سیلابی تباہ کاریوں میں پھوٹتی بیماریاں


سیلاب دنیا بھر کے لئے ایک قدرتی آفت ہے ہر سال لاکھوں افراد اس کی تباہ کاریوں کے نظر ہو جاتے ہیں۔ بارش کو باران رحمت تصور کیا جاتا ہے لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب ضرورت سے زیادہ بارشیں اس وقت وبال جان بن جاتی ہیں جب دنیا کے جدید ممالک میں بھی اس سے نمٹنے کے لیے کوئی خاطر خواہ میکانزم موجود نہ ہو۔ پاکستان میں بھی ہر دو ، تین سال بعد سیلاب کے پیش نظر تباہی دیکھنے کو ملتی ہے باوجود اس کے ملک میں کوئی بھی حکومت کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکی جس کو استعمال کرتے ہوئے سیلابی آفات سے بچا سکے۔

رواں برس میں بھی پاکستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے مون سون سے قبل معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشن گوئی کر دی تھی لیکن متعلقہ ادارے حرکت میں نہی آئے۔ مون سون شروع ہوتے ہی شدید بارشوں نے بلوچستان، جنوبی پنجاب اور سندھ میں سیلاب نے تباہی مچا دی۔ بلوچستان میں ژوب، لسبیلہ، خضدار، زیارت، سبی، قلات، کوئٹہ، لورالائی، بارکھان اور موسی خیل میں شدید بارشوں سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ ان علاقوں میں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر 13 ہزار سے زائد مکانات، 670 کلومیٹر پر مشتمل 6 شاہراہیں بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں جبکہ ایک لاکھ ایکڑ سے زائد زمینوں پر فصلیں تباہ ہو گئیں۔

دوسری طرف پنجاب میں راجن پور اور ڈی جی خان سمیت اندورن سندھ اور کراچی سمیت بیشتر علاقوں میں بھی بارشی پانی نے تباہی مچا رکھی ہے اور ہزاروں افراد مختلف حادثات کے باعث موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ان متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر نے کے لئے انتظامیہ کو متحرک رہنے کی تلقین تو کی اور جاں بحق ہونے والوں والوں کے لواحقین کے لیے دس لاکھ دینے کا اعلان بھی کیا لیکن سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جہاں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت، پینے کی صاف پانی کی قلت پیدا ہو رہی ہے وہاں اس کے ساتھ صحت پر بھی بڑے پیمانے پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ڈوبنے جیسے فوری خطرات کے علاوہ، سیلاب کچھ متعدی بیماریوں کی منتقلی کا بھی سبب بنتا جا رہا ہے اور بہت سی وبائی امراض پھوٹنا شروع ہو رہی ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں معدے اور سانس کے انفیکشن کی بیماریاں جلدی پھیلتی ہیں جو قدرتی آفات سے بے گھر ہونے والے لوگوں میں بیماریوں اور موت کی بڑی وجہ ہیں۔ سیلاب نے سپلائی کے نظام اور پانی کے ذرائع کو منفی طور پر متاثر کر دیا ہے، فضلے کو ٹھکانے لگانے کے نظام اور سیوریج کے نظام کو بھی درہم بھرم کر دیا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں وائرل انفیکشن کا خطرہ بھی صحت کا ایک اہم مسئلہ بن رہا ہے اور سیلاب کے بعد ہفتوں کے دوران متعدی امراض کی مختلف اقسام پھیل رہی ہیں۔ خاص طور پر پانی سے پیدا ہونے والے انفیکشن، جیسے اسہال کی بیماریاں، ہیپاٹائٹس اے اور ای، پیلا بخار، ویسٹ نیل فیور (WNF) اور مچھروں کی بھرمار کی وجہ سے ڈینگی بخار، ملیریا اور ہوا سے پیدا ہونے والے انفیکشن جس کے سبب سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور جانور بھی بڑی حد تک متاثر ہو رہے ہیں۔

وزیراعظم جہاں لوگوں کو ضروریات زندگی کی اشیاء فراہم کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں وہاں انہیں صحت کے ان خطرات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ وزیر صحت، ہیلتھ سیکرٹری اور ہسپتالوں کو ہدایات جاری کرنی چاہیے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سینیئر ڈاکٹرز پر مشتمل پیڑا میڈیکل سٹاف متعین کرے اور لوگوں کی آگاہی کے لیے بھی ٹیمیں تشکیل دے تاکہ بیماریوں سے متعلق تمام ضروری معلومات اور ان سے حفاظت کے طریقہ کار متاثرہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ یہ پھوٹتی بیماریاں قدرتی آفت میں سے جنم لیتی ایک نئی آفت ہے جس کے لیے وفاقی و صوبائی ادارہ صحت اور نجی ویلفیئر تنظیموں کو ابھی سے متحرک ہونا ہو گا۔ خطرے کو بھانپ لینے کے بعد یا اس کے ظاہر ہونے کے بعد فوراً اس سے بچاؤ کے لئے اقدام کرنا ہی دانشمندی کی نشانی اور بہترین حکومتی حکمت عملی ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS