برطانیہ کے ہوٹلوں میں مقیم افغان پناہ گزین جو ایک سال بعد بھی گھر اور امید کے منتظر ہیں

لوسی میننگ - بی بی سی نیوز


برہان اور ان کا خاندان
برہان اور ان کا خاندان
چھ سالہ سپہر وشال کھڑکی سے چہرہ چپکائے گاڑیاں گنتے ہوئے یہ بھی گِن رہے تھے کہ وہ کتنے دن بعد ہیتھرو میں اس ہوٹل سے باہر نکل سکیں گے جہاں اُن کو رکھا گیا تھا۔

یہ گذشتہ سال اگست کی بات ہے جب وہ اپنے والد برہان اور اپنی والدہ نارکس کے ساتھ افغانستان سے اس وقت برطانیہ آئے تھے جب طالبان نے ملک پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ خاندان خود کو خوش قسمت سمجھتا ہے۔

بی بی سی نے اُن کے اِس سفر کو قریب سے دیکھا ہے: کابل میں اس وقت سے جب برطانوی فوج کے لیے ترجمان کا کام کرنے والے برہان اپیل کر رہے تھے کہ اُن کو افغانستان میں نہ چھوڑ دیا جائے سے ایئر پورٹ پر تمام تر خطرات میں اپنے کاغذات لہرانے سے بحفاظت برطانیہ آمد تک کا سفر۔

ان تمام رپورٹس کو سکاٹ لینڈ کے شہر ایبرڈین میں ہیلگا مکفارلین دیکھ رہی تھیں جو ان کی بے بسی سے اتنی متاثر ہوئیں کہ انھوں نے اس خاندان کو اپنے شہر میں ایک فلیٹ کی پیشکش کی جہاں وہ اپنی زندگی کا از سر نو آغاز کر سکتے تھے۔

رواں ہفتے، برطانیہ آمد کے تقریباً ایک سال بعد، ہم ان سے ملاقات کے لیے ایبرڈین شہر گئے۔

برہان کہتے ہیں کہ ’میں اسے مواقع کا شہر کہتا ہوں۔‘

گرینائٹ کے اس شہر نے ان کا گرمجوشی سے استقبال کیا ہے۔ برہان کو سکیورٹی کی نوکری مل چکی ہے اور نارکس انگریزی سیکھ رہی ہیں۔ ان کو امید ہے کہ وہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے اپنی طبی صلاحیتیں اپنی نئی کمیونٹی میں استعمال کر سکیں گی۔

جب ہماری سپہر سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی تو اسے انگریزی نہیں آتی تھی۔ اس بار جب میں نے اس سے سوال کیا کہ اس کو ایبرڈین آ کر کیسا لگا تو اس کا جواب تھا ’اچھا لگا۔‘

لیکن ان کے لہجے میں سکاٹش آمیزش سے واضح ہو رہا ہے کہ ان کی تربیت شروع ہو چکی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں بلکل انگریزی نہیں بول پاتا تھا۔ اب میری انگلش بہتر ہو گئی ہے اور میں اتنا بول سکتا ہو جبکہ میں فارسی کچھ کچھ بھول رہا ہوں۔‘

وہ فخر سے بتاتے ہیں کہ انھوں نے سکول میں کیا پڑھا ہے۔ ’مجھے انسانی دماغ کے بارے میں پڑھایا گیا، اور اس کے سیریبیلم کے بارے میں جو جسم کو کنٹرول کرتا ہے۔‘

یوکرین سے آنے والے پناہ گزینوں کی طرح وشال خاندان کو بھی مالی امداد ملی ہے۔ ہیلگا نے ان کو صرف رہنے کی جگہ ہی نہیں دی بلکہ اچھے مشورے بھی فراہم کیے۔ سب افغان پناہ گزین اتنے خوش قسمت نہیں ہیں اور برہان جانتے ہیں کہ اس مدد نے ان کی زندگی کتنی آسان کر دی ہے۔

’میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اپنے دوستوں میں سب سے خوش قسمت ہوں۔ ان ہزاروں لوگوں میں سے جنھوں نے افغانستان چھوڑا، میں اپنے ارد گرد موجود مخیر لوگوں کی مدد سے اب اچھی طرح رہ رہا ہوں۔‘

