تیل کی قیمتیں کم کرنے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کیا مدد کر سکتے ہیں؟


تیل
دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک بُدھ کو ایک اہم اجلاس کریں گے، جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ وہ ستمبر سے مارکیٹ میں کتنے تیل کی دستیابی یقینی بنا سکتے ہیں۔

یہ اجلاس امریکی صدر جو بائیڈن کے سعودی عرب کے دورے کے چند ہفتوں بعد ہو رہا ہے۔ اس دورے کے دوران امریکی صدر نے ذاتی طور پر سعودی عرب کو مارکیٹ میں مزید تیل کی دستیابی سے متعلق راضی کرنا تھا تاکہ بڑھتی قیمتیوں پر قابو پایا جا سکے۔

فروری سے لے کر اب تک خام تیل کی مسلسل 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ تجارت ہوئی ہے، جس سے کئی ممالک میں ضروریات زندگی میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ اجلاس کیوں اہم ہے؟

وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے 13 بنیادی ارکان تیل کی سپلائی بڑھانے کا فیصلہ کریں گے۔ لیکن ایسا ضروری نہیں ہے۔ اوپیک سنہ 1960 میں ایک کارٹیل کے طور پر قیام میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد تیل کی دنیا بھر میں سپلائی اور اس کی قیمت کو طے کرنا تھا۔

سعودی عرب اس کارٹیل میں سب سے بڑا واحد تیل پیدا کرنے والا ملک ہے اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ سپلائی میں اضافہ ہوگا۔

تاہم، سعودی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ سپلائی بڑھانے کا کوئی بھی فیصلہ اوپیک پلس کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

اوپیک پلس ( OPEC+) روس سمیت تیل برآمد کرنے والے 23 ممالک کا ایک وسیع گروپ ہے، جو ہر ماہ ویانا میں اجلاس کرتا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ عالمی منڈی میں کتنا خام تیل فروخت کیا جائے۔

تیل کی قیمتیں

تیل کی قیمتوں میں کیا کمی آسکتی ہے؟

اپریل 2020 میں اوپیک پلس نے کٹوتیوں کا ایک سلسلہ متعارف کرایا، جو طلب میں کمی کے ساتھ ہی پوری کورونا وائرس کے دوران جاری رہا۔ سنہ 2021 سے آہستہ آہستہ یہ سپلائی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

گروپ کی آخری میٹنگ میں اوپیک پلس نے فیصلہ کیا کہ اگست کے مہینے کے لیے اس کی پیداواری بیرل کی تعداد میں تھوڑا سا اضافہ کیا جائے۔

لیکن یہ صرف بٹن آن کرنے سے سب ممکن نہیں ہوسکتا۔ کم از کم اعداد و شمار کی حد تک کارٹیل کے کئی ارکان، جیسے انگولا، نائیجیریا اور ملائیشیا پہلے ہی اپنے موجودہ ماہانہ سپلائی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مغربی پابندیوں کی وجہ سے روسی سپلائی میں بھی کمی آئی ہے۔ دریں اثنا، ماسکو نے چین اور ہندوستان جیسے ایشیا میں اپنے صارفین کے لیے اپنی ترسیل بڑھا دی ہے۔

تیل کی پیداوار کرنے والے انتہائی اہم ملک سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات ایسے ممالک ہیں جن میں تیل کی پیداوار اور سپلائی کی دیگر ممالک کے مقابلے میں کچھ اضافی صلاحیت موجود ہے۔

تاہم اگست کے لیے سعودی کا پیداواری ہدف 11 ملین بیرل یومیہ تیل ہے، جس کے بارے میں توانائی کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پہلے ہی بہت زیادہ سطح پر ہے، جس سے مزید اضافے کے لیے بہت کم گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ ان دو ممالک کے فیصلوں پر بہت انحصار کیا جا رہا ہے اگرچہ آنے والے مہینوں میں توانائی کی طلب پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بڑھتی ہوئی شرح سود، یوکرین میں جنگ اور بہت سے مغربی ممالک میں آنے والی کساد بازاری، یہ سب چیزیں مل کر اس ہدف کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ عوامل گروپ کو محتاط رہنے پر آمادہ کر سکیں اور وہ اپنی پیداوار کو ڈرامائی طور پر بڑھانے کے لیے تیار نہ ہوں۔

واشنگٹن ڈی سی میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر فیلو کیرن ینگ نے کہا، سعودی عرب اور اوپیک پلس کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ بہت سے نامعلوم (عوامل) ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ تیل کی مارکیٹ اب سے چھ ماہ یا اگلے سال کہاں ہو گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے فاضل سپلائی کو سمجھداری سے استعمال کرنا چاہیں گے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ دونوں ممالک ایسی صورتحال میں نہیں رہنا چاہتے ہیں جہاں وہ اپنی محدود اضافی صلاحیت کو پیداوار کو بڑھانے کے لیے استعمال کریں،اور پھر اچانک، اگر مستقبل میں طلب بڑھ جائے یا کم ہو جائے۔ ان کے پاس ایڈجسٹمنٹ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

یوکرین پر حملے سے پہلے روس امریکہ اور سعودی عرب کے بعد تیل پیدا کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک تھا۔ یہ عالمی تیل کی سپلائی کا 8-10 فیصد ہے۔

مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن تیل کی بلند سطح پر قیمتوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ یوکرین کی جنگ کی ادائیگی جاری رکھی جا سکے اور مغربی اقتصادی پابندیوں کے اثرات کو روکا جا سکے۔

سعودی عرب کے لیے، اوپیک پلس گروپ کے درمیان اتحاد سب سے اہم ہے، اور وہ کسی ایسے فیصلے سے گریز کرے گا جس سے اسے خطرہ لاحق ہو۔

یہ بھی پڑھیے

تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی منڈیوں میں گندم کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خوف، روس پر یورپی ممالک کی پابندیاں نرم پڑنے لگیں

پیٹرول کی قیمت کم ہونے کی امید رکھی جائے یا یہ صرف بڑھتی جائے گی؟

جو بائیڈن

اب تیل کی قیمتوں کا کیا ہوگا؟

اوپیک خود پیشنگوئی کر رہا ہے کہ سنہ 2023 میں تیل کی عالمی طلب میں اس سال کے مقابلے میں سست رفتاری کے باوجود اضافہ ہوگا۔

اس اتحاد کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ چین میں کورونا وائرس پر قابو پانے میں پیشرفت کے ذریعے جزوی طور پر کارفرما ہوگا۔

اس دوران بین الاقوامی توانائی ایجنسی اور یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تخمینے بتاتے ہیں کہ متعدد ممالک میں افراط زر کے بڑھتے ہوئے خدشات اور معاشی نمو کمزور ہونے کے باوجود تیل کی طلب میں تیزی سے اضافہ جاری رہے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والوں کو طلب اور رسد میں توازن پیدا کرنے کے لیے خود کو پانچ برسوں میں تیز رفتاری سے تیل کی پیداوار بڑھانی پڑ سکتی ہے۔

واشنگٹن میں سنٹر فار سٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کے سینئر فیلو بین کاہل نے کہا کہ "مارکیٹوں میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہے لیکن بہت سے لوگ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے کی مسلسل گراوٹ کی توقع نہیں کرتے ہیں۔"

امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اس سال پہلے ہی 13 سال کی بلند ترین سطح کو چھو چکی ہیں۔

اکتوبر کے آخر میں ختم ہونے والی چھ ماہ کی مدت میں مارکیٹ میں تقریباً 180 ملین بیرل سپلائی کرنے کے اپنے منصوبے کے حصے کے طور پر امریکہ اپریل سے اپنے سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ جاری کر رہا ہے۔

اگرچہ بین کاہل نے خبردار کیا کہ ایک بار جب یہ رول آؤٹ رک جاتا ہے تو سپلائی اور بھی مشکل ہو جائے گی، جس سے قیمتوں پر زیادہ دباؤ پڑے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی تک پیداوار بڑھانے کے لیے بڑی سرمایہ کاری کے کوئی آثار نہیں دیکھے ہیں۔ لہٰذا، اگر طلب بڑھ جاتی ہے، تو ہمارے پاس بازاروں کو متوازن کرنے کے لیے کافی رسد نہیں ہو گی‘۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp