروں کو اپنی بچت پر زیادہ سود ملتا ہے اس لیے امیر اور امیر ہو جاتا ہے جبکہ غریب پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ آج پاکستان قرضوں کی دلدل میں بری طرح پھنس چکا ہے اور صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ قرضوں پر سود کی قسط ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں۔ اگر کسی ملک کو تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی قرضے لینے پڑیں تو اس ملک کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے۔ قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے پاکستان اپنی آزادی اور خودمختاری سے ہی محروم ہو چکا ہے اور انگریزوں کا بنایا ہوا نوآبادیاتی نظام بھی بدلنے کی اہلیت اور صلاحیت نہیں رکھتا۔

ایف اے ٹی ایف کی تلوار پاکستان پر مسلسل لٹک رہی ہے۔ اگر پاکستان کے قرضے اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو پاکستان کو خدانخواستہ ایٹمی اثاثوں سے بھی محروم کیا جا سکتا ہے۔ ایک جانب قرضے بڑھ رہے ہیں اور دوسری جانب غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ قرضے لے کر وی آئی پی کلچر کو جاری رکھا جا رہا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ پاکستان کے ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے ایک آرڈر پاس کرایا ہے کہ ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہی پروٹوکول دیا جائے جو ان کو حاضر سروس کے دوران دیا جاتا رہا۔

غیر معمولی قرضوں کا تقاضا یہ کہ حکومتی اخراجات میں غیر معمولی کمی کی جائے۔ قرضوں کی منظوری پارلیمنٹ سے حاصل کی جائے۔ ایک اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے جو مکمل اور شفاف تحقیقات کرے کہ قرضے کیوں لیے گئے اور ان کو کہاں خرچ کیا گیا اور پاکستان قرضوں کی معیشت سے کیسے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ جب تک پاکستان قرضوں کی دلدل سے باہر نہیں نکلے گا کسی صورت معاشی استحکام حاصل نہیں کر سکے گا۔ پاکستان میں قرضوں کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے حکمران اشرافیہ ٹیکس بھی نہیں دیتی اور غریبوں کے ٹیکس اور قرضوں پر عیش و عشرت کرتی ہے۔ پاکستان میں اگر آئین اور قانون کی حکمرانی نافذ کر دی جائے تو پاکستان کے تمام مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ عوام کو گڈ گورننس حاصل ہو سکتی ہے اور قانون کے خوف سے امیر طبقات ٹیکس دینے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS