لوگ ملک سے بھاگنے کے چکر میں کیوں ہیں؟


کسی بھی ملک کی ترقی اور اس کے روشن مستقبل کے لیے وہاں کی نوجوان نسل کے کردار کو ہمیشہ سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے اور اگر اسی فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ملکی حالات کی جانب نظر دوڑائی جائے تو صورتحال مخدوش نظر آتی ہے۔ اگر آپ بطور سروے دس سے پندرہ نوجوانوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھیں تو ان میں ستر سے اسی فیصد اس ملک سے بھاگنے کے لیے کسی موقع کی تلاش میں ہیں۔ میں بذات خود اس چیز کو نوٹ کرتا رہتا ہوں۔

بہت عرصے سے سوچ تھی کہ ذہن میں کلبلاتے خیالات کو الفاظ کی شکل دوں لیکن جو واقعہ یہ چند سطور لکھنے کا محرک بنا وہ یہ کہ کل میرے پاس فلیٹ پر ایک دوست آیا ہوا تھا۔ یونیورسٹی میں سمیسٹر مڈز چل رہے ہیں تو ارادہ تھا کہ مل کر تیاری کریں گے ہم ابھی بیٹھے ہی تھے کہ اس کے کسی عزیز کی کال آ گئی اور وہ باتوں میں مشغول ہو گیا۔ گفتگو کا مرکزی خیال یہ تھا کہ وہ اپنے اس عزیز سے امریکہ جانے کی کوششوں کا تذکرہ کر رہا تھا جہاں اس کی ایک سٹور میں نوکری پکی ہونے کے چانسز تھے ( وہ سٹور بھی اس دوست کے وہاں عرصے سے سیٹلڈ ایک رشتہ دار کا ہے ) اور وہ اس کے لیے پچاس لاکھ تک لگانے کو بھی تیار تھا۔

آگاہ کرتا جاؤں کہ اس دوست کے والد صاحب کا گوجرانوالا میں سکریپ کا بہت اچھا چلتا کاروبار ہے۔ کال کے خاتمے پر میں نے سرسری اس سے ڈگری اور اس ملک میں نہ رہنے کے بارے میں پوچھا تو آگے سے اس نے وہی روایتی رونے روئے جن میں کافی حد تک صداقت بھی ہے کہ اس ملک میں ہم جیسے عام لوگوں کے لیے ہے ہی کیا؟ انصاف، سیکورٹی، سہولیات، آزادی اظہار رائے وغیرہ کچھ بھی نہیں۔ حالات ایسے کہ آپ چلتے کاروبار پر بھروسا نہیں کر سکتے کہ کب تک چلتا ہے۔

یہ باتیں اور دلائل ایسے نہیں ہوتے جن کو آپ محض جذباتی اور کھوکھلے الفاظ سے کاؤنٹر کر سکو۔ مندرجہ بالا واقعے کو صرف بطور مثال ذکر کیا ورنہ یہی باتیں اور ملتے جلتے دلائل آپ کو یونیورسٹی، محلہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غرض ہر جگہ نوجوانوں سے سننے کو مل جاتے ہیں کہ ادھیڑ عمر اور بوڑھے تو اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزار چکے اور حالات سے سمجھوتا کرنا سیکھ چکے ہیں۔ ملک کے پالیسی سازوں نے پتہ نہیں کون سی سمت طے کی ہے اس ملک کے لے سمجھ سے باہر ہے۔

غیر تعلیم یافتہ افراد کی نسبت تعلیم و ڈگری یافتہ لوگ جو کسی بھی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتے ہیں ملک سے بھاگنے کی زیادہ کوشش میں ہیں کہ ان کے پاس مواقع اور ذرائع نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں نوکریوں کے فقدان کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد فری لانسگ کی جانب متوجہ ہوئی تھی اب ان کے لیے بھی حالات کو مشکل سے مشکل تر بنایا جا رہا ہے میں اگر شخصی رائے کا اظہار کروں تو باوجود اس ملک سے شدید قسم کے جذباتی لگاؤ ( وجوہات طویل ہیں ) کے حالات کا دھارا دیکھ کر کبھی کبھار دل چاہتا ہے کسی طرح بھاگ لوں۔

خود سے سوال کرتا ہوں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ( کہ اس سے زیادہ کی اوقات نظر نہیں آتی ) کہ خدا نخواستہ اگر ملک اپنی بقاء و سالمیت کھو دیتا ہے تو پالیسی ساز افراد اور ادارے جو اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کے حصول کی خاطر ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں اپنے تخت ہوا میں لگائیں گے؟ کیڑوں کی طرح روندنے اور ذلیل کرنے کو عوام کہاں سے لائیں گے؟ انہی سے درخواست گزار ہوں کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں عقل کی دوا کھائیں اور اپنے قیمتی اوقات میں سے کچھ وقت نکال کر اس ملک کے بارے میں بھی سوچ لیں اللہ آپ کا بھلا کرے


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

حافظ عبدالوہاب، ساہیوال کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments