کیا یہ تھا وہ شاہکار، جس کا تھا اتنا انتظار


کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ اور بالآخر وہ فیصلہ آہی گیا۔ جس کے بارے میں سن سن کر گزشتہ آٹھ سالوں سے ہمارے کان پک گئے تھے۔ جی ہاں، اسی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آ گیا ہے۔ جس کو لٹکانے کے لئے ہمارے ”عدالتی سرٹیفائیڈ صادق اور امین“ محترم عمران خان صاحب اور ان کی سیاسی جماعت نے بے پناہ حیلے بہانوں اور لیت و لعل سے کام لیا۔ تاریخ پر تاریخ کا اگر کوئی عملی نمونہ دیکھنا ہو تو اس فارن فنڈنگ کے معاملے کو دیکھا جاسکتا ہے۔

اسی سے اوپر تاریخوں اور آٹھ سال تک لٹکائے جانے کے بعد بالآخر اس سال 21 جون کو ہمارے الیکشن کمیشن نے اس عظیم الشان فیصلے کو محفوظ کر لیا تھا۔ جس کی وجہ سے عمران خان صاحب اور ان کے حامیوں کی طرف سے بار بار الیکشن کمیشن کو غصے اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد کا بار بار اظہار کر کے ان پر لگاتار یہ دباؤ بڑھایا گیا کہ وہ اس فیصلے کو محفوظ ہی رکھیں اور سنانے کی جرات نہ کریں۔ مگر حکومتی اتحاد کی جماعتوں کے پر زور اسرار اور الیکشن کمیشن کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی شاید کام کر گئی اور الیکشن کمیشن نے اس محفوظ فیصلے کو بالآخر سنانے کا عندیہ دے دیا۔

جس کے بعد پھر سے چہ مگوئیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا کہ اب یہ ہو جائے گا اب وہ ہو جائے گا، اس جلتی پر تیل کا کام فنانشل ٹائمز میں چھپنے والی صحافی سائمن کلارک کی سٹوری نے بھی کیا۔ جس میں پاکستان تحریک انصاف کو ایسی بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کا مرتکب قرار دیا گیا۔ جو کہ خیرات کے نام پر جمع کی گئی تھی اور وہ خیرات دینے والے بھی اس امر سے لاعلم تھے کہ اس رقم کو بعد میں کس مقصد کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔

تو صاحبو، اس فیصلے کا بے صبری سے انتظار کیا جانے لگا۔ اور اس مبارک گھڑی کے آنے پر سب دم بخود ہو کر فیصلہ سن رہے تھے۔ فیصلے میں یہ سامنے آیا کہ پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کی مرتکب ہوئی۔ اس کی طرف سے نہ صرف غیر ملکی شہریوں سے فنڈز لیے گئے بلکہ ملکی و غیر ملکی کمپنیاں بھی اس میں شامل تھیں۔

ان کمپنیوں کے نام اور ان سے موصول ہونے والی رقوم کی تفصیل بھی بتائی گئی۔ جس میں سر فہرست ”تھوڑی سی منی لانڈرنگ“ والے محترم عارف نقوی کی کمپنی ”ووٹن کرکٹ لمیٹڈ“ تھی۔ جس امریکی سازش کی بازگشت ہم عمران خان صاحب کی حکومت جانے سے سن رہے ہیں۔ وہاں کی بھی 98 کمپنیوں سے فنڈز لیے گئے۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت جس کو برا بھلا کہتے ہمارے محترم عمران خان کی زبان نہیں تھکتی، اس کی بھی دو کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔ گو کہ ان سے موصول ہونے والے فنڈز بہت معمولی نوعیت کے ہیں۔ مگر بھارت کا نام ”صاف چلی شفاف چلی“ والوں کے ساتھ جڑنا بھی بہت معنی رکھتا ہے۔

