اقتدار کی گلی


انسان کے خمیر میں خطا کا عنصر موجود ہے۔ ساتھ ہی اس کے دائیں ہاتھ پہ اصلاح کا پہلو رکھا گیا ہے اور بائیں ہاتھ کے مقدر اس رویے کو دہرانے کی روش۔

ہوش والے دانائی کے موتی چن لیتے ہیں اور نادان اس ہنر نایاب سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ شاعر نے کہا تھا
~ ہائے وہ تیر نیم کش، جس کا نہ ہو، کوئی ہدف

انگلستان سے پاکستانیوں کا گہرا تعلق ہے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بسلسلہ روزگار بورس جانسن کی بستی میں موجود ہے۔ ہمارے حکمران اکثر سیر و سیاحت کے علاوہ ”علاج معالجہ“ کے لیے اس ملک کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔ ابھی بھی کراچی کی ایک سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سابق بانی کے علاوہ وفاق کی حکومتی جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف لندن میں مقیم ہیں۔ میاں صاحب ماشاءاللہ روبہ صحت ہیں۔ ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیے کو صرف چند دن ہی چلا پائے تھے۔

پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ آپ کو اس بات پہ حیران ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کہ عدم اعتماد کے بعد جوں ہی آدھ درجن کے قریب جماعتوں کی اتحادی حکومت قائم ہوئی تو برادر اصغر اپنی کابینہ کے ساتھ بھائی صاحب کے سیاسی دربار میں حاضری کے لیے لندن تشریف لے گئے تھے۔ یہ اس حکومت کی سنجیدگی کی انتہا تھی۔ یہ سارے خرچے عوام کے پیسوں سے کیے جا رہے تھے۔ کیونکہ جہاز تیل سے چلتے ہیں ایمان کی حرارت سے نہیں۔ شنید یہ تھی کہ اس سے حکومتی معاملات چلانے میں شاید برکت پڑ جائے۔ ہوا مگر وہی ”مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی۔“

بات ہمارے سیاسی حالات کی ہو یا سیاسی خیالات کی۔ استاد غالب والا ”جادو کا کارخانہ“ قدم قدم پر موجود ہے۔ یہ سچ کہ تحریک انصاف کی حکومت بھی عوامی امنگوں سے کوسوں دور رہی۔ لاکھوں نوکریوں کے وعدے کیے گئے۔ ملک و قوم کے وقار کو مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ آئی ایم ایف سے کنارہ کشی منشور کا حصہ بنی رہی۔ وہ کیا مصرعہ ہے ”غضب کیا جو تیرے وعدے پہ اعتبار کیا۔“ مسلم لیگ نون کی اتحادی حکومت انصاف والوں سے دو چار قدم تو کیا چھ آٹھ قدم آگے ہے۔ اپنے پہلے سو دنوں کے اقدامات سے گزشتہ ہونے والے ضمنی الیکشن میں عوام کا ”سیاسی بدلہ“ مستقبل کے سیاسی رجحان کی عکاسی کر رہا ہے۔

خدمتگاروں کی دوڑ عوام کے بہتر مستقبل کی نہیں اقتدار کے منافع بخش روزگار کی ہے۔ معاشی طور پر ملک کو آنے والے دنوں کی ایک مشکل ترین شکل بنا دیا گیا ہے۔ پنجاب میں اگر تحریک انصاف اور اس کی ہم خیال جماعتوں کی اکثریت تھی تو بہتر تھا کہ اقتدار ان کے حوالے کر دیا جاتا۔ اس سے کسی حد تک سیاسی شورش کو تو لگام پڑتی۔ کیس اب عدالت میں ہے مگر جمہوریت کے علمبردار ملک و قوم کو جس نہج تک پہنچا رہے ہیں اس کا حاصل مایوسی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ تازہ خبریں یہ ہیں کہ قومی اثاثوں کو گروی رکھنے کی تیاری ہے۔

آئے روز ہنگامہ، آئے روز تماشا ۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے استاد شاعر نے کہا تھا۔
کوئی نہ رویا، میرے قتل پر، یہاں شہزاد
تمام شہر، گنہگار ہو گیا میرا

بات انگلستان کی ہو رہی تھی۔ سیاسی طور پر یہ جمہوری ملک بھی قدرے عدم توازن کا شکار ہے۔ حکومتی سربراہ بورس جونسن اپنی پارٹی کی سربراہی سے الگ ہو چکے ہیں۔ ان سے اگلا مطالبہ حکومت چھوڑنے کا کیا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ برطانوی وزیر اعظم پر کورونا کے ابتدائی دنوں سے اس بات پر دباؤ بڑھانا شروع کیا گیا جب انہوں نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو توڑتے ہوئے ٹین ڈوننگ سٹریٹ میں محفل مشروب کا انتظام کر رہا رکھا تھا جبکہ عوام وبا کی وجہ سے اسیری کی زد میں تھے۔

ابھی یہ گرد فضا میں موجود تھی کہ ان کی کابینہ کے اہم لوگ حکومتی معاملات سے علیحدہ ہو گئے۔ جانسن نے ایک ایسے شخص کو اپنی حکومت کا حصہ بنایا ہے جس پر اخلاقیات کی حدود کو تار تار کرنے کے الزامات ہیں۔ اب یہ بات عدالت سے درست ثابت ہو چکی ہے۔ بورس جانسن نے عوام سے معافی مانگ لی ہے کہ میں نے اس شخص کی حقیقت کو جانتے ہوئے بھی اسے کابینہ کا حصہ بنایا۔ اس بات پر مجھے معاف کر دیا جائے۔ ایسی اخلاق سے جڑے ہوئے معاملات آنے والے دنوں میں ان کو حکومت سے الگ کرنے پر بھی منتج ہو سکتے ہیں۔

ہماری کہانی مگر مختلف ہے۔ ہمارے لوگ عوامی خدمت کے وعدوں اور نعروں کے رہبر ہیں۔ کسی ناپسندیدہ عمل پر قوم سے معافی طلب کرنے اور انہیں اعتماد میں لینے کی عادت انہیں ہر گز نہیں ہے۔ یوں تو عوام کی خدمت ہر پارٹی کے منشور میں ہے۔ اگر ایسا ہے تو ملک آگے جانے کی بجائے تیرگی کی طرف کیوں ہے۔ اس روز روز کے الیکشن سے چاہے تحریک انصاف کی اتحادی جماعتیں جیتیں یا ان سے پی ڈی ایم کے چند خاندان کامیاب ہوں۔ عوام کب جیتیں گے۔

جمہوریت کو پہنائی گئیں بیڑیاں کب ٹوٹیں گی۔ ایک عام آدمی کے دماغ میں یہ بات تیزی سے پنجے گاڑ رہی ہے کہ ضعیف اذہان اور ان سے نتھی شدہ غیر جمہوری راستوں کا استعمال ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ کرسی کے اس بے رحم کھیل میں ’وصل‘ صرف چند لوگوں کے نصیب میں ہے اور ہجر کی صعوبت کروڑوں عوام کا مقدر۔ خدمت کے نعرے لگانے والوں کو دنیا کے جس مرضی کونے میں لے جائیں جتنے مرضی انصاف و قانون کے لیکچر یاد کرا دیے جائیں۔

یہ اپنی کر گزرنے سے تو باز آنے سے رہے۔ بورس جانسن سے تو ویسے بھی ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ اس لیے ان کی مضبوط جمہوری روایات کو سیکھنے اور اپنانے کی کیا ضرورت ہے۔ غور طلب یہ بھی کہ عدم برداشت ہی نہیں سیاسی طور پر عدم استحکام بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کو نظر انداز کرنے میں اہم لوگوں کی اکثریت موجود ہے۔ نفرت کے اس اندھے طوفان کے آگے بند باندھنے والا کوئی نہیں۔ دلیل کی موت واقع ہو چکی اور بحث و مباحثے جیسے مثبت رجحان سے معاشرہ عاری ہو چکا۔ تعلیمی اداروں کی ادبی محفلوں سکڑ کر رہ گئیں۔

یہ گلی تو اقتدار کی گلی ہے اور حکمرانوں کی بستی۔ جہاں عوام محض تماشائی ہیں مگر یہاں جب ”یار لوگ“ پہنچے تو وہ ایک ہوئے۔

Latest posts by ڈاکٹر عثمان غنی، میرپور (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments