کتاب: الفاظ کا طلسم


تدوین و تحشیہ: ڈاکٹر رؤف پاریکھ
مصنف : ڈاکٹر خالد حسن قادری
پبلشر: سٹی بک پوائنٹ، کراچی
سن اشاعت: 2022 ء
قیمت: 1200
صفحات 403
منگوانے کے لیے رابطہ نمبر: 03122306716

ڈاکٹر رؤف پاریکھ پاکستان کے ماہر لسانیات، شعبۂ اردو جامعہ کراچی کے سابق استاد اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ ڈاکٹر خالد حسن قادری کی کتاب کا مسودہ ”الفاظ کا طلسم“ جو ادارہ یادگار غالب/غالب لائبریری (کراچی) میں اشاعت کی غرض سے بھیجا گیا تھا جب ڈاکٹر رؤف پاریکھ کی نظروں سے گزرا تو انھوں نے اس کی مزید اقساط تلاش کیں جو روزنامہ ’جنگ‘ میں شائع ہوئی تھیں۔ اس مسودے کی تدوین کی اور اس پر حواشی لکھ کر شائع کروا دیا ہے۔

ڈاکٹر رؤف پاریکھ کا کہنا ہے کہ ابتداً مسودہ دیکھ کر اور یہ سوچ کر اسے ایک طرف رکھ دیا تھا کہ یہ ”متروکات کی لغت“ کا مسودہ ہے لیکن فرصت اور اطمینان سے دیکھنے پر احساس ہوا کہ یہ ایک مختلف کام ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس کے کچھ اندراجات خالد حسن قادری کی ”متروکات کی لغت“ میں بھی ملتے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ کام خاصا مختلف ہے اور زیادہ دلچسپ۔ متعدد محاورات و مرکبات یا کہاوتوں پر تفصیلی مباحث ہیں۔ بعض الفاظ رائج رہتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ کسی نامعلوم عمل کے تحت غیر مروج ہو جاتے ہیں، فصیح و غیر فصیح کا فرق شروع ہوجاتا ہے۔

زبانوں میں نئے الفاظ برابر داخل ہوتے رہتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ہر نیا لفظ اپنی اصلی شکل، ہیئت، معنی اور صوتیات کے ساتھ قائم رہے۔ ان سب میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اردو میں صد ہا الفاظ اپنی ہیئت بدل چکے ہیں۔ بعض کو متروک قرار دیا گیا ہے۔ ان متروکات میں بھی بعض ایسے لفظ ہیں جو خاص خاص علاقوں میں باقی رہ گئے ہیں۔ یہاں اس کتاب میں موجود کچھ الفاظ اور ان کے معنی درج ذیل ہیں۔

ہے گا/ ہے گی۔ فعل ناقص ہے۔ اکبر آباد کے فیض یافتہ فصحا کے ہاں آج بھی رائج ہے۔ اس کا کچھ تعلق صیغۂ مستقبل سے نہیں۔

ٹانک یا ٹنک (ٹ مفتوح) ۔ تیر اندازی کی اصطلاح، مراد کمان کی قوت، تڑپ جو اس کی مار کی دوری اور قوت کے اندازے کے لیے بولی جاتی ہے :

ہاتھی ہزار لٹے پھر بھی سوا لاکھ ٹکے کا: یعنی امیر کیسا ہی غریب ہو جائے جب بھی خلقت اس کی قدر و منزلت اور توقیر و عزت کرتی ہے یا یوں کہو کہ امیر لٹ کھس جائے مگر پھر بھی دولت کی کھرچن باقی رہتی ہے

ڈانگر یا ڈنگر: اردو کا عام لفظ ہے۔ اس کی جگہ ڈھور ڈنگر بھی استعمال کرتے ہیں۔ اہل دہلی ڈنگر بول کر بھینس کے علاوہ تمام سینگ والے جانور مراد لیتے ہیں۔ روہیل کھنڈی، بوڑھے سینگ والے کو ڈنگر کہتے ہیں۔

دور ہونا: عام مفہوم پرے، الگ، فاصلے پر ہونا، جدا ہونا، سو سال قبل یہ محاورہ ہوشیار، تیز، گھاگ اور عقل مند کے معنی میں استعمال ہوتا تھا

داب: رسم و رواج، عادت، موقع محل، طور طریقہ۔ موجودہ دور میں یہ لفظ اور اس کی دوسری تراکیب تقریباً متروک ہیں

ارداس: بمعنی عرض داشت کے ہیں۔ یہ لفظ اب متروک ہو گیا ہے
پانی پی پی کے کوسنا: جی بھر کے برا بھلا کہنا، شدت سے کوسنا
پانی لگنا: پانی راس آنا
پانی مرنا: دل میں چور ہونا، شبہے کو تقویت پہنچانے والی باتیں

پانی ملتاں بہہ گیا: محاورہ تھا کہ جب کوئی موقع ہاتھ سے جاتا رہتا یا کسی کام کا وقت گزر جاتا تو کہتے تھے پانی ملتان بہہ گیا

پا تراب: سفر کے لیے نیگ شگون اور ساعت سعد ہونا، ضروری جاننا
پلیتھن نکالنا: دبانا، ستانا، پریشان کرنا، دق کرنا، تنگ کرنا، بھرکس نکالنا
ٹکی لگانا: ایسے تعلقات بنانا جن سے نفع ہو اپنا فائدہ حاصل کرنا اپنا کام نکالنا، مطلب کی بات کرنا
کال: قحط
پن کال: پانی کی کثرت سے پیدا ہونے والا قحط
پوری پڑنا: کافی ہونا، کفایت کرنا

تختہ ہونا: پہلے دکانیں تختہ لگا کر بند کی جاتی تھیں۔ تختہ ہونا یا دکان تختہ ہونا سے مراد دکان بند ہونا ہے

تلاوڑی: وہ جگہ جہاں ڈاکو، چور اور لٹیروں کی بھرمار ہو
بندوق کا توڑا بچھا ہوا ہونا۔ بمعنی وقت پر بندوق نہ چلنا
تیتر کے منہ میں لچھمی: تیتر کے منہ کی آواز سننے سے مال و دولت کی دیوی مہربان ہوتی ہے
رامے خورمے : بہنو آؤ، بیٹا آیا۔ محلے کی عورتوں کو آواز دے کر کہنا کہ بہنوں آؤ بیٹا پیدا ہوا ہے
حد زیات: یہ لفظ افغانستان اور پشتون آبادیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی زیادہ سے زیادہ کے ہیں
غٹہ پڑنا: بے ہوش ہونا
تور: اندھیرا، خوف، دہشت اور بہتان
ڈڈہ: سہارا، پشتہ، تکیہ، دستہ
نکسنا: نکلنا، چلنا، جاری ہونا، باہر ہونا
سر ہونا: کسی بات کے پیچھے پڑ جانا
پیرمغاں : پیر مغاں کی ترکیب شاعری میں بہت عام ہے۔ شراب خانے کے مالک کو کہتے ہیں
باندھنو: الزام
باندھنو باندھنا: الزام لگانا، تہمت لگانا
خمرا: ایک چھوٹا ڈھول جو فقیر گلے میں ڈال کر پھرتے ہیں
ٹیپ بھرنا: عمارت کی اینٹوں میں جو درازیں رہ جاتی ہیں ان میں مسالہ بھرنا
ٹیپ ٹاپ: اوپر دکھاوٹ، سجاوٹ
ایڑی دیکھو: نظر دفع کرنے کے وقت کہتے ہیں۔
جو نما گندم فروش: ظاہر کچھ، باطن کچھ، کہتا کچھ ہو، کرتا کچھ ہو

آب زیرکاہ: یعنی گھاس کے نیچے پانی، چلنے والا سمجھے کہ صاف اور مسطح گھاس ہے اور پاؤں رکھتے ہی پاؤں کیچڑ

میں جا پڑے
آنکھوں میں آنی: نشے کا اثر آنکھوں میں ظاہر ہونا
آگ لینے کو آئے تھے : بہت عجلت میں آنا اور واپس جانا
اٹکھیلی سوجھنا: شرارت سوجنا
اٹکھیلی چلنا: محبوب کی مستانی چال
سرو چراغاں : سرو چراغاں ایک لوہے کا جھاڑ ہوتا ہے جس میں صد ہا لوہے کے دیے بنے ہوتے ہیں جن میں تیل
بتی ڈالتے ہیں
سوم: کنجوس
سنکارنا: اشارے سے بلانا
سنمکھ: مد مقابل، سامنے آمنے، مخالف
غازی: رسی پر چل کر کرتب دکھانے والے کو بھی کہتے ہیں۔
بھیگی بلی بتاتا ہے : کام چور آدمی کا بیٹھے بیٹھے باتیں بتانا۔
دہ یکی: دس فیصد کمیشن لینا
اٹھک بیٹھک: اٹھک بیٹھک کرنا بھی ایک عام سزا ہے جو مدرسوں میں دی جاتی ہے۔
اجگت: عجیب و غریب۔
اجگر: بمعنی ست اور کاہل۔
ادھیلا: کسی چیز کی تحقیر کرنی ہو تو اسے ادھیلیاں کہتے ہیں۔
ارمان: کبھی کبھی یہ لفظ پچھتاوے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
ارواح لگی رہنا: طبیعت کسی چیز میں اٹکی رہنا
اڑی: مشکل، مصیبت
اڑی بھڑی: مصیبت کا وقت
آڑی پر آنا: چوسر میں گوٹ پٹنے کے مقام پر آنا
اڑے کام سنوارنا: بگڑی بات بنانا
اڑی دھڑی: تفکرات و پریشانی
اکل کھرا: مردم بیزار، اکیلا رہنے والا، ہر کام ہر بات سے جدا
پرچین سازی: قدیم شاہی عمارات کے پتھر پر نقش و نگار اور فن کارانہ کام کے لیے مشہور ہیں
پنیری: چھوٹے چھوٹے پودے

پنیری جمانا: بات کا ڈول ڈالنا، اپنے مطلب کی بات کا آغاز کرنا، اپنے مقصد کے لیے موقع پیدا کر کے بات کرنا

عشق ہے : اردو کا قدیم محاورہ ہے، اب بالکل متروک ہو گیا ہے، معنی اس کے ہیں آفریں، مرحبا
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارے
ناچیز جانتے ہیں نابود جانتے ہیں
سلفچی/سلپچی/ چلمچی: ہاتھ منہ دھونے کے لیے استعمال ہونے والا برتن

غلتی: اگر حساب کتاب میں، خطا یا گنتی اور ہندسوں میں غلطی ہو تو اسے ’ت‘ سے غلتی کہتے ہیں۔ غلتی کے معنی حساب کتاب میں خطا کے ہیں

مودی خانہ: امراکا مال گودام یا اسٹور ہاؤس جہاں غلہ جنس اور دوسرا سامان ذخیرہ کیا جاتا تھا اسے مودی خانہ کہتے ہیں

ٹپک نویس: نیوز رپورٹر، صحافی، جو بے بنیاد افواہوں پر اپنی خبر کی بنیاد رکھتا ہے

حاضری: مردہ کو دفن کر کے آتے ہیں تو قریب یا آشنا کے گھر سے کھانا آتا ہے۔ دہلی میں اس کو حاضری کہتے ہیں۔

بدھیا بلا سے مری آگرہ تو دیکھا:نقصان ہوا بلا سے دل کی ہوس پوری ہو گئی
اکو انجھ: بانجھ جو کبھی نہ جنے، اکو انجھ جو ایک دفعہ جن کر رہ جائے
تھیگلی: پیوند یا جوڑ لگانا، آسمان میں تھیگلی لگانا، بڑبولا پن کرنا، گپ ہانکنا
قحبہ: بدکار، آوارہ، فاحشہ
مستوصلہ: اردو میں وگ استعمال کرنے والی عورت کو مستوصلہ کہہ سکتے ہیں
مربع نشین/مربع نشین ہونا: آلتی پالتی مارکر بیٹھنا
محرمات: رنگین دھاری دار یا لہردار ریشم کا خوب صورت کپڑا
مچھندر: بڑی بڑی مونچھوں والا
مان: عزت، آبرو، تعظیم، آؤ بھگت
مان میں بھنگ: بے عزتی ہونا
مان پان/مان تان: قدر افزائی، آبرو، عزت
مان کا ہونا: قابو اور اختیار کا ہونا
مان مرنا: تکبر و غرور جاتا رہنا
میت: محبوب، ساتھی

نواب: اس لفظ میں واؤ پر تشدید ہے۔ عربی میں نواب نائب کا صیغہ ہے۔ بادشاہ وقت کا نائب وائسرائے ہوتا تھا اس لیے اس شخص کو نواب کہتے تھے

الفاظ کا طلسم ڈاکٹر خالد حسن قادری نے اقساط کی صورت میں لکھی تھی۔ اس کتاب میں ( 68 ) اڑسٹھ اقساط موجود ہیں۔ اس کتاب کے کل صفحات 403 ہیں جس میں بے شمار لفظوں کے نت نئے معنی تحریر کیے گئے ہیں۔ کچھ الفاظ ایسے بھی ہیں جو متروک ہوچکے ہیں مگر ان سے منسوب سندیں جو ڈاکٹر خالد حسن قادری نے دی ہیں وہ ہمیں لفظوں کے نئے معنی سے روشناس کرواتی ہیں۔ اس کتاب میں موجود بیشتر الفاظ لغات میں ان معنوں میں موجود نہیں ہیں جن معنوں میں ڈاکٹر خالد حسن قادری نے پیش کیے ہیں۔

اس کتاب کے ذریعے ہم نہ صرف نت نئے الفاظ سے روشناس ہوتے ہیں بلکہ ان کا استعمال بھی سیکھتے ہیں۔ لغت اور لفظیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب ایک اہم اضافہ ہے۔ اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والوں کو بھی ’الفاظ کا طلسم‘ ضرور پڑھنی چاہیے۔ اس کے مطالعے سے ان کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہو گا اور وہ الفاظ و محاورات کو مختلف معنی میں استعمال کرنا سیکھیں گے۔

Facebook Comments HS