اس کے ساتھ اس شاندار فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہمارے سرٹیفائیڈ ”صادق“ اور ”امین“ کی طرف سے الیکشن کمیشن میں جمع کروایا جانے والا حلف نامہ بھی جھوٹا ہے۔ یہاں تک بھی یہ فیصلہ بہت عمدہ جار رہا تھا۔ اور آگے امید کی جا رہی تھی کہ اب الیکشن کمیشن کی طرف سے غالباً یہ کہا جائے گا کہ چونکہ کہ ممنوعہ فنڈنگ نا صرف بین الاقوامی شہریوں بلکہ کمپنیوں کی طرف سے بھی ثابت ہوئی ہے لہذا پاکستان تحریک انصاف پر بطور سیاسی جماعت پابندی لگائی جاتی ہے یا کم از کم اس سلسلے میں کچھ سفارشات دی جاتی ہیں۔ مگر ایسا کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔ (الیکشن کمیشن کے پاس ممنوعہ فنڈنگ کی صورت میں سیاسی جماعت پر پابندی لگانے کا اختیار نہیں ہے، وہ محض معاملہ حکومت کو ریفر کرنے کا مجاز ہے: مدیر )

بلکہ آخر میں یہ کہا گیا کہ تحریک انصاف کو شو کاز جاری کر دیا جائے اور معاملہ حکومت کو ریفر کیا جائے۔ گویا، اس پر بھی فیصلہ دیگر اداروں پر ہی چھوڑنے پر اکتفا کیا گیا۔ اس پورے فیصلے کے بعد یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اگر یہی فیصلہ آنا تھا تو پٹاری میں سے کون سا ایسا سانپ نکلنا تھا جس پر آٹھ سال ہی لگا دیے گئے؟ اور اس کے نہ آنے پر ایسا واویلا مچایا جاتا رہا کہ اس میں تو پاکستان تحریک انصاف کا وجود ہی ختم ہو جائے گا، تبھی تو وہ اس کو آگے نہیں بڑھنے دے رہے۔

پھر ان مقتدرہ قوتوں کی طرف بھی اشارہ کیا جاتا رہا کہ انہوں نے فارن فنڈنگ کے اس معاملے کو عمران خان صاحب کے سر پر ایک تلوار کی صورت لٹکایا ہوا ہے تاکہ اس کے توسط سے ان کو وقتاً فوقتاً اپنا سیاسی طرزعمل درست کرنے کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ اور اس میں تاخیر کا سبب بھی انہی مقتدرہ حلقوں کو ہی ٹھہرایا جاتا رہا۔ مگر اس کے سامنے آ جانے کے بعد تو کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق یہی کہنا پڑ رہا ہے کہ ”کیا یہ تھا وہ شاہکار، جس کا تھا اتنا انتظار؟”

اب جو لوگ اس پر یہ سوچ کر خوش ہو رہے ہیں کہ اس فیصلے نے کم از کم عمران خان صاحب کے ”سرٹیفائیڈ صادق اور امین“ ہونے کی قلعی تو کھول دی ہے تو ان کے لئے اتنا ہی عرض ہے کہ عمران خان صاحب ایک مہاتما کا مقام حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے ماننے والوں پر تو اس سے ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑنے والا کہ وہ ان کے کردار کے حوالے سے کسی بھی قسم کے شک و شبہات کا شکار ہوجائیں گے۔ بلکہ وہ تو اس پر اپنی کامیابی کا بیانیہ بنائیں گے۔ جو ان کے ماننے والے نہیں ہیں ان کو تو پہلے سے ہی کئی حوالوں سے یہ پتا ہے کہ خان صاحب کو جو صادق اور امین کا لقب دیا گیا تھا، اس کی حقیقت کیا تھی؟

اور جن معصوم حضرات کو یہ لگ رہا ہے کہ جھوٹا حلف نامہ جمع کروانے پر ہمارے کپتان کو تاحیات نا اہل کر دیا جائے گا تو ان کی خدمت میں بھی مؤدبانہ عرض ہے کہ یہ معاملہ اب جانا تو اسی اعلیٰ عدالت کے پاس ہے جہاں سے خان صاحب کو صادق اور امین کا سرٹیفیکیٹ ملا تھا۔ وہاں سے میاں نواز شریف کو اپنے بیٹے سے نہ لی گئی تنخواہ کو ظاہر نہ کرنے پر تو تاحیات نا اہل کیا جاسکتا ہے مگر عمران خان صاحب کے خلاف ایسی کوئی کارروائی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کا ثبوت ان کے حق میں آنے والے اعلیٰ عدالت کے فیصلوں کا وہ تسلسل ہے جس سے بار بار یہ تاثر مضبوط ہوتا ہوا نظر آتا ہے کہ غالباً عمران خان صاحب ابھی بھی مقتدرہ حلقوں کے ”چہیتے“ ہیں اور شاید آئندہ بھی رہیں گے۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.