"فریدہ حفیظ کی ”بات ابھی باقی ہے
فریدہ میری پیاری، جانتی ہو تمہاری کتاب مجھے کہاں لے گئی؟ اس دنیا میں جو تمہاری، میری اور ہمارے ہم عصر ادیبوں اور صحافیوں کی تھی اور جو وقت کے دھندلکوں میں کہیں کھو گئی ہے۔ میری چشم تصور میں ایکا ایکی وہ منظر ابھرا ہے جہاں تم نسبت روڈ کی اس زرد رنگی عمارت جو مشرق کا دفتر تھی کے دروازے جو باہر سڑک کی جانب کھلتے تھے میں ایک کے عین درمیان میں کھڑی سڑک پر عورتوں کے اس احتجاجی ہجوم سے باتوں میں مصروف تھیں جو تم سے ملنے اور تمہیں کچھ سنانے آیا تھا۔ ہمارا چلاچلی کرنا اور تمہارا سکون سے ہمیں دیکھنا آج بھی میری نگاہوں میں مجسم ہے۔
مسرت جبین چھلانگ مار کر آنکھوں کے سامنے آ گئی ہیں۔ دوپٹے کے ہالے میں لپٹا ہوا چمکتا سا چہرہ۔ بڑی دھوم مچی تھی ان کی جب انہوں نے اخبار خواتین کی ایڈیٹری سنبھالی تھی۔ پاکستان کی صحافیانہ تاریخ میں پہلی خاتون ایڈیٹر کے طور پر اپنا نام درج کروانے والی۔
زمانہ یاد آ رہا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخلہ ہو گیا ہے اور اب مشرق کے دفتر آئی ہوں کہ مشرقی پاکستان کی اہم سیاسی، سماجی اور فنکار خواتین کی نمائندگی اخبار خواتین میں ہونا ضروری ہے۔ ادارہ مجھے فی مضمون کیا دے گا؟ 20 روپے پر بات طے ہو گئی ہے۔ ڈھاکہ کے فوٹوگرافر کا پتہ وتہ، نمبر سب فراہم کر دیے گئے ہیں۔ اب اٹھتی ہوں کہ تم سے مل لوں۔ مگر تم سیٹ پر نہیں تھیں۔ انتظار صاحب سے ملتی ہوں۔ دل اور دماغ ان کی عظمت سے آگاہ تو تھا مگر جوانی اور خودنمائی۔ سنجیدہ چہرے پر چپ سجائے وہ میری بھڑکیں نما بکواس زدہ عزائم سنتے تھے جو میں مشرقی پاکستان میں کرنے جا رہی تھی۔
اب کتاب کو کھولتی ہوں۔ یہ بہت سے خانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ افسانوں کا حصہ، چند سفر، کالم، مضامین، تبصرے۔ کانوں میں تمہاری آواز ابھی بھی گونج رہی ہے۔ سلمیٰ میری صحت کا معاملہ بس اب ایسا ہی ہے۔ یہ کچھ ادھورا سا کام فائلوں میں پڑا آوازیں دیتا تھا کہ مجھے ٹھکانے لگا دو وگرنہ رل جاؤں گا۔ سو مختلف عنوانات کے تحت انہیں چھپوا دیا ہے۔ تم انہیں دیکھو اور مجھے بتاؤ کہ تمہیں یہ کیسے لگے؟
فریدہ کیسے لگنے کی بات بھی خوب کہی۔ لو سنو۔ ”آتے ہیں غیب سے مضامین“ والے حصے نے فوراً ہی دامن دل کو پکڑ لیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ حصہ سب سے خوبصورت اور دلچسپ ہے۔ جس میں فیض صاحب کو ایک طالب علم کے طور پر دیکھنے والی تمہاری آنکھ اور دل کی سب کیفیات کے رنگ بڑے ہی منفرد ہیں۔ انتظار حسین جیسی بڑی ادبی شخصیت کے ساتھ کام کرنے والی نوجوان خاتون ان کے لاہور نامہ، ان کی دفتری زندگی، ان کے طریق کار اور مزاج بارے جو تصویر کھینچتی ہو وہ کتنی دلچسپ اور خوبصورت ہے۔
یونیورسٹی سے تازہ تازہ فارغ التحصیل لڑکی انتظار صاحب جیسی ہستی کی جونیر کولیگ بنتی ہے، ان کے کمرے میں بیٹھتی ہے، ان کے ساتھ سفر کرتی ہے، ان کے روزمرہ معمولات کا قریبی مشاہدہ کرتی ہے۔ ان کی شادی اور اس سے متعلق پر لطف تفصیلات سب کا ذکر کتنا دلچسپ ہے۔ یہ کہنا پڑے گا کہ فریدہ نے انتظار صاحب کی شخصیت کو بہت دل کش انداز میں پورٹریٹ کیا ہے۔ دفتری زندگی کے بیانیہ میں بہت سی ایسی باتیں یاد آ رہی ہیں جو ہم جیسوں ان کے مداحوں کو ان سے ملتے ہوئے پیش آئی تھیں جن کے اعادے نے روح میں تازگی بھر دی تھی۔ احمد فراز، ضیا جالندھری، مشتاق احمد یوسفی، وقار بن الٰہی کو پڑھتے ہوئے کتنی بار آنکھیں بھیگیں۔ منشا یاد کے ساتھ ملاقاتوں اور باتوں نے کیا کچھ نہ یاد دلایا۔ ان مختصر کالموں میں اسلام آباد کی معروف ادبی شخصیات کی کسی نہ کسی رنگ اور صورت میں موجودگی نے مجھے کتاب کو خود سے جدا نہیں ہونے دیا۔
”ایک خط“ فریدہ اس نے اگر تمہیں غمناک کیا تو سچی بات ہے میرے لیے بھی یہ کچھ ایسی ہی صورت کا غماز تھا جہاں بندہ کہتا ہے غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا۔ ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا۔ نسبت روڈ کا وہ گھر جس کے ذکر نے میری آنکھوں کو گیلا کر دیا تھا کہ دیال سنگھ لائبریری کے پچھواڑے اس گھر سے میری بھی یاد جڑی ہوئی تھی۔ یہاں وہ ہستیاں رہتی تھیں جن پر اردو ادب نازاں ہے۔ توصیف احمد، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، خالد احمد، اختر جمال اور ان سب کے ندیم لالہ جو ہمارے احمد ندیم قاسمی ہیں۔
یہ 1967 یا 1968 کی بات ہوگی جب نسبت روڈ پر جون کی ایک تپتی دوپہر میں آوارہ گردی کرتے ہوئے دفعتاً میری سہیلی نے مجھ سے پوچھا تھا۔ ”خدیجہ مستور اور ہاجرہ کو تو پڑھا ہے نا۔ احمد ندیم قاسمی سے کبھی ملی نہیں مگر ان کی تحریروں کی تو بڑی دیوانی ہو۔ تو چلو تمہیں پانی بھی پلواؤں اور ندیم لالہ کی بہنوں سے بھی ملواؤں۔ ہو سکتا ہے لالہ بھی وہیں ہوں۔“
”تم تم انہیں کیسے جانتی ہو۔“ میں نے نسبت روڈ پر رکتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔ ”توصیف احمد میرا بہنوئی ہے۔“ وہ گھر اس کا وہ روشن سا کمرہ جہاں باجی اماں بیٹھی تھیں۔ جنہوں نے خدیجہ کو آواز دیتے ہوئے کہا تھا۔ ”ارے بچیاں دھوپ میں جلتی ہوئی آئی ہیں شربت بنا لاؤ۔“
روح افزا کا وہ ٹھنڈا یخ میٹھا خوشبودار پانی جس کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرتے ہوئے خالد احمد کو داخل ہوتے دیکھنا اور اپنی دوست کو سرگوشیوں میں کہنا ”ارے تمہاری بہن کا دیور تو بڑا ہینڈ سم ہے۔ وہ لڑکا آنے والے وقتوں میں ہم سب کا خالد بھائی تھا جو بہت بڑا شاعر ہی نہیں۔ بہت بڑا انسان بھی تھا۔ مان رکھنے والا، مان دینے والا۔
عائشہ جمال کی بیٹی کی شادی کی تفصیلات۔ ہائے وہ گلیوں میں تبو قناتوں میں قہقہے بکھیرتی شادی بیاہوں کی کہانیاں اور کڑچھے دیگوں کی کھنک دار آوازیں اور خوشبوئیں۔ وہ سب کچھ خواب ہو گئے جو کبھی دیکھے تھے۔ ڈاکٹر رفعت رشید ان کا سوشل ورک ڈپارٹمنٹ جن کے ساتھ کچھ ہماری یادیں بھی جڑی ہوئی تھیں۔ مہناز رفیع کا وہ پیکر اور آج کی مہناز۔ وقت نے کیے کیا ستم تم رہے نہ تم۔ افسانوی حصہ بہت عمدہ ہے۔ افسانے مختصر مگر کسی نہ کسی المیے میں ڈوبے، کسی دکھ کے نمائندہ، کسی اہم پہلو کے عکاس۔ باہر کے ملکوں کے سفر اور ان کا احوال۔ ان کا سب سے منفرد پہلو یہ ہے کہ ان میں انسانوں کی باتیں اور ملاقاتیں ہیں۔ جگہوں کی تفصیلات اور ان کا ذکر بہت مختصر ہے۔ آخری حصہ بھی حد درجہ دلچسپ اور دامن دل کو کھینچنے والا ہے۔
کہیں کتابوں پر تبصرے، مایہ ناز لکھاری ع س مسلم کے سفر نامے ”کشور کسریٰ تا سونار دیش“ سے تعارف، کہیں ”کاغذی گھوڑا“ میں عکسی مفتی کی باکمال شخصیت کے تہہ در تہہ پہلووں کو سادہ سے خوبصورت انداز میں بیان کرنے کی کوشش، نعیم فاطمہ علوی کی ”حیرت کو تصویر کریں۔“ ”دیے میں جلتی رات“ عنوان کا بانکپن، طارق نعیم کی شاعری پر مختصر اور جامع تبصرہ۔ شمیم اکرام الحق کا ذکر جس نے میری آنکھوں کو بار بار گیلا کیا۔
فریدہ تمہیں مبارکباد تو دینی ہی ہے مگر تمہارا شکریہ بھی ادا کرنا ہے کہ میں نے بھی تو دو دن ایک عجیب سی سرشاری میں گزارے ہیں۔