’میں ناامید ہوں‘

عبد الولی شلگری

عبد الولی شلگری

گذشتہ سال جب برطانیہ نے افغان شہریوں کو بسانے کے منصوبے کا آغاز کیا تو اُن کو محفوظ جگہ دینے کا وعدہ تو کیا گیا لیکن استحکام نہیں دیا جا سکا۔

اس وقت تقریباً دس ہزار افغان شہری ہوٹلوں میں قیام پذیر ہیں اور ان کی رہائش پر روزانہ کی بنیاد پر ایک ملین پاونڈ خرچ کیے جا رہے ہیں۔

یوکرین سے آنے والوں کے برخلاف افغان پناہ گزینوں کو سرکاری سپانسرز میسر نہیں جو مقامی آبادی میں ان کو شامل کرنے میں مدد کر سکیں۔ وہ اپنے خاندان کے دیگر اراکین کو بھی برطانیہ نہیں لا سکتے۔

کاروباری شخصیت عبد الولی شلگری اپنے چھ بچوں کے ساتھ مغربی سسیکس کے ایک ہوٹل میں رہ رہے ہیں۔ ان کے بچے سکول جاتے ہیں لیکن ہر دن اسی عارضی رہائش گاہ واپس لوٹتے ہیں۔ انھوں نے ایسی زندگی نہیں سوچی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں ناامید ہو چکا ہوں۔ ہوٹل ایسی جگہ نہیں جہاں طویل عرصے رہا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ معاملہ ایک سے دو ماہ میں حل ہو جائے گا لیکن اب ایک سال ہو چکا ہے۔‘

ان کا ہوٹل انڈین کھانا فراہم کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کھانا افغان خوراک سے زیادہ مصالحے دار ہوتا ہے اور بچوں کے لیے اسے کھانا دشوار ہوتا ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ پریشان ہیں کہ اس طرح کیسے چلے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’تمہارے لیے ایک ہی گولی کافی ہو گی، تم جاتی ہو یا میں گولی چلا دوں‘

’پاکستان میں بجلی کا بل نہیں دے سکتا، اس لیے افغانستان واپس جا رہا ہوں‘

برطانیہ نے کتنے افغان پناہ گزینوں کو آباد کرنے کا وعدہ پورا کیا؟

’میرے آنسو نہیں رکتے‘

مروا کوفی

مروا کوفی اپنی والدہ مریم کوفی کے ساتھ

برطانیہ آنے والے زیادہ تر افغان ایک جانب جہاں بہت شکر گزار ہیں وہیں وہ محسوس کرتے ہیں کہ بیوروکریسی نے ان کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔

مروا کوفی اپنے بھائیوں اور ایک بہن کے خاندان کے ساتھ یارک شائر کے ہوٹل میں رہ رہی تھیں۔ انھوں نے اس لیے افغانستان سے راہ فرار اختیار کی تھی کیونکہ اُن کی سیاست دان والدہ کو طالبان نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ تاہم برطانیہ میں اس عارضی رہائش گاہ سے اُن کو نکلنا پڑا۔

مروا کہتی ہیں کہ وہ لندن اس لیے آ گئی تھیں کیوں کہ ان کو اگلے ماہ سے کنگز کالج لندن میں پڑھائی کا آغاز کرنا تھا اور وہ چاہتی تھیں کہ خاندان اکھٹا رہے۔

لیکن ان کو ایک بھائی کے ساتھ مغربی سسیکس کے ہوٹل بھیج دیا گیا جبکہ ان کے باقی بھائی مانچسٹر میں اور بہن لیڈز کے ہوٹل میں رہ رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے لیے اپنے خاندان سے دور رہنا بہت مشکل ہے۔ سچ بتاؤں تو میرے آنسو ہی نہیں رُک پاتے۔‘

برطانوی محکمہ داخلہ، ہوم آفس، کا کہنا ہے کہ ’افغان شہریوں اور خاندانوں کی رہائش ایک پیچیدہ عمل ہے اور ہم مختلف ضروریات رکھنے والے افراد کی مدد کر رہے ہیں۔ ہم اب تک جون 2021 سے سات ہزار افراد کو گھروں میں منتقل کر چکے ہیں اور کچھ کو منتقل کرنے والے ہیں۔‘

اس کے باوجود 10000 افغان پناہ گزین اب بھی ہوٹلوں میں موجود ہیں۔

ان کو اپنی سرزمین سے نکلے ہوئے ایک سال ہو چکا ہے لیکن اب تک ان کو گھر نہیں مل سکا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25940 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments