ممنوعہ فنڈنگ: سوالات ختم نہیں ہوں گے


ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کو اس بنیاد پر کہ اپنے بیٹے کی کمپنی سے قابل حصول رقم، جو حاصل نہیں کی گئی اپنے گوشواروں میں ڈکلیئر نہیں کی نہ صرف تا حیات نا اہل کر دیا گیا بلکہ اس جماعت کے امیدواروں کو سینیٹ الیکشن کے موقع پر انتخابی نشان استعمال کرنے تک سے روک دیا گیا۔ دوسری جانب اسی عرصے میں ایک اور سیاسی جماعت کے سربراہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے صادق اور امین کا لقب عطا کر دیا گیا حالانکہ اس وقت بھی الیکشن کمیشن میں اس جماعت کا فارن فنڈنگ کیس کئی سالوں سے پینڈنگ پڑا تھا اور اس کے بانی ارکان میں سے ایک اکبر ایس بابر انصاف کے حصول کے لیے دھکے کھا رہے تھے۔

پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر نے 2014 میں الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس دائر کیا تھا اور الزام لگایا تھا کہ تحریک انصاف نے غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے ہیں اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ”ہنڈی“ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے تحریک انصاف ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی تھی۔ حالانکہ الیکشن کمیشن قوانین کے مطابق کسی سیاسی جماعت کو غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔

آئین اور قانون اس بارے میں بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت کسی غیر ملکی شخص، غیر ملکی ٹریڈ کمپنی، حکومت یا ادارے سے فنڈنگ نہیں لے سکتی۔ کسی سیاسی جماعت کا غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنا آئین و قانون کی صریحا خلاف ورزی کے علاوہ براہ راست ریاست کی سلامتی کے لیے بھی خطرناک تھا اور اس کی فوراً تحقیق لازم تھی۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس کے باوجود تمام ریاستی ادارے تحریک انصاف کے جرائم سے منہ موڑ کر بیٹھے رہے اور یہ کیس ہمارے نظام عدل کا دہرا معیار بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے۔

رواں ہفتے برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ سے بھی اکبر ایس بابر کے الزامات کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2013 ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی انتخابی مہم کا بڑا حصہ غیر ملکی ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی نے فراہم کیا اور یہ رقم فلاحی مقاصد کے لئے مختلف ذرائع سے غیر قانونی طریقوں سے حاصل کر کے ابراج گروپ نے پی ٹی آئی کو منتقل کی۔ یہ حساس معلومات عارف نقوی کی ملکیت ووٹن کلب کی ای میلز اور اندرونی دستاویزات سے حاصل کی گئی ہیں۔

ان دستاویزات کے مطابق مختلف کمپنیوں اور شخصیات نے مجموعی طور پر 33 لاکھ ڈالرز کے فنڈز دیے۔ عارف نقوی نے نہ صرف 3 ملین ڈالرز پی ٹی آئی کو فراہم کیے بلکہ مختلف غیر ملکی شخصیات جن میں بھارتی اور اسرائیلی بزنس مین بھی شامل تھے، سے 22 ملین ڈالرز اکٹھے کر کے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں منتقل کیے۔ اس طرح عارف نقوی نے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 25 ملین ڈالرز منتقل کیے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی نے چیریٹی کے نام پر غیر ملکیوں سے فنڈز وصول کرتے ہوئے انہیں یہ تاثر دیا کہ یہ فنڈز شوکت خانم ہسپتال کے لئے جمع کیے جا رہے ہیں لیکن بعد میں ان فنڈز کو پی ٹی آئی نے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

ان الزامات کو تحریک انصاف اس لیے بھی نہیں جھٹلا سکتی کیونکہ ماضی میں عمران خان کئی بار اعتراف کر چکے ہیں کہ عارف نقوی ان کے قریبی دوست تھے اور ان کا ابراج گروپ پی ٹی آئی کی فنڈنگ کا بڑا ذریعہ تھا۔ ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن بھی کھل کر بتا چکے ہیں کہ کس طرح عمران خان نے انہیں عارف نقوی کی مدد کے لیے ہدایت دی تھی۔ عارف نقوی کو جب لندن میں گرفتار کیا گیا اور برطانوی تفتیشی حکام نے ان سے دریافت کیا کہ کس سے رابطہ کیا جائے تو عارف نقوی نے وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت عارف علوی کے نمبرز دیے تھے۔

واضح رہے کہ سائمن کلارک اور فنانشل ٹائمز کے انکشافات 4 مہینوں کی بینک اسٹیٹمنٹ اور ای میلز کے ریکارڈ پر مبنی ہیں۔ جبکہ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس ابراج گروپ کے 2010 ء سے 2017 ء میں دیوالیہ ہونے تک کی تفصیلات موجود ہیں اور امریکی تحقیقات میں ثابت ہو چکا ہے کہ عارف نقوی نے ابراج گروپ کے فنڈز میں غبن کیا اور یہ رقم عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت تحریک انصاف کو دی گئی۔ شاید اسی لیے حفظ ما تقدم کے طور پر عمران خان نے امریکی سازش کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کی کرپشن، منی لانڈرنگ اور غلط بیانی پر مبنی جھوٹے بیان حلفی جمع کرانے جیسے جرائم کی تفصیلات ایک غیر ملکی صحافی نے حاصل کر لیں ہمارے ادارے آٹھ سال سے اس متعلق بے خبر تھے؟ اکبر ایس بابر الیکشن کمیشن کو کئی سال قبل تفصیلات فراہم کر چکے تھے کہ کس طرح تحریک انصاف کو مشرق وسطیٰ کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جاپان، سنگاپور، ہانگ کانگ، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ سمیت دیگر ممالک سے بھی فنڈز موصول ہو رہے ہیں اور عمران خان پی ٹی آئی کے چھپائے گئے اکاؤنٹس اور پیسوں کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔

اس کے علاوہ بھی جو اکاؤنٹس چھپائے جا رہے تھے یقیناً ان کی تفصیلات بھی اداروں کے پاس موجود ہوں گی۔ خود الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کے مطابق جب تحریک انصاف کی طرف سے مکمل ڈیٹا تک رسائی نہیں دی گئی تو پھر کمیٹی نے الیکشن کمیشن کی اجازت سے اسٹیٹ بینک اور پاکستان کے دیگر بینکوں سے 2009 سے 2013 کا ریکارڈ حاصل کیا گیا جس کے بعد تحریک انصاف کے اکاؤنٹس سے متعلق رپورٹ مرتب کی گئی۔ اس قدر مضبوط شواہد کے باوجود آٹھ سال یہ کیس لٹکتا رہا اور میرے خیال میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی۔

ہو سکتا ہے تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر کا سبب منصفانہ ٹرائل کا حق دینا ہو۔ یہ سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود رہے گا کہ کسی اور جماعت کو یہ سہولت کیوں نہیں ملی اور ایک جماعت کے کیس میں نگران جج بٹھا کر خاص مدت کے دوران سزا سنانا قانون کی حکمرانی کے لیے لازم تھا تو تحریک انصاف کے کیس میں یہ ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی؟ یہ جواب جب تک نہیں ملیں گے نظام عدل پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments