آصفہ بھٹو زرداری


جیالوں کی پارٹی سے مخلصی اس بات سے واضح ہو جاتی ہے کہ وہ آصفہ بھٹو زرداری کو کس عہدے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

میں بطور جدی پشتی جیالا ہونے کے ناتے چاہتا ہوں کہ جس طرح محترمہ شہید نے عورتوں کے لئے جدوجہد کی، جس طرح بیگم نصرت بھٹو صاحبہ نے عورتوں کے لئے جدوجہد کی اور پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر رہیں اور اس عہدے کے بعد عورتوں سے میل جول کو مزید بڑھایا اور ایک کامیاب تحریک چلائی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو عورتوں کا ووٹ ہمیشہ زیادہ تعداد میں ملا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی ترقی و خوشحالی کے لئے عورتوں کا بھی الگ حصہ ہے جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

بڑے بڑے خاندانوں کی عورتیں ہوں یا چھوٹے گھرانے کی ہر کسی نے پارٹی کے لئے دن رات محنت کی اور ان کی یہ محنت اپنے کسی مقاصد کے لئے نہیں صرف اور صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے آنے والی نسلوں کے لئے، آنے والی لڑکیوں و عورتوں کے لئے تھی جن کو معاشرے میں تنگ نظر سے دیکھا جاتا اور ان کی ترقی کے لئے راستے بند کیے جاتے۔ کیونکہ پاکستان پیپلز پارٹی عورتوں کے حقوق کی مکمل ضامن ہے جس کی مثالیں آپ کو لا تعداد میں دیکھنے کو سننے کو اور پڑھنے پر نظر آئیں گی۔

چاہے وہ فسٹ ویمن بنک کا انعقاد ہو یا عورتوں کو سرکاری سطح پر نوکریاں فراہم کرنا ہو یا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر جگہ عورتوں کو آزادی رائے کا مکمل حق دیا۔ اس طرح فریال تالپور جو پارٹی میں اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں ان کو بھی اب آنے والے وقت کے لئے پارٹی اور عورتوں کو لیڈ کرنے کے لئے کچھ ہنگامی فیصلے کرنے چاہیئے جس سے آنے والے وقت میں پارٹی کی مضبوطی میں اضافہ ہو۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سرکاری عہدے پر اپنی ڈیوٹی سرانجام دینے کے بعد پارٹی معاملات کو کم وقت دے پا رہے ہیں اس لیے کچھ جیالے ہر وقت آصفہ بھٹو صاحبہ کو دعوت دینے میں مشغول رہتے ہیں لیکن ان لوگوں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ان کے سیاسی میدان میں آنے کے بعد ان کی تیاری کیا ہے؟ اس لیے جو بھی جیالا سیاست کی باریکیوں کو سمجھنے کی اہلیت رکھتا ہے وہ آصفہ بھٹو زرداری کو اپنے درمیان دیکھنا چاہتا ہے لیکن باقاعدہ ایک طریقہ سے۔

میرے خیال سے وقت کو ضائع کیے بنا پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری صاحب کو آصفہ بھٹو زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کا صدر بنا دینا چاہیئے۔ ان کو مکمل اختیارات دیے جائیں اور ہر بڑے شہر میں ان کا سیاسی آفس موجود ہو جہاں پر وہ بیٹھ کر سیاست کے لئے اپنی خدمات انجام دیں۔ ان کے عہدے پر آنے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی میں باقاعدہ ایک نئی راہ پر چل نکلے گی۔

کیونکہ بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بچپن سے ہی اپنی والدہ اور والدہ کی وجہ سے سیاست میں دلچسپی رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے طور طریقوں سے واقف رہ چکے ہیں۔ محترمہ شہید نے جس طرح عوامی ہونے کا ثبوت دیا وہ سب کوالٹی آصفہ بھٹو زرداری میں موجود ہیں۔ اگر ان کو پاکستان پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کا صدر بنا دیا جاتا ہے تو پارٹی یا پارٹی سے باہر موجود عورتوں کے لئے ترقی کی ایک نئی راہ روشن ہو گی۔

جئے بلاول بھٹو جئے بینظیر


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments